رمضان کے مہینے میں عوام شدید مشکلات سے دوچار۔ انتظامیہ کی بے حسی سے لوگ بجلی، پانی، و دیگر سہولیات سے محروم ۔

چترال(گل حماد فاروقی) رمضان اگرچہ رحمتوں اور مہربانیوں کا مہینہ ہے مگر چترال میں رمضان نہایت مشکل سے گزر رہی ہے۔ مسلسل تیرہ گھنٹے لاؤڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کردیا۔ نہ صرف گھریلوں صارفین شدید گرمی میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں بلکہ کاروباری طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔
مسلسل لاؤڈ شیڈنگ کی وجہ سے چترا ل میں فریج اور ریفریجریٹر میں برف بھی نہیں بنتی نہ یہاں کوئی برف کا کارحانہ ہے تاہم اللہ کی طرف سے لوگوں کیلے قدرتی برف کی شکل میں ایک عطیہ ہے جسے لوگ پانی ٹھنڈا کرنے اور شربت میں استعمال کرتے ہیں۔
چترال بازار میں درزی طبقہ بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔ ایک مقامی درزی جو کوئلے کی استری سے کپڑے پریس کر رہے تھے نے بتایا کہ بارہ سے تیرہ گھنٹے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کاروبار پر نہایت برے اثرات پڑ رہے ہیں ۔ لوگ عید کیلئے نئے کپڑے سینا چاہتے ہیں جبکہ حالت یہ ہے کہ ہم لوگوں سے کپڑے لیتے ہی نہیں ہیں کیونکہ ان کے ہم کیسے سلائے ۔
عوام کو شکایت ہے ک رمضان میں آشیائے خوردنوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ایک مقامی شحص نے کہا کہ وہ بازار میں گوشت لینا چاہتا تھا مگر قصائیوں نے گوشت چھپا یا ہے اور بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کررہے ہیں۔ جبکہ مرغی کی قیمت بھی عام مارکیٹ کے نسبت سو روپے زیادہ ہے۔
تاہم ایڈیشنل اسسٹٹ کمشنر سید مظہر علی شاہ کے خدمات نہایت قابل ستائش ہیں جو عوام کے شکایت پر فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے گراں فروش دکانداروں پر جرمانہ لگاتے ہیں۔
چترال کے عوام صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال میں رمضان کے بابرکت مہینے میں طویل لاؤڈ شیڈنگ کا سلسلہ حتم کیا جائے اور انتظامیہ کو ہدایت کرے کہ وہ بازار کا باقاعدگی سے معائنہ کرکے گراں فروشوں کے حلاف کاروائی کرے۔ عوام یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ 33 کروڑ کی لاگت سے بننے والی گولین واٹر سپلائی سکیم جو افتتاح کے دوسرے دن اس کے پائپ پھٹ کر ناکارہ ہوئے محکمہ پبلک ہیلتھ کے حلاف انکوائری کی جائے اور سینگور ، بلچ، شاہ میران دیہات میں عوام کو پینے کی پانی فوری فراہم کی جائے کیونکہ یہاں کے لوگ پچھلے ایک ماہ سے پینے کی پانی سے محروم ہیں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *