غزہ میں اسرائیل کی بربریت

Untitledجب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا ہوں اطلاع کے مطابق آٹھ سوسے زائد فلسطینی اسرائیلی بربریت کا شکار ہو چکے ہیں۔۔اور نہ جانے اس کالم کے چھپنے تک یا اگلے تین چارگھنٹوں میں کتنی اور انسانی جانیں فلسطین میں صہونی طاقت کے نیچے سسکتی اور تڑپتی ہویء جان دے چکے ہونگے ۔۔ا ور دنیا اسلام کے حکمرانوں کی طر ف دیکھا جاےٗ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہیں سانپ سونگھ گیا ہو۔ مجال ہے کہ ایک لفظ بھی اس بر بریت کے خلاف کسی مسلم حکمران نے بو لا ہو ۔فلسطین کے مظلوم اورنہتے لوگوں پر اسرائیل جو مظالم ماضی میں ڈھاتا رہا ہے اسکے خلاف سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر بولنے والا اسلامی ملک ایران ہے۔ لیکن اس دفعہ ایران کے لہجے میں بھی وہ ولولہ اور جذبہ اور جوش وخروش دیکھنے کو نہیں ملا جو وہ ماضی میں فلسطینوں کی حمایت میں کرتا چلاآ رہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اب ایران بھی ان اسلامی ممالک کی صف میں کھڑا ہوگیا ہے جس کو جب سانپ سونگھتا ہے تو ان کی سٹی گم ہو جاتی ہے۔۔۔اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں میں اس طرف نہیں جانا چاہتا کیو نکہ اس وقت یہ میرا موضوع بحث نہیں ۔۔کتنی ستم ظریفی ہے کہ فلسطینیوں پر بر بریت کے خلاف جو ٓواز اس دفعہ سب سے پہلے ابھری وہ غیر مسلم ممالک سے اٹھی جنہوں نے انسانیت کے ناطے مطلوم فلسطینوں کے حق میں اور اسرائیل کی بر بریت کے خلا�آواز بلند کیا شاید یہ وجہ تھی اس کے دیکھا دیکھی یا شرم کے مارے مسلم ممالک میں بھی دھیمے سے لہجے مین مزاحمتی بیانات آنے شروع ہوگےٗ۔ عالم اسلا م کی اسرائیل کی اس سفاکانہ کاروایء پر مجرمانہ خاموشی سمجھ سے بالا تر نہیں بلکہ ایک دم سے اور آسانی کے ساتھ سمجھ میں آنے والی اور سادہ سی بات ہے ۔اس سارے منظر کو سمجھنے کے لے ہمیں بنی اسرائیل کی قوم اور موجودہ عرب ممالک کے حکمرانوں کا طرز زندگی کے بارے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔۔اللہ کا کلام قران مجید میں ایک سورہ ہے بنی اسرائیل کی ٓیات ۴ تا ۸ میں اللہ فرماتا ہے کہ اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب توریت اور دیگر انبیا کے صحیفوں کے ذریعے بتلادی تھی کہ تم سرزمین( شام) میں دو مرتبہ خرابی کروگے اور دوسروں پر بھی بڑا زور چلانے لگو گے اوراسی طرح سے مختلف واقعات کا ذکر کیا گیا ہے ان آ یات سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعا لی نے بنی اسرائیل یہ فیصلہ فرمادیا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرینگے دین و دنیا میں فائز المرام اور کامیاب رہنگے اور جب کبھی دین سے انحراف کرینگے ذلیل خوار کےٗ جاوینگے اور دشمنوں اور کافروں کے ہاتھوں ان پر مار ڈالی جائیگی اور صرف یہی نہیں کہ دشمن ان پہ غالب ہوکر انکی جان و ما ل کو نقصان پہنچائینگے بلکہ ان کے ساتھ ان کا قبلہ جو بیت المقدس ہے وہ بھی اس دشمن کی زد سے محفوظ نہیں رہیگا ۔۔۔اور ان کے دشمن مسجد بیت المقدس میں گھس کر اس کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کرینگے۔۔۔سورہ بنی اسرائیل میں جن دو بڑے واقعات میں خرابی اور نقصان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک واقعہ تو شریعت موسویہ کے زمانے کا ہے اور دوسرا شریعت عیسویہ کے زمانے کا ان دونوں میں بنی اسرائیل نے اپنے وقت کی شریعت الٰہتہ سے سے انحراف کر کے سرکشی اختیار کی تو پہلے واقعہ میں ایک مجوسی کافر بادشاہ کو ان کے اوپر اور بیت المقدس پر مسلط کر دیا گیا جس نے تباہی مچا دی اوردوسرے واقعہ میں ایک رومی بادشاہ کو مسلط کیا جس نے ان کو قتل غارت کیا اور بیت المقدس کو منہدم اور ویران کیا اسی کے ساتھ یہ بھی ذکر کر دیا گیا ہے کہ دونوں مرتبہ جب بنی اسرائیل اپنی بد اعمالیوں پر نادم ہو کر تائب ہوےء تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ملک و دولت اور آل و اولاد کو بحال کر دیا ۔۔ان دونوں واقعات کے ذکر کے بعد آخر میں اللہ تعا لی ٰ نے ان معمالات میں اپنا باضابطہ بیان فرما دیا۔۔۔ ترجمہ،، یعنی اگر تم نافرمانی اور سر کشی کی طرف لوٹو گے تو ہم پھر اس طرح کی سزا اور عذاب تم پر لوٹا دینگے یہ ضابطہ قیامت تک کے لےء ہے اور اس کے مخاطب اسوقت کے بنی اسرائیل تھے جو رسول اللہ کے عہد مبارک میں موجود تھے اب تیسرا دور شریعت محمدیہ کا ہے جو قیامت تک چلے گا اس کی مخالفت کرنے کا بھی وہی انجام ہوگا اور چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان لوگوں نے شریعت محمدی اور اسلام کی مخالفت کی تو مسلمانوں کے ہاتھوں جلا وطن اور ذلیل و خوار ہوےء اور بالا آخر انکے قبلہ بیت المقدس پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوا فرق یہ رہا کہ پچھلے بادشاہوں نے ان کو بھی ذلیل و خوار کیا تھا اور ان کے قبلہ بیت المقدس کی بے حرمتی بھی کی تھی لیکن مسلمانوں نے اس کی عظمت اور قبلہ انبیا کا احترام بحال کیا ۔۔۔قران میں جو واقعات درج ہیں اورانکو مسلمانوں کو سنانے اور لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمان بھی اس ضابطہ الہٰہ سے مستنثیٰ نہیں ہیں دنیا و دین میں انکی عزت و شوکت اور مال و دولت اطاعت خدا وندی کے ساتھ وابسطہ ہیں جب وہ اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کرینگے تو ان کے دشمنوں اور کافروں کو ان پر مسلط کردیا جائیگا جنکے ہاتھوں ان کے معاہد و مساجد کی بے حرمتی بھی ہوگی ۔آجکل جو حادثات اور واقعات بیت المقدس کی

زمین پر پیش آرہے ہیں وہ اسی قرانی ارشاد کی تصدیق ہو رہی ہے ۔۔۔مسلمانوں نے خدا اور رسول کو بھلایا آخرت سے غافل ہو کر دنیا کی شان و شوکت میں لگ گےء اور قران و سنت کے ا حکام سے بیگانہ ہوےٗ تو وہ ہی ضابطہ قدرت الہٰہ سامنے آیا کہ کروڑوں عربوں پر چند لاکھ یہودی غالب آگےٗ انہوں نے انکی جان و مال کو بھی نقصان پہنچایا اور شریعت اسلا م کی رو سے دنیا کی تین عظیم الشان مسجدوں میں سے ایک بیت المقدس جو تمام انبیاکا قبلہ رہا ہے وہ ان سے چھین لیا گیا اور ایک ایسی قوم غالب آگیٗی جو دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل و خوار سمجھی جاتی رہی ہے یعنی یہود ۔کیا یہ مسلمانوں کے لےٗ انکی سرکشی کی سزا نہیں ۔۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے ہمارے بداعمالیوں کی سزا کے طور پر ہو رہا ہے اس کا علاج بس یہ ہے کہ مسلمان اپنے بداعمالیوں پر نادم ہوکر سچی توبہ کرین احکا م الہٰہ کی اطاعت میں لگ جائیں مگر افسوس کہ عالم اسلام بالخصوس عرب ممالک کے روش میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں آیا ہے اور ان کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی اور وہ دور جدید کی عیاشیوں اور مغربی ؂ کلچر میں ڈوبے ہوےء ہیں تو دوسری طرف اپنی دانست مین وہ اپنی بادشاہت کو بچانے کی سوچ میں غرق ہیں ۔۔ان کو یہ معلوم نہیں کہ مغرب بظاہر یوں لگتا ہے کہ یورپ اور امریکہ اظہار انسانی حقوق اور مہذب رویوں کے لےء ایک شناخت رکھتے ہیں اور پوری دنیا میں ان کا پرچار بھی کرتے ہیں لیکن تصویر کے دوسرے رخ کی طرف نگاہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی اسلام سے کد رکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس ابھرتی ہویء حقیقت سے پریشان اور بہت خوف زدہ ہیں کہ مغرب میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے ۔۔ان کا گمان یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے بدن سے روح محمد ﷺ نکالدی جاےٗ اور قران حکیم کے بے حرمتی کے واقعات رونما ہوتے رہے تو اسلا م کی پیش قدمی رک بھی سکتی ہے اور بار بار کے جھٹکوں سے مسلمانوں کو بے حس اور بے وقار بھی کیا جاسکتا ہے ۔۔دوسری طرف وہ عا لم اسلام کے قدرتی وسائل پر غاصبانہ قبضے کو اپنی حثیت اور عالمی امن قائم کرنے کے لےٗ ضروری خیال کرتے ہیں ان کی یہ کوشش ہے کہ اسلامی تعلیمات کو وحشیانہ اور خونخوار ثابت کیا جاےٗ یہی کام ایک نےء طریقے سے جدید بنیاد پرست سر انجام دے رہے ہیں ۔۔۔۔اکیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان اور عراق پر تباہ کن میزائلیوں اور بموں کے ساتھ لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلادےء اور انسانی حقوق اور انسانی اقدار کے سارے اعلیٰ تصورات پاش پاش ہوے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔۔اور اسی آزادی اظہار راےٗ کے نا م پر ڈینش صحافی نے سرور دو عالم کے گستاخانہ کارٹون شائع کے ٗ ۔ مغربی تہذیب کے امامت کے دعویدار امریکہ میں ایک ملعون پادری نے قران کا نسخہ سر عام نذر آتش کیا جبکہ انتظامیہ اور عوامی راےء عامہ خاموش رہی ۔۔۔ اور ٓج بارک اوبامہ اسرائیل کے پیچھے کھڑا ہے اور اسرائیل جس بے دردی سے معصوم فلسطیوں کے خون سے فلسطین کی مقدس زمیں کو رنگین کر رہا ہے اس کو دیکھتے ہوے کیا اب بھی کسی شک و شبے کی گنجائیش باقی رہتی ہے؟ کہ یہود اور نصارا مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ۔کیا ایسی حالت میں مغربی تہذیب کے فاسد مادے کا علاج دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ ۔۔۔اور اس فاسد مادے کا ایک ہی علاج ہے کہ امت مسلمہ اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجدوں کو ڈھا دیں اور امتہ واحد بن کر یہودی کی اس یلغار کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔۔۔۔۔ اور اللہ نے یہی وعدہ سورہ بنی اسرائیل
میں کیا ہے کہ اگر ایسا کروگے تو بیت المقدس دوبارہ آپ کے ہاتھ میں ہے اگر نہیں تو اللہ کسی بھی قوم کے ہاتھوں ذلیل کرنے کے موقعے پیدا کرتا ہے۔۔۔۔ تواے مسلمانو تائب ہوکر اللہ سے دوبارہ رجوع کرو اور بقول علامہ اقبال
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لےٗ
نیل کے ساحل سے لیکر تابہ خاک کاشغر

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *