خپلو وا قعہ سا زش یا انتقا م

تحریر : پر ویز میر ( میر کی نظر سے )
unnamedکہا جا تا ہے کہ خپلو میں جب خو با نی کے پھو ل کھلتے ہیں۔ تو وہا ں پر یا ں ا’تر ا’تر کر پھو لو ں کی پنکھڑ یو ں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہیں اور زمین پر گر نے نہیں دیتی۔ ما حو ل میں خو شبو پھیل جا تی ہے جو آ نکھو ں کو تراوت ،دما غ کو فر حت اور دل کو سکو ن دیتا ہے ۔ ایسے ما حو ل میں لو گ چہر ے پر مسکرا ہٹ لئے ایک دوسرے سے طپا ق سے ملتے ہیں ۔ یہا ں کی مہما ن نوا زی اور معا شرتی تعلقا ت مثا لی ہیں۔ اور دوسرے
معا شروں کے لئے مشعل راہ ہے ۔لو گ سا دہ لو ح، ملنسا ر اور جفا کش ہیں ۔ ان کو اپنی روز مرہ ضرورتوں کے حصو ل میں مشقت کے علا وہ کو ئی فر صت ہی نہیں ہو تی ۔ پہا ڑی لو گ ہیں ۔ اپنے ضرور یا ت کے لئے میلو ں پیدل چل کر اپنے مقا صد میں کا میا ب ہو تے ہیں ۔ اور جو وقت بچتا ہے ۔ وہ عبا دت، ریا ضت میں گز ارتے ہیں اور صبح و شا م ’’اوراد‘‘ ذ کر از کا ر میں گز ارتے ہیں ۔ یہا ں پر لو گو ں کی اکثر یت امیر کبیر
سید علی ہمدا نی کے پیروکا روں کی ہیں ۔ سید امیر کبیر کا شما ر اولیا ء کرام میں ہو تا ہے ۔ جنہو ں نے گلگت بلتستان اور چترال تک اسلام کی تبلیغ کی اور وہ اولین مبلغ ہیں جنہو ں نے اس سنگلا خ پہا ڑو ں کو چیر کر دین
تو حید ی کو مشقت جھیل کر ان علا قوں میں پھیلا یا ۔ اور ان کے بعد دیگر مبلغین اسلام نے اس خطہ میں اسلام کی روشنی کو پھیلا نے کا کا م شروع کیا ۔ جس وقت سید امیر کبیر نے اس خطہ میں قدم رکھا ۔ یہا ں پر ہند و مت اور بد ھ مت کے پیروکا روں کا گھڑ ھ تھا ۔ اور ان کی حکو متیں بھی تھیں ۔ ان میں سے بد ھ مت جو کہ کسی حد تک تو حید کے قا ئل ہیں ۔ نے خو ب غو رو خو ض سے امیر کبیر کی دین کی پیا ری پیا ری اور میٹھی میٹھی
با تیں سنی اور وہ متا ثر ہو کر جو ق در جو ق دائر ہ اسلام میں آ نے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے بدھ مت کے پیروکا ر مسلما ن ہو نے لگے ۔ بعد ازا ں عقیدت و احترام میں یہ اپنے کو نو ربخشیہ کہلا نے لگے ۔دین طر یقت و ریا ضت کا یہ سلسلہ سا لہا سال سے جا ری ہے ۔ دعوت صو فیہ۔ فقہ ۃ الا حوات کی تعلیما ت کی روشنی میں پا ک و ہند میں نو ر بخشی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلما ن اپنی عبا دات قا ئم کئے ہو ئے ہیں ۔ کشمیر میں یہ ہمدا نی کہلا تے ہیں ۔ جبکہ تا جکستان اور وسط ایشیا ئی ریا ستو ں میں امیر کبیر سید علی ہمدا نی کے پیرو کا ر ایو بی ذ کر ی کہلا تے ہیں۔ ان سب کا ما خذ یہی دعوت صو فیہ اور فقہۃ الا حوات ہی ہے ۔ طر یقت و ریا ضت بھی ان ہی تعلیما ت کی روشنی میں کر تے ہیں ۔ اور ذ کر و اذ کا ر کا بند ھن بھی اسی پیرا ئے میں محفو ظ ہے ۔اس مسلک کی تعلیما ت میں ایک خا ص بات ہے ۔ کہ تشدد ومنہ درازی کی سختی سے مما نعت ہے ۔ اور اعتکا ف کے دوران یہی تر بیت کا بنیا دی جز ہے۔ کہ عدم کلا می ، یعنی ایسا کلا م جس سے دکھ پہنچنے کا خد شہ ہو ا’س سے بعض رہا جا ئے ۔ یہی ہیں سید علی ہمدا نی کی تعلیما ت کا خا صہ جو شا ئید وقت گز رنے کے ساتھ ساتھ ان کے پیروکا ر یہ فرامو ش کر تے جا رہے ہیں ۔ اور قادری صا حب اور عمران خا ن کی طر ح نیا پا کستان کا ساتھ دیں رہے ہیں ۔ ضلع گا نچھے جہا ں پر گز شتہ تین دہا ئیو ں سے کسی قسم کے قتل کا واقعہ پیش نہیں آ یا ۔یہ ان
بر گذ یدہ ہستیو ں کے تعلیما ت کا ہی نتیجہ ہے ۔ کہ خو ن تو دور کی با ت ہے راقم نے خود دیکھا ہے کہ معصو م بچے کسی کے کھیت کے درمیا ن سے چلتے ہو ئے ڈر تے ہیں کہ یہ گنا ہ کا کا م ہے۔ اور اگر فصل خراب ہو گی تو آ خر ت میں ایک ایک خو شے کا حسا ب دینا ہو گا ۔یہ اقدار ہے سوچ کی۔ یہ ویژن ہے دینی تعلیما ت کی ۔ تو ایسے میں گا نچھے کے ما حو ل میں ایک ہی مسلک کے دو گرو ہوں جو کہ عقیدت کا اظہا ر کر نا چا ہتے ہوں ۔ ان کے درمیا ن جھڑ پ ہو نا ۔ اور پھر پو را خپلو سیل ہو نا حیر ت میں غر ق کر نے کے لئے کا فی ہے ۔ذرا ہم پندرہ بیس سال پیچھے جا تے ہیں ۔ اس مسلک سے تعلق رکھنے والو ں کے ما بین مسلک کے نا م پر جھگڑا شروع ہو ا۔ جس میں ایک فر یق امامیہ نو ربخشیہ کہلا نے پر بضد تھا تو دوسرا صو فیہ نور بخشیہ، آخر کا ر معاہدہ بلغا ر میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلک کا پو رانام اتفا ق رائے سے صو فیہ اما میہ نو ربخشیہ ہو گا ۔ لیکن اس کے بعد کر یس میں معا ہدہ ہوا ، PTDC میں بھی معا ہدہ ہوا ۔ اور اس قسم کے چا ر معا ہدے ہو ئے ۔ لیکن گلگت میں جس طر ح امن معا ہدے ہو تے ہیں اور ان پر عملدر آ مد نہیں ہو تا اسی طر ح خپلو میں بھی معا ہدو ں پر عمل درآ مد نہیں کیا جا تا ۔ اور جس کی وجہ سے اس قسم کے نا خو شگوار وا قعا ت جنم لیتے ہیں ۔لیکن اس قبل ہو نے والے جھگڑو ں کو اتنا الجھا یا نہیں گیا تھا ۔ جتنا کہ خپلو کے حا لیہ وا قعہ کو اچھا لنے کی کو شش کی گئی ہے ۔ اس پو رے واقعے میں پولیس کی کا رکر دگی مشکو ک دیکھا ئی دیتی ہے ۔ چو نکہ اس واقعے کی جڑ ہی پو لیس کو سمجھا جا رہا ہے ۔ بلتستان میں حا لیہ وا قعات میں تما م فریق پولیس کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔ اور خپلو میں اگر مقا می
انتظا میہ برو قت پولیس کے معا ملا ت میں مداخلت نہ کر تی تو یہا ں پر بھی خو ن خر ابے کا خطر ہ مو جو د تھا ۔ لیکن خپلو کی ضلعی انتظا میہ نے پولیس کی بد نیتی کو بھا نپتے ہو ئے بر وقت مدا خلت کی اور پولیس کو اس کے حدود میں رکھا ۔ اور ضلع کو ایک بڑ ے سا نحے سے بچا لیا ۔ جس کے لئے ضلعی انتظا میہ مبا رک با د کی مستحق ہے ۔یہا ں پر یہ با ت بھی قا بل تشویش ہے ۔ کہ کھا نسر والے گروہ نے کس کی ایما ء پر غرا لٹی کے قا فلے پر پتھروں کی یلغا ر کر دی ۔ اس میں ایک بڑ ی سا ز ش کی گئی ہے جسے بے نقا ب کر نا بھی مقا می انتظا میہ کا کا م ہے ۔ اور وہ دو گا ڑ یا ں جو اس وقت وہا ں پر لا ء اینڈ آ رڈر کے لئے متعین کئے گئے تھے ۔ وہ کہا ں اور کس کے کہنے پر ان سنگین حا لات کو کنٹرول کر نے کی بجا ئے وہا ں سے بھا گ گئی ۔ ان تما م واقعات کا با قا عدہ جو ڈ یشل انکو ئر ی کی جا نی چا ہئے۔ ضلع گا نچے ایک پر امن ضلع ہے ۔با رڈر ایر یا ہے۔ اور یہا ں کے لو گ امن پسند ہیں ۔ آ خر ان کو اس فتنے میں دھکیلنے کے کیا مقا سد ہیں ؟ان حقا ئق کا عوام کے سامنے لا نا لا زمی ہے ۔ اور وہ اہلکا ر جن کی ڈیو ٹی اس دوران تھی۔ ان کو لا ئن حا ضر کر کے با قا عدہ ان سب کا بیا ن قلم بند کیا جا ئے ۔اور ان پولیس افسران کا جنہو ں نے گھر میں بیٹھ کر ایک لسٹ تیا ر کی اور دونو ں فر یقوں کے ان افراد کو حراست میں لینے کی کو شش کی جو اس واقعہ میں شا مل نہیں تھے ۔ ان کا بھی محا سبہ ہو نا چا ہئے ۔ کیو نکہ ان کے عمل سے بد نیتی ظا ہر ہو رہی ہے ۔ اور صا ف نظر آ رہا ہے ۔ کہ یہ واقعہ چند افراد سے انتقا م لینے کے لئے کرا یا گیا تھا ۔ اور یہ با قا عدہ پہلے سے تیا ر ایک ڈرا مہ تھا ۔ بس اسے رچا یا گیا ۔ یہ واقعات کا بغور جا ئزہ لینے پر سامنے آ رہا ہے ۔ اس کی تصدیق اب ذمہ دار اداروں کا کا م ہے ۔ اور اس سازش کا مقصد شا ئید کچھ بد نصیب لو گوں سے انتقا م لینا ہو ۔ غر ض جو بھی ہو ضلع گا نچھے جیسے پر امن ضلع کو اس قسم کے حا لات سے دوچار کر کے یہ با ور کرا نا کہ گلگت بلتستان میں اب امن نا م کی چیز نہیں۔ کیا یہ ثا بت کر نا تو نہیں ؟ یہا ں پر میں نو ر بخشیہ مسلک کے دونو ں گروہو ں سے پو چھنا چا ہو ں گا ۔ کہ سید علی ہمدا نی جن کی تعلیما ت میں پیا ر محبت ،بر داشت اور رواداری کا درس عا م ملتا ہے ۔ ان کو انہو ں نے کیو ں فرا مو ش کیا ہے ۔ ؟ کیو ں وہ ست گر یبا ں ہو ئے ۔ سا زش ہے تو بھی وہ بہکا وے میں کیو ں آ ئے ۔؟ امیر کبیر نے تو بد ھ پرستو ں کو اپنی
پیا ری پیا ری با تو ں سے رام کیا ۔ تو آ پ لو گ جس کے پیر و ہو نے کا دعویٰ کر تے ہو آ پس میں ہی ایک دوسرے کو بر داشت کر نے کے لئے تیا ر نہیں ہو ۔ آ خر کیو ں ؟ راقم کا دل خو ن کے آ نسو رو رہا ہے ۔ یہ ضلع جو انتہا ئی پسما ندہ ہے ۔ حکو مت میں وہا ں سے وزیر، سینئر وزیر ہو نے کے با وجود کو ئی تر قیا تی یا عوا می مفا د کا کام نہیں ہو ا ہے ۔ اس طر ف تو جہ دینے کی بجا ئے ایک دوسرے سے بر تر اور عظیم ہو نے کو ثا بت کر نے کے لئے لڑ نا۔ اور علا قے میں افرا پھیلا نا ۔یہ کیا ہے ۔ آ خر آ پ لو گ کیو ں اتنے بے حسی کا مظا ہر ہ کر رہے ہیں ؟ علما ء کرام کو چا ئیے کہ وہ گز شتہ ہو نے والے چا ر معا ہدو ں پر من و عن عملدر آ مد کر یں۔ اور اہلیا ن گا نچھے کو بھی پا بند کر یں ۔ کہ وہ سب ان معا ہدو ں کا احترا م کر ینگے ۔ تا کہ ضلع گا نچھے جہا ں پر ایک مثا لی معا شر ہ پنپ رہا ہے ۔ اس میں جا ن آ جا ئے ۔ علا قے کے لو گو ں میں شعور آ جا ئے ۔ اور وہ اپنے آ پ کو علا قے اور قوم کی تر قی اور فلا ح کے لئے وقف کر دیں ۔ بلتستان کا مثا لی بھا ئی چا رہ قا ئیم رہے ۔ اور ادب جو کہ سب سے زیا دہ مشہو ر ہے پروان چڑ ھے ۔ پرور دیگا ر آ سب کا حا می و نا صر ہو ۔ آ مین

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *