دریائے چترال میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دریا نے تباہی مچادی۔

 

10580011_733514333361887_1500742032318372366_n
چترال، سوست ٹوڈے(گل حماد فاروقی) دریائے چترال میں پانی کا سطح بلند ہونے سے دریا نے تباہی مچادی۔ مستوج روڈ نصف سے زیادہ دریا برد۔ جبکہ ڈسٹرکٹ جیل، سرکاری غلہ گودام، آغا خان یونیورسٹی کے پروفیشنل ڈیویلپمنٹ سنٹر، قبرستان، مکانات اور سیکنڑوں ایکڑ زیر کاشت زمین بھی دریا کی ضد میں ہے۔ اگر دریا کا رح بدلنے کیلئے فوری طور پر حفاظتی بند (پُشتیں ) تعمیر نہیں کی گئی تو یہ سب کچھ چند دنوں میں دریا برد ہوکر بہت بڑی تباہی کی باعث بنے گی۔
دریائے چترال میں دنین کے مقام پر سال 2010 میں بھی تباہی مچائی تھی اور سڑکا بڑا حصہ زیر آب آیا تھا تاہم دریا کا رح بدلنے پر بر وقت مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اس نے امسال مزید تباہی مچادی۔
ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ریاض احمد کا کہنا ہے کہ دریا کے پانی نے سڑک کا آدھا حصہ کاٹ کر جیل کے مین گیٹ کے قریب پہنچ چکا ہے جس سے جیل کو نہایت سخت حطرہ لاحق ہے اور کسی بھی وقت جیل کا مین گیٹ پانی کی ضد میں آسکتا ہے۔
معروف قانون دان عبدالولی خان کا کہنا ہے کہ ہم نے بارہا محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کو درخواست دیکر مطالبہ کیا کہ دریا کے کنارے سڑک کی جانب حفاظتی پُشت اور دیوار تعمیر کی جائے تاکہ یہ مین سڑک تباہی سے بچ سکے مگر ہمارا کسی نے بھی نہیں سنا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند دنوں بعد یہ سڑک مکمل طور پر حتم ہوگا جو مستوج ، بونی، شندور کا مین شاہراہ ہے۔
ھکفیاض ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر نے کہا کہ سرکاری غلہ گودام بھی برلب دریا واقع ہے اور چار سال پہلے بھی دریا نے غلہ گودام کے سامنے سڑک کو کاٹا تھا جس پر ہم نے دیوار پیچھے کرکے بنایا اور اب اس سال پھر دریا نے گودام کے ساتھ سڑک کو کاٹا ہے خدشہ ہے کہ چند دنوں بعد یہ سڑک مکمل طور پر حتم ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چترال کے بالائی علاقوں کو گندم کی سپلائی عموماً ستمبر کے مہینے میں ہوتا ہے اور اگر یہ مین سڑک دریا کی وجہ سے ٹوٹ گیا تو ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ بالائی علاقوں کو گندم فراہم کرسکے جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ بھوکے مرسکتے ہیں۔
ایک مقامی زمیندار شاہجہان نے کہا کہ ان کی نہایت قیمتی زمین پر اب دریا بہہ رہا ہے اور مزید بھی کٹائی جاری ہے ۔ انہوں نے کہ اگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اس میں صرف پھتر بھی ڈالتے تو آج دریا کا رح بدل جاتا اور اتنی تباہی نہیں مچاتی تاہم انہوں نے کہا کہ CAD اور سی آئی اے ڈی پی نے جو حفاظتی بند تعمیر کیا تھا اس کا اس علاقے کو بہت فائدہ ہوا اور اس کی نہ ہونے کی صورت میں بہت تباہی مچتی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دریا نے ان کے قبرستان کو بھی حتم کیا اور کئی قبریں دریا کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریا کا رح سیدھا مستوج روڈ کی طرف ہے جس کے کنارے جیل، غلہ گودام، یونیورسٹی، کئی مکانات، آفیسرز کالونی اور زیر کاشت زمین بھی واقع ہے اور چند دنوں میں ان کو سخت حطرہ لاحق ہے۔
مقامی لوگوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دریا کا رح بدلنے کیلئے اس کے کنارے دنین کی جانب حفاظتی پشت اور بند تعمیر کی جائے تاکہ یہ علاقہ مزید تباہی سے بچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ضروری اقدامات اٹھاکر حفاظتی دیوار بنایا تو یہ علاقہ بچ سکتا ہے ورنہ یہ سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کے علاوہ مین سڑک بھی پانی کا نظر ہوگا اور مستوج کے علاقے سے زمینی رابطہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گرمی کی شدت سے دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے دنین کا پورا علاقہ پانی کی ضد میں ہے جبکہ مستوج ، بونی کا مین روڈ کا آدھے سے زیادہ حصہ دریا نے کاٹا ہے اور تھوڑا حصہ بچا ہے جسے اگلے چند دنوں میں کاٹنے کا حطرہ ہے ۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گولین گول بجلی گھر کیلئے بھاری گاڑی اور ڈمپر میں بجری، ریت وغیرہ اسی روڈ سے لے جایا رہا ہے اسے چند دنوں کیلئے بند کی جائے تاکہ یہ سڑک مزید تباہی سے بچا جاسکے۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *