چترال کے علاقے گرم چشمہ روڈ کی تعمیر میں ناقص اور غیر معیاری میٹریل کا استعمال۔ ناقص کام کی وجہ سے سڑک ایک ماہ بعد پھر کھنڈرات کا منظر پیش کرے گا۔ ماہرین۔

images
چترال،03 اکتوبر سوست ٹوڈے(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے گر م چشمہ میں زیر تعمیر سڑک میں ناقص میٹیریل کی استعمال کی وجہ سے سڑک غیر معیاری طریقے سے بن رہا ہے علاقے کے عمائدین کا کہنا ہے کہ جس غیر معیاری طریقے سے یہ سڑک بن رہی ہے یہ ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتا۔
سڑک کی تعمیر میں نہایت بڑے بڑے پھتر روڑے کے طور پر ڈال کر استعمال کیا جاتا ہے جو عام طور پر سڑک کی تعمیر میں استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف سڑک پر بڑے پھتر ڈال کر کوئی حاص کمپکشن بھی نہیں کی جاتی کیونکہ رولر مشین بھی حراب ہے اور معمولی سی کمپکشن کے بعد اس پر تارکول ملا پتھر ڈال جاتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف سڑک کی چھوڑائی بھی نہایت کم ہے اور تارکول بچانے کیلئے کم حصے کو بلیک ٹاپ کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دنوں نہ تو تارکول استعمال کرنا چاہئے اور نہ سڑک کی بیچ میں بڑے بڑے پتھر ڈالنا چاہئے۔ جب ہمارے نمائندے نے متعلقہ ٹھیکدار سے پوچھا کہ سڑک کی تعمیر کے وقت اس کی معائنہ کرنے کیلئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے کوئی آتا بھی ہے کہ نہیں تو ان کا سیدھا سادہ جواب تھا کہ کوئی نہیں آتا اور یوں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے سڑک کو ٹھیکدار کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ حالانکہ چند ماہ قبل محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے کئی افسران اور بعض ٹھیکدار بدعنوانی کے کیس میں محکمہ انسداد رشوت ستانی نے گرفتار کرکے ان کو جیل کی ہوا بھی کھانے دیا تھا
چترال کے سماجی اور سیاسی طبقہ فکر کا کہنا ہے کہ بدنام زمانہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو (کمیونیکیشین اینڈ ورکس) نے اپنے کمیشن کے حاطر ٹھیکدار کو کھلے ہاتھ چھوڑا ہے جو اور ان کے اکثر منصبوبوں میں ناقص سامان استعمال کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بہت کم عرصے میں وہ منصوبہ ناکام ہوجاتا ہے۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر کا کئی سال گزر گئے مگر ایک فرلانگ سڑک بھی مکمل نہ ہوسکی۔اس سلسلے میں جب اس علاقے سے منتحب رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکدار نے کام ادھورا چھوڑ کر بھاگ چکا تھا اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ملی بھگت سے وہ اس فنڈ کو ہڑپ کرنا چاہتا تھا مگر انہوں نے اسے پولیس کے ذریعے بلاکر اس سے دوبارہ کام شروع کروایا۔
علاقے کے لوگوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو چترال کے اہلکاروں کے حلاف سخت ترین کاروائی کی جائے اور جو کام ناقص ہورہے ہیں جن کی معائنہ کیلئے محکمہ کی طرف سے کوئی جاتا نہیں ہے اس کام کا تاوان محکمہ کے ذمہ دار افسران سے وصول کی جائے تاکہ مال مفت دل بے رحم کے مصداق پر یہ لوگ سرکاری خزانے کو اس طرح بے دریغی سے نہ لوٹے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *