چترال کے دور آفتادہ چلمر آباد وادی کے لوگ آج بھی پتھر دور کے زندگی گزارنے پر مجبور۔

621
چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے انتہائی شمال مغرب میں واقع چلمر آباد وادی کے لوگ آج بھی پتھر کے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اس وادی تک جانے کیلئے نہ تو کوئی سڑک ہے نہ راستہ بس لوگ گھوڑوں، گدھوں یا یاک پر سوار ہوکر پہاڑی راستوں پر سفر کرتے ہیں۔ پورے وادی میں نہ تو کوئی سکول ہے نہ کالج، نہ ہسپتال ہے اور نہ حیوانات کیلئے کوئی شفاحانہ۔ لوگ اگر بیمار پڑے تو گھریلوں ٹوٹکے استعمال کرتے رہتے ہیں۔
گاؤں کے لڑکیاں دوسرے لوگوں کی بھیڑ بکریاں چھراتی ہیں اور اس کے عوض ان کو سال میں ایک بکرا بطور مزدوری ملتی ہے۔ یہاں کے لوگ غربت کے لکھیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
703اس کی مثال یہ ہے یہ سکول جانے کی عمر کے بچے بھی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ جب کوئی غیر مقامی سیاح اس وادی میں آتا ہے تو یہ بچے ان کو کرائے پر گھوڑے فراہم کرتے ہیں اور گھوڑے کی رسی پکڑ کر ان کی رہنمائی کرتے ہوئے خود پیدل جاتے ہیں مگر اپنی گاہک کو گھوڑے پر سوار کرکے لے جاتے ہیں۔
پورے وادی میں کوئی تعلیم یافتہ بندہ نہیں ملا۔ اس وادی کا ایک نوجوان داد خُدا جو ایف اے کا طالب علم ہے مگر وہ بھی گلگت بلتستان جاکر وہاں کسی گھر میں گھریلوں ملازم کے طور پر مزدوری کرتا ہے اور صبح کے وقت کالج جاکر تعلیم حاصل کرتا ہے۔
پاکستا ن میں آج غربت میں کمی کا دن منایا جارہا ہے مگر یہاں کے لوگوں کو دیکھ کر غربت بھی شکست کھاتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگوں سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے آج تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا ۔
sلوگ واخی زبان بولتے ہیں کسی کو بھی اردو یا چترالی زبان نہیں آتا۔ داد خدا نے ترجمان کی فرائض انجام دیتے ہوئے ان کی زبان کی ترجمانی کی۔ کئی ضعیف المعر خواتین نے جب ان کی مشکلات اور غربت کی شرح کے بار ے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی زبان میں بتایا کہ ہم تو جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ہم نے آج تک کوئی گاڑی، تارکولی سڑک، بجلی، ٹیلیویژن، کمیپوٹر، ٹیلیفون، موبائیل یا کوئی جدید دور کا مشین دیکھا تک نہیں جو لوگ یہاں سے چترال یا دیگر شہروں میں جاکر سفر کرتے ہیں ہم صرف ان کی زبانی ان چیزوں کے نام سنتے ہیں۔
sdاس وادی میں آج تک کوئی بجلی نہیں ہے سطح سمندر سے12200 فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی پودا یا درخت بھی نہیں اگتا۔ یہی وجہ ہے کہ پورے وادی میں جلانے کیلئے نہ تو لکڑی ہے نہ گیس اور بجلی کا تو ان لوگوں نے صرف نام ہی سنا ہے کہ بجلی روشنی دیتی ہے۔
ان خواتین نے بتایا کہ وہ سال بھر صرف ایک جوڑا کپڑا پہنتے ہیں شدید سردی میں خود کو گرم رکھنے کیلئے جھاڑیوں اور پودوں کی جڑیں زمین سے نکال کر خشک کرتے ہیں اسے جلایا جاتا ہے جس سے سخت بد بو بھی آتی ہے۔
یہ لوگ پندرہ اور سولہ فٹ کے کمرے میں تین حاندان رہتے ہیں کیونکہ لکڑی نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے لیئے زمین ہونے کے باوجود بھی کھلے مکان نہیں بنا سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ مکان بنانے کیلئے گلگت یا یارخون لشٹ سے سفیدے کی لکڑی منگواتے ہیں جس پر اتنا زیادہ کرایہ آتا ہے کہ سیمنٹ اور سریا کی قیمت سے بھی مہنگا پڑتا ہے۔
لوگ زیادہ تر مال مویشی پالتے ہیں اور دودھ والی غذا پر گزار اکرتے ہیں مگر ان کی جانوروں کی علاج کیلئے بھی کوئی شفاحانہ نہیں ہے۔لوگ زیادہ تر یاک پالتے ہیں جسے مقامی زبان میں خوش گاؤ کہتے ہیں یہ جانور برف پر پالے جاتے ہیں یہ صرف یہاں، تبت اور بلتستان میں پائے جاتے ہیں۔
یہ وادی افغانستان کے علاقے واخان کے سرحد پر واقع ہے جہاں سے تاجکستان صرف چند کلومیٹر دور واقع ہے۔ اکثر لوگوں نے واخان سے شادی کی ہیں اور لوگ آسانی سے واخان اور تاجکستان جاکر مزدوری کرتے ہیں۔
یہاں کے لوگو ں نے مطالبہ کیا کہ ہم بھی پاکستانی ہیں مگر حکومت پاکستان نے آج تک ہمیں کوئی سہولت نہیں پہنچایا یہاں تک کہ اس واد ی تک آنے کیلئے کوئی سڑک بھی نہں ہے۔ان لوگوں نے مطالبہ کیا کہ دوسرے شہریوں کی طرح ان کو بھی جدید سہولیات فراہم کی جائے۔ یہاں سڑکوں، سکول، کالج، ہسپتال، وٹرنری ہسپتال ، غلہ گودام وغیرہ تعمیر کی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آسکے۔
چند لوگوں نے جذباتی طور پر متنبہ کیا کہ اگر حکومت پاکستان ان کو کوئی سہولت فراہم نہیں کرتی یا ان کے پاکستانی شہری تسلیم نہیں کرتے تو وہ مجبوراً یہ وادی چھوڑ کر واپاس واخان جائیں گے کیونکہ ان کے آباء واجدا واخان سے آئے ہوئے ہیں۔
734اس وادی میں سیاحت کی بھی زیادہ مواقع ہیں مگر حکومت اس وادی میں غیر ملکی سیاحوں کو نہیں چھوڑتے کیونکہ یہ علاقہ تاجکستان، چین، روس، افغانستان کے سرحدوں پر واقع ہے تاہم یہاں کے لوگ اتنے پر امن ہے کہ آج تک اپنے حق کیلئے بھی کوئی احتجاج تک نہیں کیا۔
یہاں یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ لوگ خود کو گرم رکھنے کیلئے موسم سرما میں افیون کا استعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ اس وادی میں نومبر سے مئی تک برف باری ہوتی ہے اور زمین پر چھ فٹ برف پڑی رہتی ہے جس کی وجہ سے شدید گرمی سے بچاؤ کیلئے ان کے پاس اس کے سوا کئی اور چارہ نہیں ہے کہ افیون کھاکر خود کو گرم رکھے۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *