ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال میں مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

چترال17 اکتوبر سوست ٹوڈے(گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں مریضوں کا کوی پرسان حال نہیں۔ مریض بیڈ پر تڑپتے ہیں مگر ڈاکٹر اور دیگر عملہ ان کا حا تک نہیں پوچھتا۔انظما م الحق ولد شیر نادر سکنہ چیوڈوک نے مقامی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میری پیٹ میں اچانک درد شروع ہوا تو میں فوری طور پر ہسپتا ل گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایمرجنسی وارڈ میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا اور درد بھی شدید ہوتا گیا مگر کوئی ڈاکٹر یا نرس یا کوئی پیرامیڈیکل سٹاف میرے پاس نہیں آیا۔
میں نے وہاں ایک تیمار دار کے ذریعے ڈاکٹر کو بڑی مشکل سے بلایا ڈاکٹر بڑی دیر بعد آکر مجھے کوئی انجکشن اور دوا لکھ دی۔
مگر اس کے جانے کے بعد نہ تو کسی نرس نے مجھے انجکشن لگانے کی ذحمت کی نہ کوئی کمپوڈر نے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے جب کافی شور مچایا تو ایک نرس آئی مگر اس نے بھی کافی غصے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تمھیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا۔اس نے کہا کہ پیٹ کا علاج ہم نہیں کرسکتے۔ انظمام نے بتایا کہ میں مجبوراً ہسپتال سے نکلا اور کسی پرائیویٹ کیمسٹ سے دوا حرید کر گھر چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایمرجنسی وارڈ میں تڑپتا رہا مگر ہسپتا ل کا عملہ موبائل فون پر کسی سے گپ شپ میں مصروف تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال میں 75 سے زیادہ نرس ہیں مگر کوئی گھر بیٹھی ہیں تو کوئی نجی میڈیکل کالجوں میں کورس کرنے گئی ہیں مگر یہاں سے باقاعدہ تنخواہ بھی لیتی ہیں۔ انہوں نے صوبائی وزیر اعلےٰ ، وزیر صحت، اور سیکرٹری ہیلتھ سے مداحلت اور تحقیقات کا مطالبہ کیا
چند مریضوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے چترال ہسپتال کو تقریباً تین کروڑ روپے کا فنڈ دیا تاکہ مریضوں کو مفت دوائی مل سکے مگر جس کو سرکاری دوائی کا ٹھیکہ دیا گیا ہے ان کے پاس اکثر دوائی دستیاب نہیں ہوتی اور پرچی میں جو دوائی لکھی گئی ہو وہ پورا نہیں ملتا یہی وجہ ہے کہ پچھلے سال سرکاری سٹور میں پڑی ہوئی لاکھوں روپے کی زائد المیعاد دوائی جلاکر تلف کردی گئی مگر اسے غریب مریضوں کو نہیں دیا گیا۔
اس سلسلے میں جب ہسپتا ل کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نور الاسلام سے بات کی گئی اور مریض نے بھی ان کے نوٹس میں لایا تو انہوں نے یقین دہانی کی کہ اگر کوئی مریض مجھے تحریری شکایت دے تو میں اس یں انکوائری کروں گا۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *