یوم آزادی گلگت بلتستان کے حوالے سے کیوں لب سلے ہیں ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔

sost5میں اپنے گھر میں جو کہ گورنر ہاؤس کہلاتا تھا رات کو سویا ہوا تھا کہ اچانک باہر شور شرابا سنائی دیا جس سے میری آنکھ کھل گئی ۔میں اپنی بستر سے اٹھا اور کھڑکی سے باہر لان میں نظر دوڑائی تو مجھے سکاؤٹس کے 7,8 جوان اپنے گھر میں داخل ہوتے دیکھا ئی دئیے تب میں نے اپنے گھر میں رہائش پذیر دیگر افراد کو بھی اپنے کمرے میں بلایا اور کہا کہ باہر جو لوگ آئے ہیں ان کا ہر ممکن مقابلہ کرنا ہے تب وہ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے اور باہر سکاؤٹس کے دستوں کی طرف فائرنگ شروع کردی تھوڑی دیر بعد میں نے دوسرے کمروں کی کھڑکیوں سے باہر جھانک کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ سکاؤٹس کے دستوں نے گورنر ہاؤس کو محاصرے میں لیا ہے اور مسلسل گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔یہ سارا منظر دیکھنے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ جب تک ممکن ہے ان کا مقابلہ کیا جائے اتنی آسانی سے اپنے آپ کو ان کے حوالے کیوں کروں ؟ پھر میں نے خود بھی بندوق اٹھا ئی جو کہ پہلے سے گھر میں موجود تھی اور بر آمدے کی طرف نشانے لگا کر گولیاں برسانی شروع کردی اور تب تک گولیاں برساتا رہا جب تک میرے پاس گولیاں میرے موجود تھیں ۔صبح تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا پھر جب میرے پاس گولیاں ختم ہوئی تب مجھے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا اور اس کے باہر کی دنیا سے میرا رابطہ ختم ہوگیا ۔
تو قارئین ! یہ الفاظ اس شخص کے تھے جو آزادی گلگت بلتستان کے وقت اس خطے کے گورنر ہوا کرتے تھے جس کا نام گھنسارا سنگھ تھا اس واقعے کے بعد ان کو زندان میں ڈالا گیا باقی گلگت بلتستان کو آزاد خطے کی حیثیت سے رکھا گیا جس کے پہلے صدر شاہ رائیس تھے جو کہ اس سے پہلے نائب تحصیلدار کے عہدے پر براجمان تھے پندرہ دنوں تک گلگت بلتستان آزاد ریاست کی طرح رہا اس دوران حکومت پاکستان کو اس خطے کا نظم و نسق سنبھالنے کیلئے خط بھی لکھا گیا اور آخر پندرہ دن بعد گلگت بلتستان کا نظم نسق حکومت پاکستان نے براہ راست سنبھال لیا ۔
تب سے یہ خطہ پاکستان کے ساتھ ہے اس میں کرنسی پاکستان کی چلتی ہے فوج پاکستان کی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ جھنڈا بھی پاکستان کا ہی مختلف سرکاری اداروں میں چڑھائے جاتے ہیں۔گلگت بلتستان کو پاکستان کے ساتھ الحاق تو کیا گیا مگر ایک سوچ کی تکمیل آج تک نہ ہو سکی وہ یہ کہ نہ اس خطے کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنایا گیا ہے اور نہ ہی اس کو آزاد کشمیر کے ساتھ ملا کر ایک ریاست کی شکل دی جا رہی ہے گلگت بلتستان کے سادہ لوح عوام کو 67 سالوں سے بیوقوفوں کی طرح بہانے بنا کر ٹال دئیے جاتے ہیں مگر 2009 ؁ میں صدر پاکستان زرداری صاحب نے ایک پیکج کے تحت صوبے کی حیثیت دی جس کی صوبائی اسمبلی میں کل چوبیس اراکین منتخب ہوتے ہیں دیگر صوبوں کی طرح یہاں بھی گورنر اور وزیر اعلی کو صوبے کی نگرانی سونپی گئی مگر اس میں بھی گلگت بلتستان کے ساتھ سوتیلے پن کا مظاہرہ کیا گیا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان کی اسمبلی سے قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو نمائندگی دی جاتی ۔جس سے اس پسماندہ خطے کے مسائل مرکز میں وزیر اعظم پاکستان کے سامنے رکھے جاتے اور ان کے حل کیلئے تھوڑی بہت جدوجہد کی جاتی ۔خیر یہ سب کچھ تو ہونا ہی تھا ۔آج دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت کے با وجود نظر کیا جارہا ہے اور پھر یہاں کے مقامی جو سیاستدا ن ہیں وہ بھی کبھی اپنے علاقے کے ساتھ ہونے والے اس نا انصافی کا ازالہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ ان کو تو وہ ساری عیاشیاں اور مراعات حاصل ہیں جو دیگر امیر طبقے کیلئے مختص ہوتے ہیں ۔گلگت بلتستان دنیا کی نظر میں بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے لوگایک انتہائی پسماندہ خطہ سمجھتے ہیں اور یہ بہت حد تک صحیح بھی ہے کیونکہ اس خطے کو حکومت پاکستان کے مسلسل نظر انداز کرنے کی وجہ سے اور آئینی سیٹ اپ نہ دینے کی وجہ سے یہاں ترقیاتی کام با الکل بھی نہیں ہوتے ۔آزادی کے 58 سال بعد پہلی بار یہاں ایک یونیورسٹی بنائی گئی اس کے علاوہ ابھی تک کوئی میڈیکل اور انجینئرنگ کی کوئی کالج نہیں بنائی گئی ۔چونکہ یہاں کے لوگ شرح خواندگی کی کمی کی وجہ سے بے روز گار محنت مزدوری کرتے ہیں اسکے علاوہ جنہوں نے پڑھا بھی ہو تو اس کو اس کے قابلیت کی وجہ سے کوئی نوکری نہیں ملتی کیونکہ یہاں نوکریاں بیچی جاتی ہیں محکمہ ایجوکیشن جیسے ادارے میں تین تین لاکھ میں نوکریاں بیچنے کا شرمناک سکینڈل ماضی میں منظر عام پر آچکا ہے ۔اب خود سوچئے کہ جو لوگ تین لاکھ روپے دے کر نوکری میں لگے ہوں وہ کیا سکولوں اورکالجوں میں پڑھائیں گے وہ یہاں بھی کوئی نہ کوئی انہونی کر کے ہی د م لیں گے ۔یہ تو تھا محکمہ تعلیم کا المیہ اسکے علاوہ کئی ایسی دستانیں اس خطے میں موقوم ہیں جن کے سننے یا پڑھنے کے بعد کوئی بھی اس حقیقت سے نا آشنا نہیں ہو گا جو یہاں ہو تا رہا ہے ۔
اگر گلگت بلتستان کے باسیوں کو اپنے حقوق حاصل کرنے ہیں تو اسکے لئے سب نے مل کر جدو جہد کرنی ہوگی اس میں اس سوچ کو دوررکھنا ہوگا کہ فلاں سنی ہے تو فلاں شیعہ یا فلاں اسماعیلیہ ۔اگر آج تک گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گلگت میں تفرقے کو بنیاد بنا کر حکومت نے اپنے مفادات حاصل کیئے ہیں یہاں ماضی میں صرف لڑاؤ اور حکومت کرو کا فارمولہ اپنایا گیا اور لڑاتے گئے حکومتیں کرتے گئے مگر اب ہوش میں آنے کا وقت ہے اب بھی یہاں کے لوگ خاموش رہتے ہیں تو پھر انکا مستقبل کیا ہوگا خدا جانے مگر اچھا نہیں ہوگا یہ تو طے ہے ۔آپخود سوچئے یہاں جب الیکشن کاوقت آتا ہے تو کوئی بھی اپنی مرضیسے اپنا ووٹ استعمال نہیں کر سکتا مساجد کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جو جسے ووٹ دینے کا کہتی ہے اسی کو ووٹ دیا جاتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ جس کو ووٹ ہم دیرہے ہیں کیا وہ اس کے قابل بھی ہے ؟ اگر ووٹ ہمارا ہے تو اس کو کاسٹ اپنی مرضی سیکرنے کا حق بھی ہمیں ہی ہے ہم دوسروں کی بات سننے کی بجائے خود فیصلہ کرلیں کہ کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں ۔یہ تب ممکن ہے جب ہم رنگ نسل اور فرقے کو دورکر کے ایک جسد خاکی بنیں گے جس کو توڑنے کی مجال کسی میں بھی نہ ہو ۔حکومت پاکستان اگر مستقبل میں بھی گلگت بلتستان کے ساتھ سوتیلے پن کا مظا ہرہ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے تو یہ اس کی بھول ہو گی کیونکہ اب یہاں کے لوگ باشعور ہو گئے ہیں اور وہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے ہر ممکن قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *