موجودہ دور میں والدین کی حیثیت

 

کیوں لب سلے ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعید الر حمان

سعید الر حمان

سعید الر حمان

سورج کے غروب ہوتے ہی صبح نکلے ہوئے پرندے اپنے گھروں کا رخ کر رہے تھے کھیتوں میں دیر تک کام کرنے کے بعد جب ماں اپنے گھر پہنچی تو اسکا ڈیڑھ سالہ بچہ بھوک سے نڈھال تھا جس کو دیکھ کر ماں بلبلا اٹھی اورجلدی سے بچے کو اٹھا کر گود میں رکھااور دودھ پلانے لگی بچے کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے ماں کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات گردش کر رہے تھے کہ اگر میں تھوڑی دیر اور کھیتوں میں رکتی تو شاید میرا بچہ مر جاتا ،میں اگر اس طرح ہر دن بچے کو گھر پر اکیلا چھوڑ کر کھیتوں میں کام کیلئے جاؤں گی تو ایک دن کوئی سانپ،بچھو یا کوئی خونخوار جانور اس کو کھا جائے گا اسی طرح کے کئی اور شبہات اس ماں کے ذہن کو جھنجھوڑ رہے تھے کہ وہ انہی خیالات میں گم تھی اتنے میں اس کے بچے کی آواز کانوں میں گونجی جس کو سنتے ہی وہ خیالات کی دنیا سے نکل آئیاور اپنے بچے کی طرف دیکھا تو بچہ چمکتی ہوئی آنکھوں سے مسکرا رہا تھا اور ماں کو گھور رہا تھا اس کے ایسے دیکھنے سے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید وہ اپنی ماں سے کچھ پونچھنا چاہتا ہو اسکی آنکھوں میں ایک ایسی چمک نظرآرہی تھی جس کو دیکھنے والا محسوس کر سکتا تھا کہ وہ اپنی ماں کا دودھ پلانے پر مشکور تھا ۔قارئین ! ماں باپ اس دنیا میں ہر اولاد کی سب سے بڑی جائیداد یں ہیں ان کی قدر اس سے پوچھا جائے جس کے ماں باپ اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں ۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بوڑھوں کیلئے اولڈ ہاؤسز بنائے گئے ہیں ۔ہم اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں مگر مسلمان کہتے کس کو ہے یہ نہیں پتا ۔کیا مسلمان اس کو کہتے ہیں جو اپنے ماں باپ کو بوڑھاپے میں اولڈ ہاؤسز کے حوالے کردے اور اسلام کیا اس کی اجازت دیتا ہے؟کہنے کو تو ہم بلند و بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ ماں باپ کا احترام کرنا چاہیے ،ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیے مگر عملی کام اس پر نہیں کرتے ۔بچپن سے ہم کتابوں میں والدین کی عزت یا ان کی خدمت کے حوالے سے پڑھتے آرہے ہیں مگر وہ صرف کتابوں کی حد تک ہی رکھتے ہیں اس پر عمل کوئی نہیں کرتا ۔ہر ماں باپ اپنے بچے کیلئے جب وہ بہت چھوٹا ہوتا ہے تو اس کے مستقبل کیلئے ہر قسم کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا تو لوگوں کی خدمت کرے گا ،ہمارا بیٹا انجنئیر بن کر غریب عوام کے کام آئے گا مگر ان کو کیا پتا کہ وہ بیٹا یا بیٹی جس کیلئے یہ ہر وقت خواب دیکھتے رہتے ہیں وہ خود ان کو ہی اپنے اوپر بوجھ سمجھنے والے ہیں تو عوام کی خدمت کیا خاک کریں گے ۔ایک زمانہ وہ تھا جب اولاد ماں باپ کو اپنے سروں کا تاج اور اپنی بخشش کا ذریعہ سمجھتے تھے اور ہر وقت ان کی خدمت میں رہتے تھے ۔ اسی لئے تو آپ ﷺ نے ایک صحابیؓ کو غزوہ میں جانے سے روکا تھا کہ اپنی ماں کی خدمت کرو تمھیں جہاد کا ثواب مل جائے گا ،ایک اور جگہ آتا ہے کہ جب آپ ﷺ حج کیلئے روانہ ہو رہے تھے تو ایک صحابی آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہوتا ہے اورعرض کرتا ہے اے اللہ کے نبی میں آپکے ساتھ حج پر جانا چاہتا ہوں مگر گھر میں میری ماں بیمار ہیں ابآپ بتائے میں کیا کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ حج پر نہیں آئیں اور اپنی ماں کی خدمت کریں ۔اس بات کو سمجھنے کیلئے کہ اسلام نے والدین کو کتنا بڑا رتبہ دیا ہے اس بات کا اندازہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کے مفہوم سے بھی کر سکتے ہیں کہ اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور والد کی رضا میں اللہ تعالی کی رضا ہے ۔اس کے علاوہ آپ ﷺ نے ماں کے بارے میں فرمایا کہ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے اور اس جنت کا دروزہ باپ ہے ،اسکا مطلب یہ ہوا کہ جب تک ہم ماں باپ دونوں کی خدمت و احترام نہیں کریں گے ہم جنت کے امیدوار نہیں ہو سکتے اب اسکے لئے تو ہمیں والدین کی عزت و خدمت کرنی ہوگی جسے ہمارا معاشرہ بھول چکا ہے ۔ آج ہم اپنے معاشرے میں جھانک کر دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ ہر طرف والدین کی عزت مجروح ہو رہی ہے وہ ماں جس نے اپنے بچے کو نو ماہ پیٹ میں رکھا سردی ہو یا گرمی اس نے اپنے بچے کی خاطر ہر قسم کی قربانی دی اور جب اس بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اپنی چھاتی کا دودھ اس کو پلا کر بڑھاتی رہی اور جب کبھی اس کے بچے کو معمولی سا بخار آجائے تو کئی کئی راتوں کو اس کا پنے بچے کیلئے جاگ کر اس کی صحت یابی کی دعائیں کرتی رہی اور جبتک اسکا بچہ ٹھیک نہیں ہوتا وہاپنے منہ میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہیں ڈالتی ۔وہی اور اس کا باپ سردی ہو یا گرمی اپنے بچے کی ہر خواہش پوری کرنے کیلئے رات دن ایک کر کے کمانا اور پھر اپنے اسی بچے کے اچھے مستقبل کیلئے اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کرتے رہنا اور جب اس کا وہی بچہ جوان ہوتا ہے تو اسکی مرضی سے شادی بھی کرائی جاتی ہے مگر جب ان کے اسی بچے کی جس کیلئے انہوں نے ارات دن ایک کیئے کمائی شروع ہوجاتی ہے تو وہ انہی ماں باپ کو اپنیاوپر بوجھ سمجھنے لگتا ہے اور اور ماں کو نوکرانی کی طرح پالا جاتا ہے اور باپ کو تو بوڑھا ہونے پر ضائع سمجھتے ہوئے اولڈ ہاؤسز کی نظر کردیتے ہیں اور وہ ماں اپنے ہی بیٹے کے گھر دو وقت کے کھانے کے عوظ اس کی بیوی اور بچوں سمیت گھر کا سارا کام کرتی ہے اور جب کوئی غلطی اس سے سرزد ہو جائے تو اسے بھی ناکارہ سمجھتے ہوئے اولڈ ہاؤس میں ڈالا جاتا ہے اورتاحیات ان کا منہ تک نہیں دیکھتے ۔
ہم کتنے بے وقوف ہیں کہ اپنہی کامیابی و کامرانی تو چاہتے ہیں مگر اللہ تعالی نے جو چیزیں ہمیں کامیابی کیلئے بتائی ہیں ان سے دوری اختیار کئیے ہوئے ہیں ہم جنت کی دعا تو کرتے ہیں مگر ماں کے پاؤں تلے جنت ہے اس کو بھولے بیٹھے ہیں اگر واقعی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں تو والدین کی عزت و احترام لازمی ہے جب تک ان کو ہم نظر انداز کریں گے تب تک ہم چاہے جو بھی کرلیں راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھین یا پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کریں کوئی فرق نہیں پڑھنے والا ۔گورنمنٹ پاکستان اور خاص کر صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو چاہیے کہ تمام اولڈ ہاؤسز کے ذمہ داران کو اس بات کا خیال رکھنے پر زور دیا جائے کہ کہیں کوئی اپنے ماں باپ کو بغیر کسی وجہ کے یہاں داخل کروائے اور جتنے بھی اولڈ ہاؤسز ہیں ان کی صحیح طرح چھان بین کرائی جائے اور جہاں بھی کوئی اس طرح کا کیس سامنے آئے کہ اولاد ہوتے ہوئے یا والدین کی مرضی کے بغیر انہیں یہاں داخل کرایا گیا ہو تو ان کے بچوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں اور آنے والی نسل کیلئے نشان عبرت بنائے جائیں تا کہ مستقبل میں اولڈ ہاؤسز میں بے جا کسی کو نہ داخل کرایا جائے اور والدین کی عزت مجروح ہونے سے بچایا جاسکے اور اس کے لئے ہر بیٹے اور بیٹی کو اپنے والدین کی عزت و خدمت کرنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنی چاہیے کیونکہ جب تک ہم خود جو کہتے ہیں وہ نہ کریں تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ دوسروں پر تنقید کریں ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *