جَب چِڑیاں چُگ گیں کهیت

Untitled1
تحریر سِنگے حَسنین سَیرِنگ
سوات کی طرح گلگت بلتستان کی معیشیت کا انحصار بهی سیاحت پر هے. اس خطے کو سیاحوں کی جنت کها جاتا هے. یهاں دنیا کے اونچے ترین پهاڑ ،جن میں کے ٹو بهی شامل هے، لمبے ترین گلیشیر، دیوسائی کا میدان اور چین اور مشرقِ وسطی کو ملانے والی شهراے ریشم موجود هیں جو هزاروں ملکی اورغیر ملکی سیاحوں کی کشش کا باعث هیں. اسی لیے جب ۲۳جون کو طالبان نے غیر ملکی سیاحوں پر حمله کر کے دس افراد کو قتل کیا تو اس حادثه کو مقامی معشیت کے لیے ایک دهچکا قرار دیا گیا. لوگوں نے طالبان کے خلاف جلوس نکالے اور دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی که طالبان گلگت بلتستان کے لوگوں کی ترجمان نهیں اور مقامی لوگوں کا طالبان نظریه یا کارواءیوں سے کوئ تعلق نهیں
.
لیکن حقیقت یه هے که طالبان کے همدرد هشتگرد گلگت بلتستان میں کافی عشروں سے حرکت میں هیں اور مقامی لوگوں میں طالبان کا اثر رسوخ بہت بڑه چکا هے. روزنامه محاسب کے مطابق خودکش بمباروں کی تربیت کرنے والے طالب کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع استور سے هے. نیز گلگت بلتستان سے کثیر تعداد میں لوگ طالبان کے ساته شامل هو گیے هیں جنهوں نے وزیرستان کے کیمپوں میں تربیت حاصل کی هے.شدت پسند شیعه سنی اور شیعه نوربخشی اختلافات کو بنیاد بنا کر مقامی لوگوں کو ورغلاتے هیں اور ان کے بچے اپنے مدرسوں مے داخل کرتے هیں. نیز حکومت دباءو میں آکر ان لوگوں کے خلاف ایکشن نهیں لیتی. اور یه که گلگت میں دهشتگردی کے کیی واقعات میں یه گروه ملوث هے. مزید برآں طالبان نے اس خبر کی بهی تصدیق کی هے که ان کے نیے نماءندهِ خصوصی خالد بلتی المعروف محمد الخراسانی کا تعلق بهی گلگت بلتستان کے ضلع گاںگچهے سے هے. یه تمام عوامل اس بات کی نشندهی کرتے هیں که دهشتگردی کے واقعات رکنے کی بجاے مزید بڑهیں گے اور طالبان کا اس علاقے میں وجود طویلل مدّتی چیلنج هے جسے چهپانے سے یا نظرانداز کرنے سے حل نهیں کیا جا سکتا
.
مقامی طالبان گلگت بلتستان کے اکثریتی لوگوں کی نماءندگی تو نهیں کرتے مگر اس بات سے بهی انکار نهیں که ان کی پیداوار انهی مدرسوں اور تربیتی مراکز میں هوتی هے جو گلگت بلتستان کے لوگوں کی رضامندی سے مختلف وادیوں میں قایم هیں اور جن کو پاکستان کی عسکری اداروں کی سرپرستی حاصل هے.
ا مریکه میں ۹۱۱ کے حملوں تک یه مدرسے پورے علاقے میں پهیلے هوے تهے. غریب لوگ خوشی خوشی اپنے بچوں کو ان مدرسوں میں داخل کراتے تهے کیوںکه ایک طرف اس سے ان کی غربت میں کمی آتی تهی تو دوسری طرف یه اسلام اور پاکستان کی خدمت کا آسان ذریعه بهی تها. نیز افغانستان اور بهارت میں جهاد کے لیے اپنے بچے بهیجنے سے افواج پاکستان کے ساتهہ اظهارِوفا داری کا حق بهی ادا هوتا تها. یعنی اک تیر سے کیی شکار. پاکستان کی خدمت اور خدا کی خوشنودی ساته ساته مل رهی هو تو کون انکار کرے؟

خالد بلتی بهی انهی طلبا میں شامل تها جو بعد میں اعلی تعلیم کے لیے کراچی بهیجا گیا اور پهر اسی شهر کے جامعہ فاروقیہ میں مدرّس کے فراءیض انجام دینے لگا
.
سوال یه پیدا هوتا هے که اگر تحریکِ طالبانِ پاکستان اس ملک کی دشمن هے تو اس کے همدرد مدرسے ملک کے شهروں میں آزادی سے کس طرح چل رهے هیں؟ نیز طالبان کے همدرد طلبا اور سیاسی کارکن جب هزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اجتماع کرتے هیں تو ان کو روکنے والے کهاں چهپ جاتے هیں؟ یه کون لوگ هیں جو حکومتی سرپرستی میں ملک دشمن عناصر کو وجود فراهم کرتے هیں؟

گلگت بلتستان کے لوگوں نے ان مدرسوں اور تربیتی مراکز کو اس لیے قایم هونے دیا کیونکہ همیں پاکستان کے خفیہ اداروں اور افواج سے محبت هے. هم ان کو نا نهیں کر سکتے کیونکہ هم ان کے مقاصد کو اپنے مقاصد سمجهتے هیں. ان تربیتی مراکز میں موجود جهادیوں کے ذریعے افغانستان اور بهارت میں کاروائیاں کرنا اور ان ممالک کو نقصان پهنچانے کو هم اسلام اور پاکستان کی خدمت سمجهتے هیں. هم نے اسی جزبے کے تحت اپنے بچے اس آگ میں جهوںک دیے. اس طرح کر کے پاکستان کو استحکام تو حاصل نه هوا مگر هم نے گلگت بلتستان کا امن تباه کر دیا. همارے مدرسوں کے پڑهے بچے بهارت اور افغانستان سے جنگ تو نا جیت سکے مگر واپس آکر گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کے نام پر اپنے هی لوگوں کا قتلِ عام کیا اور اس امن کے گهوارے کو جهنم بنا ڈالا.

همیں سوچنا یه هے که اپنے هی گهر کو آگ لگا کے بهلا پاکستان کی خدمت کیسے هو سکتی هے؟ همیں یه سوچنا هے که اپنے معاشرے کو مزهب کے نام پر تقسیم کر کے پاکستان کی ترقی کیسے هو سکتی هے؟ اور اپنے علاقے میں ایسے مدرسوں کے قیام سے ،جهاں بچوں کو قتل و غارت کی ترویج هوتی هو، بهلا اسلام کی خدمت کیوں کر هو سکتی هے؟

اب بهی وقت هے که مقامی لوگ متّحد هو کر ان مدرسوں اور تربیتی اداروں کو بند کرائیں اور عسکرئیت پسندی سے بےزاری کا اظهار کریں. اگر حکومتی ادارے یه سنٹر بند نهیں کرتے تو کم از کم هم اپنے بچوں کو یهاں داخل کرنے سے باز آسکتے هیں. اسلام کے نام پر فتوحات اور قتلِ عام سے هم نے اپنے مذهب کو بدنامی کے سوا کچه نهیں دیا اور اس بات کا احساس جتنی جلدی هو، یه همارے علاقے اور آیئنده کی نسلوں کے لیے باعثِ نجات هو گا. مزید دیر کی تو هاته ملنے کے سوا کچه نه هو پایے گا

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *