ہم کون؟

habib
میں نے اپنے عمر کے 22سال دیکھے ہیں روز کی معمول کی طرح اس دن بھی میں آفس پہنچ کر سب سے پہلے انٹرنٹ پر اخبار ات سرچ شروع کیا سکرین پر سُرخی دیکھ کر کہ گلگت بلتستان پاکستان کاآئینی حصہ نہیں وزیر اطلاعات و نشریات کا یہ بیان قومی و علاقائی اخبارات میں تفصیلی اور چند ایک میں شہ سرخی و سرخی کے ساتھ شائع کیا تھا جی بی کے عوام پر طمانچہ بنکر زناٹے دار خبر نے جسم میں دوڑتے گرم خون کو ابل اُٹھنے پر مجبور کر دیا دسمبر کی خون جما دینے والی سردی کا اثر جاتا رہا۔نظرخبر اور وفاقی وزیر کی تصویر پر جمائے میں گہری سوچ میں پڑ گیا ۔میرے ذہین میں میرے ایک استاد محترم کی بات تیزی سے گردش کرنے لگا جو اکثر کہا کرتے تھے گلگت بلتستان والوں کی مثال ایسی عورت کی سی ہے جو کسی صورت ایسی مرد کو کھونا نہیں چاہتا جو کبھی بھی اسے اپنانا نہیں چاہتا۔گلگت بلتستان کو1948ء سے آج تک پاکستان نے قبول نہیں کیا ۔ میں اپنی کم علمی کے باوجود ہمیشہ استاد کی اس با ت سے اتفاق نہیں کرتا اور اپنی طور پر ٹوٹی پھوٹی دلائل دیتالیکن آج تمام دلیل دھری کی دھری رہ گئی ۔آج میں اپنے استاد سے شرمندہ ہوں جو میں اس کی بات سے اتفاق نہیں کرتا تھا مجھے مجبوراً اپنے استاد محترم کے اس موقف میں ہاں سے ہاں ملانا پڑا جب ایک وفاقی وزیر نے یہ کہا کہ گلگت بلتستا ن کی آئینی حیثیت ہی نہیں تو عدالتی فیصلہ کیا معنی رکھتا ہے ؟جب پوری پاکستانی قوم کی نمائیدگی کرنے والے اشرفیہ کا یہ بیان ایک مساوی صوبے کے عوامی اور نظام عدل کی توہین نہیں ؟ آج گلگت بلتستان میں پڑھے لکھے اور باشعور طبقے میں یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ڈوگروں کے بعد راجاوں اور اب پاکستان کی نو آبادیاتی نظام ہم پر لاگو کر کے ہم پر پاکستان کی بیوروکریسی تھوپی جا رہی ہے اگر ہم آئینی و قانونی پاکستان کا حصہ نہیں توہم پر دیگر صوبوں کی بیوروکریٹ یہاں اسسٹنٹ کمشنر تک کیوں تعین ہیں اگر ہمیں آج بھی اسی طرح نظر انداز کرتے رہے تو جلد گلگت بلتستان کے عوام بھی اپنی نئی منزل کیلئے سوچنے پر مجبور ہونگے ۔جو پاکستان کے لئے باعث تقویت ہرگز ثابت نہ ہو گا۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *