اور پاکستان دولخت ہو گیا

saeedu
کیوں لب سلے ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعید الر حمان
اصغر نیم بیہو شی کے عالم میں بستر پر پڑا تھا ایک طرف جنگ میں ہونے والے زخموں کے درد نے اس کو بے حال کیا ہوا تھا تو دوسری طرف ماضی کی کچھ تلخ یادیں اس کو ڈس رہی تھیں اس کو جنگ کے میدان کا ایک ایک لمحہ یاد آرہا تھا اس کو وہ وقت بھی یاد آرہاتھا جب وہ فوج میں بھرتی ہو کر وطن کی سلامتی کیلئے مر مٹنے کی قسم کھارہا تھا مگر آج وہ شرمندہ تھا کہ اس نے اپنی اس قسم کو توڑدی اور اپنے ملک کی سلامتی کیلئے کچھ بھی نہ کر سکا سوائے زخمی ہو کر بستر میں لیٹنے کے ۔ایسے ہی کئی اور تلخ حقائق تھے جو اس کو ایک ایک کر کے ڈس رہے تھے مگر دھیرے دھیرے اس کے ہوش بھی آرہا تھا اور کافی وقت گزرنے کے بعد آخر اصغر کو ہوش آیا تو وہ چونک اٹھا یہ دیکھ کر کہ بستر کے قریب ہی بینچ پر بیٹھا انڈین آرمی کا کوئی آفسر تھا جس کے سر پر پگڑی تھی اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ انڈین آرمی کا کوئی سکھ افسر ہے ۔اصغر کے ذہن میں اس وقت کئی خیالات پیدا ہو رہے تھے مگر ایک بات تو اس کو صاف پتا تھی وہ یہ کہ جس ہسپتال میں وہ زیر علاج ہے اس کے ارد گرد انڈین آرمی کا محاصرہ ہے اور اس کے بھاگنے کا کوئی چانس باقی نہیں رہا ہے ۔اتنے میں اس افسر کی آواز اصغر کے کانوں سے ٹکرائی ۔اس آواز کے کانوں سے ٹکرانے کی وجہ سے اصغر خیالات کی دنیا سے نکل آتا ہے اور اس فوجی کی طرف دیکھتا ہے ۔وہ افسر کہتا ہے مجھے معلوم ہے اس وقت آپ پر کیا گزرتی ہوگی مگر اس میں آپ اور آپ کے ساتھیوں کا کوئی قصور نہیں ۔آپکو تو فخر ہونا چاہیے کہ آخری حد تک اپنے ملک کی سلامتی کیلئے آپ نے اپنی جان کی بازی لگائی مگر قسمت میں یہ سب رائیگاں لکھا ہوا تھا اور رائیگاں اس لئے نہیں کہ آپ کی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے بلکہ اس لئے کہ آپ کے ملک کی نا اہل قیادت کی غلط پالیسیاں اس کی اصل وجہ رہیں ۔جس نے اپنی فوج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا اگر پیچھے سے آپ کو سامان رسد بہم پہنچایا جاتا توفتح آپ کی یقینی تھی ۔نہ ہی ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگتا اور نہ ہی آج آپ کے ملک کو دولخت ہونا پڑتا ۔ آپ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ جلد ہی آپ کو واپس آپ کے ملک روانہ کیا جائے گا ۔یہ الفاظ اس انڈین آرمی کے ایک سکھ افسر کے تھے جو 1971 ؁ء میں پاکستان کے دولخت ہوتے وقت اپنی آرمی کے ہر اول دستے کا کمانڈر تھا ۔ اصغر ان پاکستانی سپاہیوں میں سے تھا جو 1971 کی جنگ میں انڈین آرمی کے ہاتھوں زخمی ہوے تھے۔
قارئین ! پاکستان کے دولخت ہونے کے پیچھے پاکستان کی اس وقت کی نا اہل قیادت کا ہاتھ تھا اس بات سے تو میرے خیال میں کوئی بھی اختلاف نہیں رکھے گا ۔اس وقت کی قیادت میں جانا پہچانا ایک نام ذولفقار علی بھٹو کا تھا جنہوں نے الیکشن کے کچھ ہی دنوں بعد ایک ایسا نعرہ لگایا جس نے پاکستان کی تاریخ کو نیا رخ دیا ۔لاہور کے مینار پاکستان کے سائے تلے ہی ذولفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان )کی عوام کو جمع کر کے بڑے جوش سے کہا تھا ’’ادھر ہم ادھر تم ‘‘ ۔ اس وقت کے الیکشن میں مغربی پاکستان سے ذولفقار علی بھٹو صاحب نے جبکہ مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الر حمان نے بھاری اکثیرت میں کامیابی حاصل کی اور اگر دیکھا جائے تو شیخ مجیب الر حمان نے ذولفقار علی بھٹو صاحب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں اس لئے وزیر اعظم بننا انہی کا حق بنتا تھا مگر ذولفقار علی بھٹو صاحب کو ان کا وزیر اعظم بننا پسند نہ تھا اس لیئے مینار پاکستان کے سائے میں مشرقی پاکستان کی عوام اور رہنماؤں کے خلاف ایک پرجوش خطاب کیا جس سے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کی عوام طیش میں آگئی اور انہوں نے پاکستان کی مخالفت میں نعرے لگانا شروع کیا اور اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کی ایک شدت پسند تنظیم مکتی باہنی نے پاکستانی فوجیوں کی وردی پہن کر پاکستان کے حق میں جو لوگ تھے ان کے گھروں میں گھس کر ان کے مردوں کے سامنے انکی ماں بیٹیوں کی عصمت دری کی جس سے تمام بنگلہ دیشی عوام مشتعل ہوگئی اور پاکستانی فوج کے خلاف بھی نعرے باز ی شروع کردی اور جہاں جہاں پاکستانی فوجی نظر آتا اس کو پکڑ کر زندہ جلایا جانے لگا ۔مگر اس مشکل وقت میں اس مشتعل عوام کے سے پاکستانی فوج کی حفاظت اور پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے کیلئے کچھ نوجوان اکھٹے ہوئے اور انہوں نے اپنی ایک تنظیم بنا ئی جس کو تاریخ البدراور الشمس کے نام سے جانتی ہے ۔جب کبھی پاکستان کی تاریخ میں1971 کی جنگ کا ذکر ہوگا تو وہاں الشمس اور البد ر کے کردار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ایک دن کچھ کالج اور یونیورسٹی کے طلباء پاکستانی فوجی چھاؤنی میں گئے اور کرنل سے ملاقات کر کے باہر کی تمام معاملات سے ان کو آگاہ کیا اور ان کو یقین دلایا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں جس طرح بھارت کی شدت پسند تنظیم مکتی باہنی پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے یہاں کی عوام کو اشتعال دلا رہی ہے ہم اس کے مقابلے کیلئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے کیلئے تیار ہیں ۔انہی طلباء نے پاک فوج کے شانہ بشانہ ملک کے دفاع کیلئے کوششیں کیں مگر پاکستان کی نا اہل قیادت اور بیرونی سازشوں نے پاکستان کی تقسیم میں کلیدی کردار ادا کیا ۔انہی طلباء میں سے ایک عبد القادر ملا تھا جس کو موجودہ بنگلہ دیشی حکومت نے بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں پاکستان کا ساتھ دینے اور اپنے ملک سے غداری کا مرتکب ٹھہرا کر سزائے موت دی ،اس کے علاوہ مطیع الرحمان نظامی بھی اسی نوجوان دستے کے ایک اہم رکن تھے جس نے پاکستان کی سلامتی کیلئے جی جاں نے کوششیں کیں مگر ان کی کوششیں رائیگاں گئیں اور پاکستان دولخت ہو ہی گیا ۔اسی مطیع الر حمان نظامی کو بھی پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہے اور نہ جانے کب ان کو بھی پاکستان سے محبت کرنے کی سزا دی جائے گی۔عبد القادر ملا کے پھانسی کی سزا کے خلاف پاکستان بھر میں احتجاج ہوئے اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل ک یگئی کہ وہ اس معاملے پر اپنے لب کھولے اور کچھ تو ان پاکستان کے جیالوں کے بارے میں کہے ۔مگر کافی عرصے تک تو جناب نواز شریف صاحب کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکلا مگر جب بولے تو اتنا ہی کہ یہ بنگلہ دیش حکومت کا اندرونی معاملہ ہے ہم اس پر کچھ نہیں کہہ سکتے ۔یہاں تو ایک کہاوت بڑی سوٹ کرتی ہے کہ نہ بولے نہ بولے، جب بولے تو منہ پھاڑ کے بولے ۔
قارئین ! مملکت خدادا دپاکستان آج پھر 1971 ؁ء کی یاد تازہ کر رہا ہے ۔وطن عزیز کی اندرونی حالت بہت زیادہ تشویشناک ہے ہر طرف انتشار ہی انتشار ہے حکمران بھی بدلے نہیں ہیں وہی ہیں جو اس وقت تھے فرق ہے تو صرف اتنا کہ اس وقت ان کے باپ داد احاکم بنے بیٹھے تھے اور آج انکی اولادیں حکمران بنے ہوئے ہیں ۔ہر سیاسی پارٹی اپنے مفادات کے حصول کیلئے دوسری سیاسی پارٹی کی خوب ٹانگ کھیچتی ہے مگر جب باری اس کو ملتی ہے تو وہ بھی انہی کی راہ پر چل دیتے ہیں جن کی یہ خود ہر وقت ٹانگ کھیچتے رہتے تھے ۔ایک طرف بلوچستان کی عوام پاکستانی حکومت سے ناراض بیٹھی ہوئی ہے تو دوسری طرف قبائلی علاقوں میں امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کے نام سے اپنی من مانی کر رہے ہیں ۔آئے دن کہا جاتا ہے کہ فلاں علاقے میں ایک کے اندر شدت پسند بیٹھے تھے جہاں امریکہ نے ڈرون گرایا اور ان کو ماردیا مگر میرا سوال یہ ہے کہ صرف مسجد اور مدرسے ہی کو ڈرون کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے ۔اول تو مساجد و مدارس میں شدت پسند نہیں ہوتے اگر ہوتے بھی ہیں تو وہ شدت پسند نہیں بلکہ قرآن پڑھنے والے طلباء ہوتے ہیں جو اپنے دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اس بات کا خطرہ لاحق ہے کہ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے اور پانچ وقت کے نمازی مسلمان ہی اس کو شکست دے سکتے ہیں جس کی ایک مثال اسامہ بن لادن اور ملا عمر ہیں جنہوں نے افغانستان میں امریکہ کی قبر بنائی ہے جن امریکہ خود کو چھڑوانا چاہتا ہے مگر اس کو راستہ نہیں مل رہا ٹھیک اسی طرح وہ پاکستان میں بھی قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو ڈرون کا نشانہ بنا رہا ہے تا کہ پاکستان بھی اس کے لئے افغانستان نہ بنے ۔
آج وطن عزیز جس چیزکا تقاضہ ہم سے کرتا ہے وہ یہ کہ آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہیں اور آپس کی نفرتوں کو بھلا کر ایک صف میں کھڑے ہوں اسی میں ہمارے ملک کی سلامتی ہے اور اسی میں رہتے ہوئے ہم دنیا کی ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں ۔ورنہ ٹولیوں میں بٹے رہیں گے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان مزید ٹکڑوں میں بٹ جائے یا پھر ہمیں ایک اور سقوط نہ دیکھنا پڑے ۔اور ہم ایک بار پھر غلامی کی دلدل میں گر جائیں ۔اسلئے ہمیں ملک کی سلامتی و بقا کیلئے کوششیں کرنی چاہیے اور پھر سے البدراور الشمس کی یاد تازہ کرنی چاہئے تا کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ہم ڈٹ کر مقابل کر سکیں اور پاکستان کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے ۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *