ذہنی تناؤ کی روک تھام میں مذہب کا کردار

sosttoday اسکندر اعظم کی یہ روایت آپ نے سنا ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے طاقتور حکمرانوں میں سے ایک تھے جس نے دنیا میں اپنی سلطنت کی پھیلاؤ کے لئے ہر وہ عمل کیا جس کی ضرورت پڑی ۔ اپنی حکمرانی کی مستی میں دوت یہ شخص نہ صرف سرحدی حدود بلکہ مال ودولت کے اضافے کے لئے بھی زندگی بھر ہاتھ پاؤں مارتا رہا۔ ان کو سب کچھ مل گیا ۔ اس جوش میں وہ بہت ظلم بھی کرگئے۔ اخرکار ایک دن اس کی کہانی اپنی انتہا کو پہنچی اور ایک دلچسپ وصیت منظر عام پر آئی۔ ’’جب میں مر جاؤں تو جہاں میری قبر بناؤ گے میرے محل سے وہاں تک کے راستے میں میری تمام دولت وجواہرات بکھیردینا اور میری تابوت سے میرے ہاتھ باہر نکال کے لے جاؤ تاکہ لوگ دیکھ سکے‘‘۔
سب حیران تھے۔ اُن کے وزیر آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے کہ اخر اسکندر اعظم چاہتے کیا ہیں؟ ایک وزیر بہت ہوشیار تھا بڑی احتیاط سے بولے’ اصل میں موصوف یہ بتانا اور دیکھانا چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ کیا‘جو کمایااور جتنی شہرت پائی آج سب کچھ چھوڑ کے خالی ہاتھ جا رہا ہوں۔ نہ صرف اسکنداعظم بلکہ ہزاروں لوگ اس دنیا میں بہت کچھ کر گئے لیکن وہ اپنی زندگی سے مطمعین نہیں ہوئے۔اگر اتنا کچھ کرکے بھی خالی ہاتھ جانا ہی تھا تو دنیا میں انسان ذہنی تناؤ اور کشمکش کا شکار کیوں ہے؟
ذہنی دباؤ اور تناؤ آج کل کی دنیا میں معمول کی بات ہے۔ ماہرین کے مطابق تناؤ سے مراد ہے کہ
Stress is the body\'s nonspecific response to a demand placed on it.( Hans Selye)
Stress as a condition or feeling experienced when a person perceives that demands exceed the personal and social resources the individual is able to mobilize. ( Richard S. Lazarus)
Nervous tension those results from internal conflicts from a wide range of external situations. (D\' Souza)
ذہنی تناؤ Mental stressایک کیفیت کا نام ہے جو انسان کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے اور تقابلے کی فضا میں رکھتی ہے۔ ہماری زندگی میں ذہنی تناؤ کے مثبت اور منفی دونوں صورتیں موجود ہے۔ اگر ایک شخص محنت مزدوری اور ترقی کے لئے مضطرب ہیں تو اُن کی ذہنی تناؤ کچھ اور ہوگی بمقابلہ اُن کے جو محض خالی رہا کرتے ہیں۔ آج کل کی دنیا میں وسائل اور مسائل میں توازن نہیں ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اسکندراعظم کی کہانی سنائی اگر دنیا کے سب سے مال دار اور دولت مند آدمی کی اخری حالت یہ ہے تو ہمیں اپنی زندگی کو اپنی زیادہ سخت تناؤ میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟
ذہنی تناؤ مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ طالب علموں کی ذہنی تناؤ کی وجوہات میں امتحانات‘ مشقوں کی محدود وقت‘ پڑھائی کا بوجھ‘ کلاس میں ساکھ کی بحالی‘ اعلیٰ نمبروں کی فکر‘ وقت کی صحیح تنظیم‘ سکول سے باہر کی سرگرمیاں‘ رہائش کے مسائل(ہوسٹلوں میں)‘ کلاس میں زیادہ شور‘ زیادہ ہجوم‘ ذاتی تعلقات اور یاری دوستیاں‘ گھریلو مسائل اور تقاضے‘ رنگ برنگ کے کپڑے‘ سکول بیکوں کی نئی نئی فیشن‘ امیر دوستوں کے قیمتی چیزیں‘ اُن کی چمکتی کاریں اور گاڑیاں‘ والدین کی نیتیں اور تقاضے‘ اچھے نتائج کے امیدیں اور میڈیا کی لطائف مثلاََ آن ائیر کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کے لئے وقت نکالنا‘ مذہبی پروگرام ‘ بحث ومباحثے‘ ڈرامے اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا اور دوستوں کے ایس ایم ایس کا ون ٹوون میں جواب شامل ہیں۔ اِن وجوہات کی وجہ سے طالب علم بہت زہادہ ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ صرف طالب علم ہی نہیں ہر پیشہ ور آج کل کسی نہ کسی تناؤ کا شکار ہے۔ امیر لوگ ایک دوسرے کی دولت سے تناؤ کا شکار ہیں۔ غریب غربت سے۔ اس طرح کاروباری لوگ اپنے سرمائے کی وجہ سے ہمیشہ تناؤ میں رہتے ہیں۔ مقابلے کا یہ رجحان ہمیشہ ان کو چین سے رہنے نہیں دیتا۔آفیسران ایک دوسرے کی وجہ سے بے سکون ہیں۔ حکمرانون کی زندگی بھی ہمیشہ متاثر ہے۔ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سول ملازم‘ فوجی‘ سفارتکار‘ سیاستدان‘ دانشور‘ سماجی کارکنان اور مذہبی لوگ بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ دانشور اور نفسیات دان بھی اس میدان میں متاثر ہیں۔ الغرض ذہنی تناؤ آج کل ایک فیشن بھی بن گئی ہے۔ یہ مقابلے کا زمانہ ہر میدان کے لوگوں میں تناؤ پیدا کرچکا ہے جس کی ترویج میڈیا پر ہوتی ہے۔ امیر لوگ کھانے پینے سے محروم اور غریب لوگ کھانے پینے سے دور ہوچکے ہیں۔
ان تما معاملات کا ہماری زندگی پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جیسے کہ؛
جسمانی محرکات: دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے خون کا فشار ہوتاہے۔ جوڑوں کادرد‘ سر میں درد‘ بے قراری کی کیفیت‘ نیند کا نہ آنا‘ منہ کا خشک ہونا‘ ہضیمہ میں درد‘ چھوٹی چھوٹی باتوں میں غصہ آنا‘ لڑنے جھگڑنے کا رجحان‘ ہاتھ پاؤں کا سوجھنا وغیرہ وغیرہ۔
ذہنی محرکات: جہاں اس طرح کی صورتحال میں ہم جسمانی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں وہاں ذہنی تناؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہماری سوچ اور خیال میں تذب زب کا پیدا ہونا‘ کنفیوز ہونا‘ بھول جانا‘دکھی رہنا‘ منفی سوچ میں مسلسل اضافہ ہونا یہ تمام وجوہات صرف اور صرف ذہنی تناؤ کی وجہ سے رونما ہوتی ہے۔ اِن وجوہات کی وجہ سے لوگ مسلسل زندگی سے بیزاری اور زندگی کی خاتمے کو ہی اپنی بھلا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔
جذباتی مسائل: اس تناظر میں مختلف لوگ مختلف انداز سے متشکل نظر آتے ہیں۔عموماََ ایسے لوگ نااُمید‘ بے یارومددگار‘ ناخوش‘ جذباتی اور ڈیپرس نظر آنے کے ساتھ ساتھ خوف‘ ڈر‘ بے چینی‘ بے آرامی‘ مشکوک‘ متذب ذب‘ مایوس‘ غیر محفوظ رویوں کا شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ دوسرے لوگوں کے لئے منفی سوچ‘ لاتعلقی‘ انفرادی سوچ‘ میں ہی جیو ‘ پارٹی بازی‘ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا‘ غیر اخلاقی مظاہرے‘ اجتماعی کاموں سے دوری اور نفرت کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔
ذہنی تناؤ سے نجات: ہر مسئلے کا حل موجود ہوتاہے ضرورت اس امر کی ہے کہ آدمی اپنی اس طرح کی بیماری سے کتنا سنجیدہ ہے۔ مثبت سوچ اور زندگی کا سفر امید اور کامیابی کی راہ پہ ڈالنابہت ہی آسان ہے۔جسمانی لحاظ سے ورزش اور کھیل کھود میں حصہ لینے سے ان چیزوں سے کافی حد تک نجات مل جاتی ہے۔ اپنے مسائل کو اپنی حد تک رکھنا ہر مسئلے کا بروقت حل نکالنا‘ کسی ماہر سے مشاورت کرنا‘ زندگی مقابے میں گزارنے کی بجائے اپنی حد کو سمجھنا دوسروں سے سیکھنے کی بجائے حسد اور بغض میں جلنے سے کیا ہوگا۔ اپنے اوپر اعتماد رکھنے سے زیادہ تر بیماریاں خود رفع ہوجاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگ عموماََ میڈیا یا سیر سپاٹے سے سبق کم ناامید بہت ہوتے ہیں۔ ان کی ایک وجہ ہرایک کے ساتھ ذاتی مقابلہ ہے۔ دیہات کے لوگ عموماََ شہر جانے کے بعد اپنی زندگی سے مایوس ہوجاتے ہیں اور اپنے گاؤں اور خاندان کو محض اس لئے چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ ’’اُن‘‘ کی لیول کا نہیں۔ بعض لوگ اپنی نسل اور والدین تک اس لئے نفرت کرتے ہیں کہ وہ دورسرے لوگوں کے برابر کیوں نہیں؟ معاشرے میں کئی ایسے لوگ ملتے ہیں جو اپنے والدین سے شکوہ کرتے پھرتے ہیں کہ انہوں نے اُن کو کیا دیا ہے؟ اُن کی غربت سے نجات حاصل کرنے کے لئے رشتے ہی توڑ دیتے ہیں۔ اجتماعی ترقی کی بجائے انفرادی ترقی کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے نصف خاندان کچھ اور نصف کچھ اور ہوجاتا ہے۔ ان معاملات کی وجہ سے خاندانی زندگی مفلوج ہوچکی ہے۔ رشتے ماندھ پڑ گئے ہیں۔ اپنی ثقافت’ دین اور ذات بُری نظر آنے لگی ہیں۔ مقابلے کی یہ فضا مثبت ہونے کی بجائے منفی سطح پر آگئی ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں کے لوگ مغرب یا مشرق کے امیر ملکوں سے بہت متاثر ہیں اس طرح انفرادی سطح پر لوگ ایک دوسرے سے مثبت پہلوؤں پر کم اور منفی پہلوؤں پر زیادہ حاسد ہیں۔ دین اسلام میں ناامیدی کفر ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ
’’اور ہم لوگوں کو اُن کے مال‘ جان ‘ پھلوں کی کمی ‘ بھوک اور خوف سے ضرور آزمائیں گے اورصبر والوں کو خوشخبری سنا دو اور اُن کو جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ اے اللہ ہم تیری طرف سے آئیں ہیں اور تمہاری طرف پلٹنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور دورود ہے اور یہی لوگ صحیح راہ پر ہے۔(البقرہ: ۱۵۵۔۱۵۶)
پس اس بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں دنیامیں متوازن زندگی گزارنے کی سعی کرنی چاہئے تاکہ ہر حالت میں دین اور دنیا کو ساتھ لیکر چلیں بلے ہم اپنی زندگی میں کتنی ہی دباؤ میں کیوں نہ ہو۔ ذہنی دباؤ سے نجات کا یہ بہترین حل ہوسکتا ہے ہم دین کی طرف متوجہ ہو اور اپنے اعمال صراط المستقیم میں ڈال دے یہی وہ راستہ ہے جہاں کوئی تناؤ اور بے سکونی نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ذہنی تناؤ کی کمی میں دین مددگار نہیں ہوسکتی ؟
وہ کتابوں میں درج تھاہی نہیں
جو پڑھایا سبق زمانے نے!!

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *