بے بدل مؤرخ

تحریر:عبدالحفیظ شاکرؔ
دورِ جدید معلومات کا دور ہے ۔ معلومات کے حوالے سے ماڈرن ٹیکنالوجی ایک موثر ذریعہ ہونے کے باوجود کتاب حصول علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ علم واقعی سمندرکی مانند ہے ۔ کتاب کے علاوہ حصولِ علم کے جتنے بھی ذرائع ہیں ان کی مثال سمندر کے کنارے بیٹھ کر موتیاں تلاش کرنا ہے ۔ جب کہ کتاب کی مدد سے انسان سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوتا ہے ۔ اور مستند کتاب کی تیاری اگر مشکل نہیں تو آسان بھی نہیں ۔ اس کے لئے انتہائی عرق ریزی سے کام کرنا پڑتا ہے ۔ تحقیق و جستجو کے لئے مستند کتابوں کی ورق گردانی کے صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ مختلف معلومات کو یکجا کرنا ، پھر ان کی چھان بین کر کے مستند مواد فراہم کرنا یقیناًبہت بڑا جہاد ہے ۔ میرے بڑے بھائی شیر باز علی خان برچہ ؔ یہ جہاد کر چکے ہیں ۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ وہ غیروں کے بارے میں پڑھنا ، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا باعثِ فخر سمجھتا ہے ۔ لیکن چراغ تلے اندھیرے کے مصداق خود اپنے بارے میں پڑھنا اور لکھنا عیب سمجھتا ہے ۔ اس لئے ہمارا معاشرہ احساسِ کمتری کا شکار ہے ۔ ویسے بھی مشہور ہے کہ پہاڑی لوگ تنگ نظر ، جاہل ، گنوار اور ان پڑھ ہوتے ہیں ۔ پہاڑوں کے درمیان بسیرا کر نے والوں کاذہن بھی تنگ ہوتا ہے ۔ لیکن یہ بات شاعرِ ہر زماں کے اس خوبصورت شعر کے بالکل برعکس ہے کہ ؂
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی
خدا بھلا کر ے برچہ صاحب کا کہ جس نے احساس برتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے گلگت بلتستان کی عوام کو شعور و آگہی کا احساس دلا کر اُن کو خود اُن کا عکس دکھا نے کی کوشش کی ہے ۔ کہ دیکھوتم کسی سے پیچھے نہیں ہو۔ تمہارا علاقہ دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے ۔ خوبصورت وادیوں ، فلک بوس پہاڑوں ، تلاطم خیزدریاؤں ، جھیلوں، نالوں اور سر سبز و شاداب سبزہ زاروں پر مشتمل یہ خطہ جنتِ نظیر ہے تو یہاں کے بسنے والے لوگ بینظیر ۔ لہٰذا اس خوبصورت علاقے کے بارے میں ایک خوبصورت معلوماتی کتاب کی اشد ضرورت تھی جس میں اس علاقے کے بارے میں تمام تر معلومات موجود ہوں اور تشنگان علم کے لئے ان کی دلچسپی کے مطابق موادبھی ہو۔ اپنے قارئین کو یہ بات بتاتے ہوئے طمانیت محسوس ہوتی ہے کہ معلومات کی ایک جامع کتاب (عکس گلگت بلتستان)جس کو ہم گلگت بلتستا ن کا انسائیکلو پیڈیا بھی کہہ سکتے ہیں کو برچہ ؔ صاحب نے بڑی عرق فشانی اور محنت شاقہ کے بعد چھپوا کر منظر عام پر لایا ہے ۔ یقیناًعکس گلگت بلتستان معلومات کا ایک خزینہ ہے ۔ موصوف نے اجمالی طور پر پوری دنیا اور تفصیلی طور پر گلگت بلتستان کے حوالے سے تمام معلومات قلمبند کر کے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر لی ہے ۔ اس سے پہلے ایسی کوئی کتاب منظر عام پر نہیں تھی ۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ حب الوطنی ہر انسان کے لئے لازمی امر ہے ۔ کیونکہ وطن سے ہی کسی انسان کی پہچان ہوتی ہے ۔ اور وطن کے لئے ایک محب وطن ہی تن ، من ، دھن قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے ۔ وطن سے محبت ایک پاکیزہ اور خوبصورت جذبہ ہے ۔ خود سرورِ کائنات ﷺ اپنے وطن کے لئے دعا فرمایا کرتے تھے کہ \"اے اللہ !ہمارے ملک میں برکت ، شادابی اور امن رکھ دے \"۔ سرکارِ دوعالم ﷺ کی اس خوبصورت دعا کے الفاظ ہر ذی شعور سے اپنے وطن سے محبت اور وفاداری کا تقاضا کرتے ہیں ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو\" عکس گلگت بلتستان \"اس بات کا بین ثبوت ہے کہ فاضل مصنف کے اندر حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ حب الوطنی ہی کا جذبہ تھا جس نے فاضل مصنف کو وطن اور اس سے متعلق چیزوں کو اجاگر کرنے کے لئے اپنی خوبصورت عمر کا ایک حسین حصہ تج دینے پر مجبور کیا۔
جس طرح آج کے جدید دور میں سائنسی لحاظ سے دنیا میں بڑی سرعت سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ویسے ہی سیاسی لحاظ سے بھی تبدیلیاں اور نت نئی اصلاحات روزانہ کا معمول ہیں ۔ کیونکہ سیاسی شعور تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ سیاسی مد و جزر سے وطن کی سیاسی و آئینی حیثیت یکسر تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ چونکہ آئین کے تحت ہی حکومت کا نظم و نسق طے پاتا ہے اور شہریوں کے حقوق و فرائض کا تعین کیا جاتا ہے ۔ عصرِ حاضر بین الاقوامی رشتوں سے بندھا ہوا دور ہے ۔ دنیا ایک گلوبل ویلج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔ جس کی وجہ سے حکومتوں کا تعلق نہ صرف اپنے ملک یا علاقے سے ہے بلکہ تمام اقوام عالم سے مربوط ہے ۔ بین الاقوامی سیاسی حالات ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے سیاسی و آئینی لحاظ سے دستیاب معلومات کی روشنی میں سیاسی پہلوؤں کو اجاگر کر نا اور ان میں ضرورت کے مطابق ترمیم آئینی حق ہے ۔ چونکہ سیاسی و آئینی ارتقاء پر مبنی معلومات بھی وطن کے لئے انتہائی ضروری تھے ۔ لہٰذا موصوف نے سیاسی و آئینی حیثیت سے علاقے کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ بھی لیا ہے اور جامع معلومات بھی بہم پہنچائے ہیں ۔
راقم اس خوبصورت تصنیف کی کامیاب اشاعت پر اپنی طرف سے اور اہلِ ادب کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے حدیہ تبریک پیش کرتا ہے گر قبول افتدزہِ عز و شرف۔ اس کے ساتھ ہی اس خوبصورت اور گرانقدر تصنیف کو منظرِ عام پر لانے والے فاضل مصنف کے بارے میں کچھ نہ لکھنا حقیقت میں بے ادبی ہے ۔ اور تفصیلی طور پر مصنف کے حالات زندگی قلمبند کرنے کے لئے ایک مکمل سوانح درکار ہے ۔ یہاں اجمالاً کچھ معلومات فاضل مصنف کے بارے میں صفحۂ قرطاس کی زینت بنا رہا ہوں تاکہ خلوص اور وفا کا یہ پیکرِ مجسم ان آنکھوں کے سامنے نمایاں ہو جائے جن سے اب تک وہ اوجھل رہے ہیں ۔
عِلم ، حِلم اور حکمت اس کی گٹھی میں پڑے ہیں ۔ سب جانتے ہیں کہ یہ موتی وراثت میں کسی کو نہیں ملتے ہیں ۔ یہ دولت دردِ دل کے ساتھ جہد مسلسل کو اپنا شعار بنانے والوں کے حصے میں آتی ہے ۔ برچہؔ صاحب ایک زیرک ، کہنہ مشق اور گہری فکر کی دھیمی آنچ پر الفاظ کو اُبال اُبال کر صفحہِ قرطاس پر پیکر تراشنے والا ایک بے بدل مؤرخ ، ادیب اور اس سے بھی بڑھ کر ایک خوبصورت انسان ہیں ۔ دوستوں سے مل کر کھل اُٹھتا ہے ۔ مہمان نوازی وراثت میں پائی ہے ۔ سر آنکھوں پر بٹھانے والا میزبان ہے ۔ وہ بلا تفریقِ رنگ و نسل و مذہب خدا کے بندوں سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے ۔ انسانیت کا پرچارک ہے ۔ پہناوے میں سادگی مگر نفاست کا خُو گر ہے ۔ چال میں متانت ، گفتگو میں حلاوت ، نفاست ، شائستگی ، علمی وقار اور ادبی چاشنی کا پر تو جھلکتا ہے ۔ بلا مبالغہ جب وہ بولتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے گوہر افشانی کر رہے ہوں ۔
گزشتہ دنوں خاکسار کو قومی شاعر جمشید خان دُکھی ؔ اور حلقۂ اربابِ ذوق گلگت کے سر کا تاج جناب عبدالخالق تاجؔ کی معیت میں موصوف کے درِ دولت پر حاضری دینے کا شرف حاصل ہوا۔ گھر کو انتہائی نفاست اور خوبصورتی سے سجایا ہوا ہے ۔ انسان اگر اندر سے نفیس ہو تو اس کا عکس اس کی نشست و برخاست میں نظر آتا ہے ۔ وہ مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں ۔ میں ان کے اُس تلمیذ کا خلفِ رشید ہوں جو مجھ سے زیادہ موصوف سے محبت کرتے تھے ۔ اور کیوں نہ کرتے وہ ہیں ہی اس قابل کہ اُن کو اپنی اولاد سے زیادہ چاہا جائے ۔ ان کے بارے میں تاجؔ صاحب کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علمی قد کاٹھ کے ساتھ جتنے زمین کے اُوپر نظر آتے ہیں اتنی ہی زمین کے اندر بھی ان کی جڑیں مضبوط ہیں ۔ موصوف تحریر و تقریر میں کمال درجے کی مہارت رکھتے ہیں ۔ گفتگو ، ترتیل اور دلائل کے ساتھ کرنے کے عادی ہیں ۔ سحر انگیز شخصیت کے حامل انسان ہیں ۔ اس لئے ان کی شخصیت پر نابغ�ۂ روزگار کی ترکیب انگوٹھی میں نگینے کی طرح سجتی ہے ۔
من حیث القوم ہم مردہ پرست واقع ہوئے ہیں ۔ اور یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے ۔ ہمارے سامنے علم کے کتنے ہی ایسے آسمان تھے جنہیں زمین نگل گئی اور ہم بس چند گھسے پٹے جملوں پر ہی اکتفا کرتے رہے کہ ۔۔انسان دوست تھا۔۔بڑا آدمی تھا۔۔پڑھا لکھا تھا۔۔ ہمدرد تھا۔۔پُر امن تھا۔۔قدر نہ کر سکے ۔۔ وائے حسرت وغیرہ وغیرہ ۔ اب اس جاہلانہ روایت کو ختم ہونا چاہیے ۔ دھرتی کے ہر اس عظیم سپوت کو اس کی زندگی میں ہی وہ ستائش ملنی چاہیے جس کا وہ حقدار ہے ۔ مرنے کے بعد سینہ کوبی چہ معنی دارد!۔اس لئے حقیر اپنے اوپر واجب اس قسط کو ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ادائیگی معاشرے کے ہر ذی شعور کا فرضِ اولین ہونا چاہیے ۔
معروف ادیب اور شاعر جناب عبدالخالق تاجؔ نے موصوف کی حال ہی میں شائع ہو کر ہر خاص و عام میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والی خوبصورت کتاب \"عکسِ گلگت بلتستان\"پر عالمانہ تبصرہ کیا ہے اور خوب کیا ہے ۔ موصوف پر قلم اٹھانے کے لئے اُن کی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں پڑتی ہے کیونکہ وہ خود ایک زندہ جاوید اور کھلی کتاب کی مثیل ہیں ۔ ادبی اور علمی محفلوں کی جان ہیں ۔ موضوعات پر پوری گرفت کے ساتھ نقلی اور عقلی دلائل و براہین سے گفتگو کرتے ہیں ۔ کسی تعارف اور تعریف کے محتاج نہیں ۔ ان کا کام ہی ان کی پہچان ہے ۔ بلکہ یوں کہیے کہ وہ دھرتی کے ان چند عظیم لوگوں کی صف میں کھڑے ہیں جن کی بدولت ہم اور آپ پہچانے اور جانے جاتے ہیں ۔ ہمہ جہت ، ہمہ گیر اور ہمہ پہلو خصوصیات کے حامل یہ عظیم سپوت علمی اور ادبی حلقوں کے ماتھے کا جھومر گردانا جاتا ہے۔ جناب شیر باز علی خان برچہؔ ہیں جو 1952 ؁ء کے کسی مبارک دن کو رحمِ مادر سے منصہ شہود میں آئے ۔ جو حال ہی میں علمی خزینوں کی حفاظت کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر متلاشیانِ علم و ہُنر کو فیضیاب کر رہے ہیں ۔
برچہؔ صاحب بہ یک وقت مذہب ، تاریخ ، فلفسۂ شرق و غرب ، ادب اور کتنے ہی موضوعات ایسے ہیں جو نائبِ کائناتِ خیر و شر کے رشہاتِ قلم کی کارستانیوں کی وجہ سے قرطاس کی زینت بن کر اہلِ علم کے تابندہ ذہنوں میں جھلملا رہے ہیں پرگہری نظر رکھتے ہیں ۔
اہلِ بصیرت جانتے ہیں کہ سورج ایسے ہی تو مردہ زمین میں جان نہیں ڈال رہا ہوتا۔ اس کے پیچھے ایک نہایت ہی سربستہ راز اور فلسفہ پوشیدہ ہے ۔ سورج کے طلوع ہونے اورعروج کی آخری حد کو چھونے سے لے کر غروب ہونے تک میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے سبق پنہاں ہے ۔ اُبھرتے اور ڈوبتے سورج کا مشاہدہ کرنا آسان نہیں کیونکہ ہر دو صورتوں میں سورج آب و تاب کی مستی میں غرق ہوتا ہے ۔ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے ۔ لیکن جب عروج کے نقطۂ اتصال کو چُھوتا ہے تو کائناتِ بسیط میں جان ڈالنے والا یہ عظیم ستارہ انکساری کا پیرہن زیبِ تن کر کے ہر کس و ناکس کو دعوتِ مشاہدہ دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اور یہ بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟؟ کیونکہ سورج کو اس بات کا بھر پور علم ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے ۔ آپ بات کی تہہ تک پہنچ چکے ہونگے ۔ اس لئے مجھے اس نقطے کو مذید کُریدنے کی کوئی حاجت نہیں ۔
میرے بڑے بھائی شیرباز علی خان برچہ ؔ کا دل و دماغ بھی علم و ہُنر کے نور سے منور و مزین ہے ۔ ثریا کی مانند گلگت بلتستان کے ادبی اُفق پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک دمک رہا ہے ۔ لیکن انکساری کا عالم یہ ہے کہ مجھ سے حقیر کے قد کاٹھ کو بڑھانا ہو ، اشہبِ قلم کو حوصلہ افزائی کی چابُک دینی ہو تو \"پارکھ اور بھانپو \"جیسے قیمتی لفظوں کا تاج سر پر سجاتے ہیں ۔ موصوف کی پُشت پر درجن بھر کتابیں ، علمی موضوعات پر سینکڑوں تحقیقی مقالے ، سوانح عمریاں اور بیسیوں پُر مغز مضامین پوری شان و شوکت سے ایستادہ ہیں ۔ لیکن تواضع کا یہ عالم ہے کہ ہر کسی سے جُھک کر ملتے ہیں ۔ معترفانہ جملوں پر یوں گویا ہوتے ہیں ۔۔من آنم کہ من دانم ۔۔ فضل الرحمان عالمگیر( مرحوم ) اپنی ایک رُباعی میں فرما گئے ہیں کہ \"جن ٹہنیوں پر کثرتِ پھل کا بوجھ ہوتا ہے وہ جُھکی ہوئی ہوتی ہیں \"۔شیر باز علی خان برچہ ؔ علم و حکمت اور دانش و بینش کا ایک ایسا پھلدار درخت ہے جس کی ٹہنیاں کثرتِ پھل سے جھکی ہوئی ہیں ۔ ایسا شاید اس لئے ہے کہ مجھ سمیت ہر کوتاہ قد (علمی حوالے سے )آسانی کے ساتھ علم کے اس خمیدہ شجر کی بار آور ٹہنیوں سے اپنی مرضی کا پھل توڑ کر فیضیاب ہو سکے ۔ میری دلی دعا ہے کہ ربِ کائنات اس بارِ آور شجرِ سایہ دار کو ہم متلاشیانِ علم و ہُنر کے سروں پر تا دیر سایہ فگن رکھے اور انہیں مذید علم ، حلم ، حکمت اور حیاء کی دولت سے سرفراز فرمائے ۔ آمین!

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *