دنیا کی دو نظریاتی ریاستیں 

تقدیر امم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امداد اللہ فاروقی
دنیا میں دو ریاستیں جو نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آئیں جن میں ایک پاکستان جو اسلامی نظریے کی بنیاد پر تو دوسری ریاست اسرائیل جس کو دنیا بھر کے یہودیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ۔یہودی قوم جو دنیا کی سب سے تعصب پرست قوم تصور کی جاتی ہے جو با لاآخر اپنے نظریے کی بنیاد پر یہودی ریاست بنانے میں ایک بڑی تگ و دو کے بعد کامیاب ہوئی ۔یہ وہی قوم ہے جو دنیا کی تمام اقوام سے الگ اور منفرد ہے کیونکہ ان کے پیروکار آپ کو سیکولر نظر نہیں آئیں گیان کے ہر کام میں مذہب کا رنگ ضرور پایا جاتا ہے ۔مذہب پرست اور خود کو دنیا کی اعلی و ارفع قوم تصور کرتے ہیں باقی دنیا کی تمام اقوام میں خود کو حکمرانی کا اہل سمجھتے ہیں ۔مغربی ممالک خصوصا امریکہ ،برطانیہ میں ان کی بڑی اثر و اسوخ ہے ۔دنیا کی سیاست ہو یا معیشت کوئی بھی میدان ہو جن کے پس پردہ انہی کے عزائم اور مقاصد کارفرماں ہوتے ہیں ۔خاص طور پر بین الااقوامی میڈیا پر ان کومکمل گرفت حاصل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قوم میں اتحاد و اتفاق پورے جوبن پر ہوتا ہے ۔دنیا کے ہر میدان میں چھانے والی یہ قوم انتہائی ذہین و فتین ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی مکار اور لالچی قوم بھی ہے ۔
انتہا درجے کی قوم پرست اور بہت گہرائی میں کام کرنے والی اس قوم کے منصوبے ،اغراض و مقاصد کو اگر کوئی گہرائی سے مطالعہ کرے تو ان کے ہر ایک منصوبے کے پیچھے ہزاروں راز کارفرماں ہوتے ہیں ۔اور انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے پورے امریکہ کی نصف سے زیادہ معیشت پر یہودی قوم حاوی ہے ۔وال سٹریٹ کا نام تو سنا ہوگا جہاں سے پوری دنیا کی معیشت کنٹرول کی جاتی ہے وہاں بھی با الواسطہ یا بلا واسطہ انہی کا ہاتھ ہے ۔آنے والے پچاس سا ل کے منصوبے ابھی سے شروع کیئے ہوئے ہوتے ہیں ۔جب سے اسرائیل واجود میں آیا ہے اسلامی ممالک خصوصا عرب ممالک کیلئے ایک ہر وقت لٹکتی تلوار بنی ہوئی ہے ۔جونہی اسرائیلی ریاست کو دنیا نے تسلیم کیا فورا انہوں نے اپنے مشن پر باقاعدہ کام کرنا شروع کیا ۔دہشت گردی قتل و غارت ،ظلم و جبرکا ایک انوکھا کھیل شروع کیا ۔فلسطینی مسلمانوں کو بڑے بڑے ہتھیاروں سے کچلنا آئے دن کا معمول بن گیا ۔اس ریاست کے بنانے کا مقصد عرب ممالک اور خصوصا مسلمانوں پر شب خون مار کر ان کے قدرتی وسائل پر مکمل کنٹرول کرنا ہے ۔اس قوم کا یہ تعصبانہ رویہ جو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ اپنا رکھا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ آج سے 1400 سال پہلے جب ہادی برحق حضرت محمد ﷺ نے جب نبوت کا اعلان ہی کیا تھا کہ یک دم یہود یوں نے مشرکین کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف میدان کارسا ز شروع کیا ۔جو اب بھی پورے جوش و جذبے کے ساتھ صٖف آرا ہے ۔
اسی طر ح دوسری ریاست جو ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آئی وہ ملک عزیز پاکستان ہے جو اسلامی نظریہ ،نظریہ پاکستان کے نام سے معرض وجود میں آیا ۔پاکستانی قوم نے بھی اس ملک کو پانے کیلئے بڑے پیمانے پر جانی و مالی قربانیاں دیں ہیں ۔ان قربانیوں کا مقصد ایک ایسا اسلامی ملک بنا نا تھا جہاں اسلام اپنی حقیقی معنوں میں اور عملی طور پر نافذ ہو، گویا یہ اسلام کی ایک تجربہ گاہ ہوگا ۔جہاں امن و آشتی ہو ،عدل و انصاف کی فراوانی ہو ،کیونکہ انگریزوں اور ہندووں کے ظلم وجبر سے مسلمان تنگ آچکے تھے ۔اس لئے اس ملک کی آزادی کیلئے ہزاروں مسلمانوں نے جان کے نظرانے پیش کیئے ۔اقبال و قائد اعظم کی سرکردگی میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کی ۔اپنے مال جایداد کو چھوڑ کر ،بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان کی طرف ہجرت کی ۔ہزاروں کے حساب سے مسلمانوں کو ہندووں اور سکھوں نے راستے میں شب و خون ما ر کر شہید کردیا ۔ماؤں سے ان کے بیٹوں کو چھینا گیا ،بہنوں سے ان کے بھائیوں کو الگ کر کے موت کی نیند سلادئیے گئے ،سینکڑوں کے حساب سے ہماری ماؤں اور بہنوں کی عصمتو ں کو لوٹا گیا ۔نیزے اور تلواروں سے ان کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے گئے ،لاشون سے بھری ٹرینوں کو پاکستان بھیجا گیا ۔
لیکن ان تمام مظالم کے باوجود بھی بڑے حوصلے اور ولولے کے ساتھ اپنے مقاصد اور نظرئے پر قائم و دائم رہے ۔لیکن بد قسمتی دیکھئے جس مقصد کیلئے انہوں نے یہ قربانیاں دیں تھیں وہ آج قریبا سڑ سٹھ سال بعد بھی خواب ہی بن کر رہ گئے ۔ملک تو خیر بن گیا لیکن اسلام کا عملی طور پر نافذ ہونا اب بھی باقی ہے ۔رہی بات امن و سکون کی تو انسانی لاشوں کے انبار اب اپنے ہی لوگوں کے ذریعے لگائے جاتے ہیں ۔کراچی سے لیکر پشاور تک ہر طرف بد امنی ،مایوسی ،اور نا انصافی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں ۔کراچی جو روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا اب وہاں بوری بند لاشوں کا کلچر پورے آب و تاب کے ساتھ جاری ہے ۔بھتہ خوری ،غنڈہ گردی نے غریب طبقے کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔دہشت گردی کی جنگ زبردستی ہمارے اوپر ٹھونسی گئی ہے ،کرپشن ،لوٹ مار ،اور دھماکوں سے پورا ملک لرز رہاہے نت نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں کہی فرقہ واریت نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے تو کہی امریکی ڈرون حملوں نے امن و سکون کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا ہے ۔ہماری قومی سلامتی و استحکام داؤ پر لگ چکی ہے ۔کہاں ہے قائد اعظم اور اقبال کا پاکستان ؟ کدھر گیا وہ نظرئیہ پاکستان ؟ ہر کوئی نظرئیہ پاکستان کے خلاف کھلے عام زہر اگل رہا ہے ۔حکمران طبقہ کو اگر فکر ہے تو صرف اپنے بینک بیلنس کی ۔بیس کروڑ عوام کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے ۔لیکن نہ جانے اس قوم کو کیا ہوگیا ہے ؟ کیوں بے حسی اور مایوسی کی چادر اوڑ کر خاموش خواب غفلت کی نیند سوئی ہوئی ہیں ۔
اسرائیل کی توپیں اور میزائیلوں کا رخ بھی مسلمان ممالک کی طرف ہے تو امریکہ کے ڈرون حملوں کے زد میں بھی مسلمان ممالک ہیں ۔روزانہ کتنے مسلمان ان کے مظالم کا شکار ہوتے ہیں ؟ نام نہاد بین الااقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو نہ جانے یہ ظلم و بربریت نظر کیوں ں نہیں آتا ؟ اگر کہیں کسی یہودی کو خراش تک آجائے تو امریکہ سمیت مغربی ممالک کے ایوانوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے انسانی حقوق کے اداروں سمیت بین الا اقوامی میڈیا طیش میں آجاتا ہے ۔پوری دنیا میں شور و غل اور واویلا مچایا جاتا ہے ۔ہمارے ملک میں ہتھیار اپنوں کے خون سے رنگین ہیں تو اوپر سے امریکی بمباریوں سے معصوم بچوں کے چیتھڑے اڑائے جاتے ہیں ۔مجال ہے کہ ہماری حکومت دوٹوک الفاظ میں سمجھا دے یا مجال ہے عالمی این جی اووز کی جو اس ظلم ناروا کے خلاف آواز اٹھائے ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *