نگران وزیر اعلی کے نام - تحریر- شمس الحق نوازش غذری

 

abc sosttoday
جی ہاں! دفعتاً کسی نے کہہ دیا تھا۔ متوقع اور موزوں نام شیر جہان میر ہی ہے۔ یہ نام سنتے ہی ایک خاص قسم کی مُسکراہٹ کا تصور دل و دماغ مین نمودار ہوا۔ بے شک کسی نے سچ کہا ہے۔ مسکراہٹ اچھے لوگوں کا ٹریڈ مارک ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا کے تمام کامیاب، اچھے،عظیم اور نیک لوگوں کے چہروں پر دیکھائی دیتی ہے یہ اِس نام کی خوبی ہے یا اُس ہستی کی۔۔۔ جسکی شخصیت کا یہ نام جزو لاینفک ہے۔ جب یہ نام ہوا کی دوش میں گلگت بلتستان کی فضاء میں محو پرواز رہی تو یہاں کے سیاست دانوں سے لے کر عام شہریوں تک سب کے سر احتراماً جھک گئے یہ نام سنتے ہی شمال کے ہر شہری کے منہ میں اس نام کے لئے تعریف کے فوارے بہنے لگے،پہاڑوں کی آغوش میں بسنے والے تمام انسان اس بات پر متفق ہیں کہ انہوں نے یہ مقام اپنی ذاتی کوشش ،جد وجہد او رانتھک محنت کے نتیجے میں حاصل کی ہے۔ اور ان سے قریبی شناسائی رکھنے والے تو اس بات کے بھی شاہد ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اس کامیابی اور کامرانی کو اللہ تعالٰی کا خصوصی فضل و کرم سمجھتے ہیں ۔وہ اپنی زندگی میں کوئی بھی لمحہ اور کوئی بھی ساعت یہ ورد کئے بغیر نہیں رہتے کہ انسان کو وژن، ائیڈیاز اور محنت کا ہنر سے نوازنا اللہ تعالیٰ کے نوازشات ہیں۔اللہ تعالیٰ جس انسان یا جس قوم سے راضی ہو جاتا ہے تو انہیں توانائی بخشتا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کیلئے خصوصی مواقع مہیا کرتا ہے اور ان کے لئے ترقی کے راستے کھول دیتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔۔۔۔جو انسان اپنی کامیابی کو اللہ کا کرم اور مہربانی قرار دیتا ہے تو اللہ تعالی بھی لوگوں کو حق بات سمجھانے کیلئے ان کی زبان کا گرہ کھول دیتا ہے۔ان کی وژن کو بصارت و بصیرت اور ان کی آئیڈیاز کو برکت سے نوازتا ہے ۔ اس طرح کی رحم وکرم کے وہی لوگ مستحق ہوتے ہیں جو خالق کی مہربانیوں کا بدلہ مخلوق کی خدمت کرکے چُکا دیتے ہیں ۔جو عہدہ ،اختیار اور عزت ملنے کے بعد بھی خود کو دوسروں کی طرح عام انسان اور عام شہر ی ہی سمجھتے ہیں۔ جو ہر وقت اللہ تعالی کی کریڈٹ کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کی زبان ’’ لوٹ گئے اور مر گئے‘‘ کی بجائے شکر الحمد اللہ جیسے خوبصورت کلمات سے تر رہتے ہیں تو اللہ تعالی بھی ایسے انسانوں کو عنایت اللہ شمالی، عبدالجہان، زوار قلب علی اور ناصر زمانی (وغیرہ وغیرہ) جیسے مشیروں اور وزیروں سے نوازتے ہیں۔
امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن سے کسی نے پوچھا تھا۔آپ اتنے ذہین اور جینئس سیاستدان تھے۔ لیکن آپ کی حکومت اڈھائی سال بعد ختم ہوگئی کیوں ؟ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا مشیروں کی وجہ سے۔۔۔ وہ سوچ کر دوبارہ گویا ہوا تھا ۔جن حکمرانوں کے وزیر اور مشیر ناتجربہ کار، نااہل اور جلد باز ہوتے ہیں تو ان سے اقتدار بھی روٹھ جاتا ہے،عزت اور ساکھ بھی۔اور تاریخ اسلام کے مشہور بادشاہ خلیفہ ھارون الرشید کو بغداد کے مشہور دانشور بہلول دانا نے کہا تھا جب اللہ تعالیٰ کسی بادشاہ سے خوش ہوتا ہے تو اسے عقل سے نوازتا ہے۔ یہ ہماری خوش بختی ہے یا اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کہ نگران کابینہ گلگت بلتستان کے مختلف پھولوں کے گلدستہ کی مانند ہے اور اس کابینہ کے تمام افراد اپنی ذات و صفات میں نہ صرف بے داغ بلکہ ہر دلعزیرْ ْ ،مخلص ،ایماندار اور بے لوث بھی ہیں۔ہم نے تو یہ سن رکھا تھا قدرت میرٹ ،انصاف اور مساوات کے اصولوں کو پاؤں تلے روندنے والے قوموں سے انتقام لینے کیلئے ان پر بے ایمان، نااہل،غدار، ظالم اور بیوقوف حکمران مسلط کر دیتی ہے۔ اب یہ نہیں معلوم ہم میں سے کس کی آہ نے اللہ کی عرش کو ہلا دیا یاکس کے آنسووں کی وجہ سے ہماری بھی تلافی ہوئی۔ کیونکہ یہ وہی مردم خیز سرزمین ہے جس میں اور تو اور محکمہ تعلیم جیسے مقدس شعبہ کی آسامیاں بھی سرعام نیلام ہوتی رہیں۔ جی ہاں! یہ وہی ریاست ہے جہاں میرٹ کی پامالی، ٹیلنٹ کی ناقدری، بے انصافی اور اقرباء پروری کو آئین کا درجہ حاصل تھا۔
بے شک نگران وزیر اعلی کے اخلاص ،سچائی اور ایمانداری سے شمال کا کوئی بھی فرد انکار نہیں کر سکتا۔ اگر میر صاحب کے اندر ایمانداری اور سچائی کی حرارت نہ ہوتی تو آج ’’ قراقرم کوآپریٹیو‘‘ کا سر بھی ننگا پربت جتنا اونچا نہ ہوتا، یہاں انتہائی قابل ذکر بات یہ ہے کہ دنیا کو جو بھی حکمران اخلاص، میرٹ ، بھر پور مانیٹرنگ اور عام شہر ی کو فائدہ پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہا تو ان کی اقتدار کو دوام نصیب ہوا اور ان کی حیات کو سکون۔۔۔۔! لیکن جو لوگ مذکورہ چار نکات سے روگردانی اختیار کی تو یہی نکات ان کی کشتی میں سوراخ کا باعث بنیں۔
اس وقت پوری قوم کی نظریں وزیر اعلی پر مرکوز ہیں کہ میر صاحب اپنی اس مختصر دور حکومت میں خود کو کس قدر مخلص، میرٹ پر کار بند اور غیر جانبدار ثابت کرتے ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں سمجھوتے اور کرپشن کا آغاز ہمیشہ بالائی سطح سے ہوتا ہے۔اگر وزیر اعلی اپنی کابینہ میں شامل افراد کو ان کی اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر ادارے سونپنے کے بعد ان پر عقابی نظر رکھے تو یقینی امر ہے ان کی سہ ماہی حکومت گلگت بلتستان کی تاریخ میں مثالی حکومت ثابت ہوگی۔
دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس میں عالموں اور دانشوروں کی تعداد زیادہ ہے اس کا شمار دنیا میں ترقی یافتہ اور کامیاب معاشروں میں ہوتا ہے اور کہتے ہیں دنیا میں وہ حکومتیں بحسن خوبی سے اپنے فرائض انجام دیتی ہیں جن کی کابینہ میں دانشور اور ماہرین موجود ہیں اور یہ وزیر اعلی پر اللہ تعالی کی ایک اور مہربانی ہے کہ ان کی کابینہ میں ماہرین اور دانشوروں کی بہتات ہے۔ اب مختلف شعبوں کی وزارت کے لئے ماہرین اور دانشوروں کے انتخاب کا دارومدار وزیر اعلی کی وژن اور ان کی فلسفہء سیاست پر ہے اس حوالے سے امریکی طرز حکومت قابل تقلید ہے۔ مثلاً بش کے دور حکومت میں وزیر زراعت مائیک جوہنزا یک زمیندار تھے۔وزیر تجارت کارلوس گیرئرز امریکہ کی ایک مشہور تجارتی کمپنی کے ملازم رہ چکے تھے،وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نیوی سے پائلٹ ریٹائرڈ تھے،وزیر خزانہ جان ڈبیلو سنو امریکہ کے نامور بزنس مین تھے، ٹرانسپورٹ کے وزیر نارمن وائی ماینٹا ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک تھے، اور امریکہ کے اس دور کے وزیر تعلیم مار گریٹ سپیلنگنز طویل عرصے تک ٹیکساس کی سکول بورڈ ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر رہی تھیں۔ یہاں باریک بینی سے غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ تمام لوگ اپنے اپنے شعبوں کے ماہر تھے۔ اور وہ ان شعبوں کے راز و رموز سے نہ صرف واقف تھے بلکہ انہیں ان شعبوں پر مکمل دسترس بھی حاص تھی۔ظاہری بات ہے یہ لوگ حلف اٹھانے سے قبل اپنے اپنے شعبوں کے مسائل و مشکلات سے بخوبی اشنا تھے۔
بالفرض اگر ہمارے نگران وزیر اعلی بھی اپنی کابینہ میں بحیثت وزیر شامل ہوتے تو ان سے بہتر وزیر خزانہ کوئی نہیں ہوسکتا ۔کیونکہ موصوف نہ صرف اس شعبے کے ماہر ہیں بلکہ انہیں معاشیات اور بنکنگ میں بھر پور مہارت حاصل ہے۔ یہ حقیقت ہے بہترین وزیر خزانہ بہترین بنکار ہی بن سکتا ہے۔ زراعت کی وزارت کو زمیندار ہی بہترطریقے سے چلا سکتا ہے اور صحت کی وزارت کو کوئی ڈاکٹر ہی صحیح سنھبال سکتا ہے۔
بالکل اسی طرح تعلیم کی وزارت کیلئے نگران کابینہ میں موجود ایم آئی ای ڈی(MIED) کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر عبدالجہان ہی زیادہ موزوں ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے بھی زندگی کا آغاز سکول ٹیچر کی حیثیت سے کیا ہے اور آغا خان یونیورسٹی کا ماسٹر ڈگری ہولڈر ہے وہ تعلیم کی وزارت کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اور اس میدان میں بڑے انقلاب برپا کرسکتا ہے اگر ہم گلگت بلتستان کو قراقرم کوآپریٹیو کی طرح ترقی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تمام شعبوں کی قیادت ماہرین کے حوالے کرنا پڑے گی۔کیونکہ یہی وہ شاہرہ ہے جس میں رواں ہر قوم نے ترقی اور خوشحالی کی منزل کو چھو لیا ہے۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *