کوغذی میں دو سو لائن کے ٹیلیفون ایکسچینج نے کا م شروع کیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے مضافاتی علاقے کوغذی میں پاکستان بننے کے پہلی بار ٹیلیفون اکچینج نے کام شروع کیا ۔ اسسٹنٹ بزنس منیجر پی ٹی سی ایل چترال انجنئیر عبد الباسط کے مطابق کوغذی میں گولین گول ہایڈرل پرجیکٹ میں کام کرنے والے غیر ملکی انجنیرز اور علاقے کے عوام کے پر زور مطالبے پر اس علاقے میں 200 لائن کا ٹیلیفون اکسچینج قائم کیا گیا جس میں دو سو ہائی سپیڈ ڈی ایس ایل لائن بھی دئے گئے اور انٹرنیٹ کے سہولت سے بھی صارفین مستفید ہورہے ہیں۔ علاقے کے عوام نے پاکستان ٹیلی کیمیونیکیشن کمپنی کے جنرل منیجر ادریس خان خٹک اور انجنیر عبد الباسط کا شکریہ ادا کیا جن کی ذاتی دلچسپی سے اس علاقے میں پاکستان بننے کے بعد پہلی بار ٹیلیفون Exchange نے کام شروع کرکے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کیا۔agt-rural-telephone-exchange-a06
ڈی ایس ایل ، برانڈ بینڈ سروس چار دن بعدبحال۔
چترال(گل حماد فاروقی) چترال میں ڈی ایس ایل برانڈ بینڈ پچھلے چار دنوں سے حراب تھی جس سے نہ صرف صحافیوں کو بلکہ عام صارفین کو بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے میں نہایت مشکلات کا سامنا تھا۔جبکہ میڈیا میں حرابی کی وجہ سے صارفین چترال سے باہر اپنے دوست احباب کے ساتھ بات نہیں کر سکتے تھے۔
اس مسئلے کو مقامی اکسچینج کے عملہ میں لایا گیا مگر انہوں نے اسے حل کرنے میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ جس پر چترال یونین آف پروفیشنل جرنلسٹ کے صدر گل حماد فاروقی نے یونین کے سیکرٹری فنانس بشیر حسین آزاد کے درخواست پر پی ٹی سی ایل کے ایگزیکٹیو وائس پریذیڈنٹ وجیہہ انور سے رابطہ کرکے چترال کے صارفین کی شکایت ان کی نوٹس میں لاکر ان سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے۔ ایگزیکیٹو وائس پریذیڈنٹ وجیہہ انور نے فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے ماتحت عملے کو ہدایت کی کہ چترال کے انٹرنیٹ کے مسئلے کو حل کرکے اسے بحال کیا جائے جس کے تین گھنٹے بعد انٹرنیٹ نے کام شروع کیا مگر اس کا سپیڈ بدستور کم ہے۔
چترال کے عوام نے پی ٹی سی ایل کے ارباب احتیار سے مطالبہ کیا ہے کہ آپٹیکل فائبر کا لائن چترال تک پہنچ چکا ہے لہذا اسے بلا تاحیر شروع کیا جائے تاکہ چترال میں انٹرنیٹ کی کم سپیڈ کا مسئلہ حل ہوسکے۔ نیز سینگور، سین لشٹ، ڈولوموچ، شالی اور عبد الولی خان یونیورسٹی کیمپس کے صارفین نے اعلےٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سینگور یا سین لشٹ کے مقام پر ایک نیا ایکسچینج قائم کیا جائے تاکہ اس علاقے کے صارفین بھی انٹرنیٹ سے استفادہ حاصل کرسکے کیونکہ ان دیہات میں سینکڑوں کی تعداد میں صارفین انٹرنیٹ کی کنکشن لینے کے خوہش مند ہیں مگر ٹیلیفون ایکسچینج سے فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں DSLبرانڈ بینڈ کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے یہاں کے سینکڑوں صارفین انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ اگر اس علاقے میں ایک نیا اکسچینج قائم کیا گیا تو نہ صرف سینکڑوں عوام انٹرنیٹ کی سہولت سے مستفیید ہوں گے بلکہ ادارے کو بھی یوٹلٹی بل کی مد میں ماہوار لاکھوں روپے آمدنی آئے گی۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *