قائد اقبال کا تصور اور آج کا پاکستان

تلاش حق تحریر: فیاض منوی
ایک سانحہ کے بعد دوسرا سانحہ اور پھر تیسرا سانحہ اس ملک کی تقدیر بن چکا ہے۔ اس ملک کے لوگوں کا حافظہ کمزور نہ ہوتا اور انہیں سانحات بھلادینے کی پریکٹس نہ ہو چکی ہوتی تو اس ملک کے لوگ کب کے اپنے ہوش و حواس کھو چکے ہوتے۔قارئین یقین نہیں آتی بلکہ صدمہ روح کی گہرائی تک اُتر جاتی ہے۔ جب یہ سوچ آتی ہے hunza 1235کہ یہ قائد اور اقبال کا پاکستان ہے ؟کیا یہ قائد کے بیمار رتجگوں اور اقبال کی آہ سحر گاہی کی عطا ہے؟جس میں ہم سولہ کروڑ عوام و خواص رہتے ہیں ۔ کیا حکمرانوں کی بے بسی امیرو غریب میں تفاوت اخلاقی اقدار کا انہدام روحانی روشنیوں کا بجھاؤاور بصرت اور بصارت کا اندھیاپاکم تھا کہ یہاں رہنے والے بندے بھی درندے بن گئے۔ہر سطح پر من مانیاں ،بے ایمانیاں، لا قانونیت اور ناانصافی اس انتہا تک پہنچ گئی ہے کہ بندہ مقام بندگی سے اُتر کر مقام درندگی تک آپہنچے ہیں۔ایسابہیمانہ سلو ک تو تقسیم ہند کے موقع پر کرپانوں والے سکھوں اور حیاو انسانیت سے عاری مکار و عیار ہندو نے بھی مسلمانوں کے ساتھ روا نہ رکھا ہوگا۔جس طرح کے وحشیانہ سلوک پاکستان میں آزادی کے مزہ لوٹنے والے پاکستانی ایک دوسرے کے ساتھ بطور مسلمان کر رہے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ اگر آج قائد اور اقبال موجود موتے تو ہمیں آزادی کی نعمت عطا کرنے کیلئے اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرماتے ۔اللہ تعالی ٰنے پاکستان کو ہر چیز سے نوازا ہے۔علحیدہ خوبصورت وطن آزادی بھری فضائیں اور سونے چاندی کی ذخائر سے بھرے ہوئے پہاڑ پاکر ایسا لگتا ہے کہ بعض پاکستانی تو ذہنی طور پر غیر متوازن ہوگئے ہیں۔ وطن پاک کی خبروں پر نظر ڈالنے سے ایسا لگتاہے کہ کاش ہم نا بینا ہوتے بلکہ دل کے بھی اندھے ہوتے تاکہ اندر باہر سے مکمل اندھے اندھیروں میں ہونے کی وجہ سے باہر سے کسی اندھیرے کی پہچان نہ پاتے۔
کہیں میرٹ کی پامالی ہے تو کہیں ماؤں کی گودیں اجاڑ کر حصول علم میں مصروف بے گناہ اور معصوم بچوں اور درس وتدریس میں مصروف عملے کو بے دردی کے ساتھ فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اُتارنے والوں کا احتساب کیا گیا ؟
قارئین کرام ! صدمہ اور حیرت سے عقل ماوف ہے کہ جس پاکستان کی تصویر نظر آتی ہے کیا یہ سچ مچ قائد اور اقبال کا پاکستان ہے؟قارئین درندگی کی کون کونسی خبراور ظلم کی کون کونسی انتہا لکھی جائیں جہان مظلوموں کو انصاف ملنے کی بجائے خود انصاف کو اغوا ء کر لیا جاتا ہے۔جھوٹی تفتیش کرنے والوں کو کبھی اصل تفتیش نہیں کی گئی۔آخر انسان و انسانیت کی دھجیاں اُڑانے والوں کی کب بیخ کنی کی جاسکے گی۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ ظلم و تشدد کی ایسی سرخ صورتحال میں خد ا ناخواستہ کہیں وہ وقت نہ آئے کہ خد پاکستانی ایک دوسرے سے پوچھتے پھرے کہ وہ عراق ،فلسطین ،افغانستان یا مقبوضہ کشمیر میں تو نہیں رہ رہے ہیں؟ان کو ہمارا جواب یہ ہے کہ لاالہ کے نام پر حاصل کئے ہوئے ملک کو اگر قائد و اقبال کے اقوال اور افکار پرعمل پیرا ہوکر نہیں سنبھال سکتے ہو تواس کے اندر صورتحال فلسطین اور مقبوضہ کشمیر والی ہی جاری رہ سکتی ہے۔جس آزاد ملک میں عزت نفس اور جان و مال کی حفاظت نہ ہو وہاں تمہیں اینٹوں اور سیمنٹ کی بنی ہوئی چاردیواری کو اپنا پاک وطن کہنے کا کیا حق و جواز حاصل ہے ۔
عزیزان ہم وطن اپنے ملک عزیز کا جو حشر کر رہے ہیں اس پر توبہ تائب ہو کر خدا سے معافی مانگیں اور نئے سرے سے اس کی تعمیر وترقی کیلئے دن رات ایک کردے ۔ہمارے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ طعنوں اور جھگڑوں اور ایک دوسرے کے ٹانگ کھینچنے کی سیاست بند کرکے محض اور صرف وطن عزیز اور غریب عوام کی خدمت کو مقصد حیات بنائے۔اللہ تعالیٰ اس ملک کا حامی و ناصر ہو۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *