محکمہ برقیات کی انجینئرنگ کی انتہاء اور ابتداء شگر فیز IIIپن بجلی گھر ہینڈ نگ ٹیکنگ ہونے سے پہلے ہی جواب دے گیا

شگر(عابد شگری)محکمہ برقیات کی انجینئرنگ کی انتہاء اور ابتداء شگر فیز IIIپن بجلی گھر ہینڈ نگ ٹیکنگ ہونے سے پہلے ہی جواب دے گیا۔ اورشگر ایک بار پھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔تفصیلات کیمطابق شگر کے ستر فیصد آبادی کو بجلی فراہم کرنے کیلئے بنائی گئی دو میگا واٹ پن بجلی گھر فیزIIIشگر جس کی ابھی تک چائنا کمپنی سے باقاعدہ ہینڈنگ ٹیکنگ کا مرحلہ شروع نہیں ہوا مشکلات کی گرداب میں پھنستا جارہا ہے۔مذکورہ بجلی جسے جون 2013میں مکمل کرنا تھا محکمہ برقیات کے حکام اور متعلقہ ٹھیکیداروں کی ملی بھگت کی وجہ سے مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہوسکا جبکہ پچھلے سال سابقہ چیف سیکریٹری کی خصوصی دلچسپی اور شدید عوامی رد عمل کے بعد دسمبر میں پایا تکمیل ہو پہنچ کر عوام کیلئے بجلی کا ترسیل شروع ہوگیا تھا۔لیکن اس بجلی گھر کے دو ٹربائنوں میں سے ایک کی پینل بوڑد صحیح طریقے سے کام نہیں کررہا تھاجس کی وجہ سے مطلوبہ مقدار میں بجلی کی پیداوار نہیں ہوپا رہا تھا۔جسے چائنا انجینئرز تین دفعہ آکر ٹھیک کرنے میں ناکام ہوا ہے۔جبکہ گذشتہ دنوں بجلی پیداکرنے والے ٹربائن کے بیرنگ کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن کی واٹر ٹینک جس کی لیکنج شروع سے جاری تھی لیکن محکمے کے عملوں کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ندی برد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے فوری طور بجلی گھر کو بند کردیا گیا ہے اور عوام کو ایک بار پھر اندھیرے میں دھکیل دیا گیا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ بجلی گھر کے پائپ لائن محکمہ برقیات کے انجینئرزنے ملی بھگت سے بغیر جیالوجیکل سروے کے اصل نقشے سے ہٹا کر بعد میں دوسری جگہ سے گزارا گیا ہے جو ایک رسک ایریا ہے۔ اسی وجہ سے گذشتہ دنوں یہ واقعہ پیش آیا۔اس سے پہلے ٹیسٹنگ کے دوران یہ پائپ لائن کئی سو فٹ اپنی جگہ سے اکھڑ کر سرک گیا تھا۔ شگر کی عوام نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فیزIIIبجلی گھر شگر کی ڈیزائن میں تبدیلی کرنے والوں اور اس میں مبینہ غفلت بھرتنے والے حکام کیخلاف انکوائری کرکے کاروائی کیا جائے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *