لالی پاپ نہیں آئینی حقوق تحریر عاقل حسین استوری

sلالی پاپ بچوں کے لیے بنایا گیا تھا مگر اب یہ قوموں کے یے بھی تیار کیا جاتا ہے جس کی زندہ مثال گلگت بلتستان ہے یوں تو گلگت بلتستان کے غیور وبہادر عوام نے بغیر کسی دوسری طاقت کی مدد کے۔ خود ستائیس ہزار مربع کلومیڑرقبے پر محیط علاقے کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروایا اور گلگت بلتستان کے بہادر عوام نے اس خوبصورت خطہ کو ا ور اس خطہ کی آزادی کو خود قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں بننے والے ملک پاکستان کی گود میں ڈالا لیکن انتہائی افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ 68 سال گزرنے کے باوجود بھی گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہیں مل سکے۔ ہاں البتہ ہردور حکومت میں لالی پاپ ضرور ملے یہ لالی پاپ کبھی گندم سبسڈی کی شکل میں، کبھی گلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈر ایکٹ کی شکل میں، تو کبھی حکمران کے جھوٹے وعدوں کی شکل میں ۔ تمام حکمران گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے ایک باغ ہو جس میں طرح طرح کے پھل ہو اور ہر بندہ اپنی پسند کے پھل توڑ کر کھا ئے مگر باغ کے حصہ دار کو محروم رکھا جائے اور جب وہ اس محرومی پر آواز اٹھائے تو اس کی زبان بند کرنے کے لیے اس کے منہ پر ایک لولی پاپ دے دیا جائے تاکہ وہ وقتی طور پر خوش کردیا جائے اور اس کا زبان بھی بند کردی جائے ۔ حقیقتا گلگت بلتستان کے عوام کا معاملہ ہی ایسا ہی ہے کیوں کہ جس دور میں بھی یہاں کے باسیوں نے اپنے حقوق کی بات کی تو حکمرانوں نے پاکستان کے دوسرے صوبوں کے برابر حقوق دینے اور پاکستان کے وسائل سے برابر کا حصہ دینے کے بجائے انھوں نے لالی پاپ اور جھوٹے وعدوں کے پہاڑ کھڑے کر دیے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں بڑے بڑے وعدے کیے تھے کہ ہم آپ کو آپ کے حقوق دلائینگے مگر حکومت آئی تو سب وعدے بھول گئے۔ 28ستمبر 2009 کا وہ دن آج بھی یاد ہے جب سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی دورہ گلگت میں آکر فلاح وبہبود کے متعدد منصوبوں کا اعلانات کرتے ہوئے ایک نہایت ہی خوبصورت جملے کے زریعے اس بے آئین سرزمین کے باسیوں کو عتماد میں لینے کی کوشش کی تھی جوآج بھی میرے کانوں میں گونجتاہے وہ جملہ یہ تھا ،،آج آ پ لوگوں کو شناخت مل رہی ہے،، اور ساتھ ہی یہ کہہ کر عوام گلگت بلتستان پر احسان جتانے کی بھی کوشش کر رہا تھا کہ یہ عوام گلگت بلتستان کا دیرینہ مطالبہ تھا آج ہم پورا کرنے جارہے ہیں۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گیلانی صاحب کی پارٹی نے آئینی حقوق تو دور کی بات جن منصوبوں کے وعدے کیے تھے وہ بھی پورا کرنے کا گوارہ نہیں کئے ۔اسی طرح اگر وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ گلگت کی بات کریں تو میاں صاحب نے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی اعلانات کیا جو یوسف رضاگیلانی صاحب نے کیا تھا جیسے دیامر بھاشاڈیم اور بونجی ڈیم کی تعمیر اور اس سے حاصل شدہ فوائد کا تذکرہ گیلانی نے بھی کیا تھا اور میاں صاحب نے بھی کیا شاہرہ قراقرم کی توسیع منصوبوں کا علان بھی گیلانی نے کیا تھا اور میاں صاحب نے بھی دھرایا،گلگت اور سکردو ائیرپورٹس کو اپ گریڈ کرکے پی ئی اے کی اضافی پروازیں چلانے کا اعلان گیلانی کا بھی تھا اور میا ں صاحب نے بھی ذکر کیا ۔ اسی طرح اگر ہنزہ ،نگر،شگراور کھرمنگ کے اضلاع کی بات کی جائے تو یہ اعلانات بھی بہت دفعہ ہوچکے ہے لیکن عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔ بلتستان میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان بھی آصف علی زرداری نے اپنے دورہ سکردو میں کیا تھاجبکہ جگلوٹ سکردہ روڑ کی توسیعی منصوبے کا اعلان بھی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہوا تھاجو سابق وزیراعلیٰ کی نااہلی اور بدنیتی کی وجہ سے عملی شکل نہیں دے سکے ۔جس کا اب میاں صاحب نے کریڈ ٹ لے لیا ۔اس کے علاوہ میاں صاحب نے ایسے چند منصوبوں کا بھی علان کیا جو علان نہ بھی کرتے تو پی ایس ڈی پی کے فنڈز سے شروع ہونے تھے۔میاں صاحب نے اپنی تقریر میں ضلع ہنزہ کا اعلان کرتے ہوئے میر غضنفر کو مخاطب ہوکر کہا ، میر صاحب آ پ خوش ہے ، جس پر میر آف ہنزہ نے کہا ہاں میں بہت خوش ہوں۔ میں یہا ں وزیراعظم پاکستان سے سوال کرنا چاہوں گا میاں صاحب آپ گلگت اپنی جماعت کے بااثررہنماوءں کے سفارشات سننے اور دوستوں کی خواہشات پوری کرنے آئے تھے یا گلگت بلتستان کے غریب عوام کے بنیادی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوے اعلانات کرنے آئے تھے ؟میاں صاحب نے تقریر کے دوران بہت سے اضلاع کاتونام تک ہی لینا گوارانہیں سمجھا۔کیامیاں صاحب او ر اس کی پارٹی کے نام نہاد لیڈروں کو داریل و تانگیر اور غذر کے غریب لوگوں کے مسائل یاد نہیں آئے کیا انھیں گلگت شہر کے مسائل نظر نہیں آئے۔؟اسی طرح اگرضلع استور کا نام نہیں لینے کی بات کی جائے تو میں ایک استوری ہونے کے ناطے میاں صاحب سے کوئی گلہ نہیں کرنا چاہوں گا کیوں کہ گلہ اس سے کیا جاتا ہے جس پر امید ہو جبکہ میاں صاحب سے کوئی امید ہی نہیں۔۔کیوں کہ جب میاں صاحب اپنے پچھلے دور حکومت میں گلگت بلتستان کے دورے میں استور آیا تو استور کی عوام نے ان سے ضلع کا مطالبہ کیاتھاجس پر میاں صاحب نے ان الفاظ کے ساتھ استور کی عوام کو مایوس کیاتھا کہ ،میں ہر گلی کو دلھن نہیں بناسکتااگر اسے ضلعے بناؤں تو پنجاب میں لاکھوں ضلعے بنیگے ۔لیکن بعد میں پرویز مشرف نے استورکو ضلعے کاسیٹ اپ دے کر عوام کے مشکلات آسان کیا۔اسی طرح آئینی حقوق کی بات کی جاے تو میاں صاحب نے یہ کہتے ہوے ٹال دی کہ میرے مشیرسرتاج عزیز کی سربرائی میں کمیٹی بنائی گئی ہے کمیٹی جو سفارشات پیش کرے گی میں ان پر عملدرامد کیا جائیگا۔جناب وزیراعظم صاحب اس کمیٹی کا حال بھی ایسا نہ ہو جیسا کہ عام طور پر حکومتی کمیٹیوں کاہوتا ہے یعنی جو کام نہ کرنا ہوں اس کے لیے کمیٹی بنادی جائے وزیراعظم صاحب یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اقتدار کے کسی بھی دور میں اس خطے کے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے عملی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ گلگت بلتستان کے آیئنی حقوق کے لیے رکاوٹ بنے ۔آج میاں صاحب کو اللہ نے بہترین موقع دیاہے کہ ان خطے کی عوام کو لالی پاپ دینے کے بجائے آپ اس خطے کی68سالہ محرومیوں کے خاتمے کا اعلان کرکے گلگت بلتستان کے عوام کا دل جیتے انشااللہ یہ غیوراعوام آپ کو کبھی نہیں بھولے گی۔میں آخر میں عوام گلگت بلتستان سے دردمندانہ اپیل کرنا چاہوں گا کہ باہمی اختلافات اور مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو کراپنا ووٹ صحیح استعمال کرئے اور گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق کے لیے مل کر جدوجہد کریں۔ بقول اقبال :
(خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی )
(نہ ہو جس کو خیال اپنی حالت کو بدلنے کا )s

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *