فکری انتشار علماء کرام اور جدید تقاضے تحریر علامہ محمد یوسف جبریل

پاکستان میں خیالات کی افراتفری اور فکری تلاطم جتنا آج ہے کبھی نہ تھا کوئی دو شخص ایک خیال پر متفق نظر نہیں آتے دوسے زیادہ شخص ہوں تو ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ ہر شخص کی ذہنی دنیا الگ الگ ہے اور ہر دنیا سے ایک عجیب قسم کی بولی تلملاتی ہوئی آواز میں انا الحق کا غصیلا نغمہ الاپتی ہوئی نظر آتی ہے دس کروڑ انسان دس کروڑ دنیائیں دس کروڑ بولیان ہر لمحے، ہر ساعت ،ہر روز، ہر موسم اور ہر حال میں باہم دیگر ایک عجیب انداز بے التفاقی اور خود فریبی میں دست و گریباں رہ کر ایک منظر برپا کرتی ہیں اختلافات روزبروز دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے تیزی کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں قران حکیم کی ایک ایک آیت کے ہزارہا معانی ہیں،، مطالب ہیں، تاویلیں ہیں، تفسیریں ہیں ،تعبیریں ہیں ،آیت سے آیت لجھ رہی ہے سو ر ت سورت سے ہنگامہ آرا ہے، پارہ پارہ سے اور قرآن خود قرآن حکیم سے برسرپیکار ہے۔ حدیث نے ہنگامہ آرائی کا مزید میلان پیدا کر دیا ہے مسائل فقہ کے اختلاف موشگافیوں سے مزید بڑھ چکے ہیں۔ فرقوں اور گروہوں کا تو کیا ذکر ہر ذہن بذات خود ایک الگ گروہ کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔سائنس اس قیامت میں قیامت در قیامت بلکہ اس قیامت صغریٰ میں قیامت کبریٰ کا کردار ادا کر رہی ہے سائنس کی بر خود غلط پیدا کردہ جدید مغر بی تہذیب ہر جگہ اور ہر دل میں باد صرصر کی طرح چل رہی ہے۔ ماضی و حاضر کی اس دھینگا مشتی نے ذہنوں کی فضاء میں کچھ ایسی ہل چل مچا رکھی ہے کہ الاماں ایک ہی ذہن ہے جسے ماضی تو اپنی طرف کھینچتا ہے حاضر اپنی طرف کھینچتا ہے اور یہ کھچاوٹ اتنی شدت اختیار کر گئی ہے کہ بے چارہ ذہن ایک بوسیدہ کپڑے کی طرح دھجیاں بن کے اڑ گیا ہے اور صاحب ذہن خالی الذہن ہو کر پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بے معنی نگاہوں سے خلا میں گھورتا نظر آتا ہے جب کہ اس کے منہ سے سیٹی کی ٹیون اس طرح نکل رہی ہوتی ہے جس طرح خود کار پائپ باجے کی آخری آواز کوئی سائنس کو جملہ امراض وعلل کا علاج سمجھتا ہے۔ کوئی سرچشمۂ قران و مذہب کو آب حیات کہتا ہے کوئی دونوں میں امتزاج پیدا کرنے کا متمنی ہے۔ کہیں ملا پر لعنت برسائی جارہی ہے ،کہیں پیروں کو جاہلیت کا الزام دیا جا رہا ہے، کوئی رسولِِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمہ انسانیت کے لئے ماڈل قرار دے کرعظیم ترین محسن انسانیت قرار دیتا ہے تو کوئی لینن، مارکس، فرانسس بیکن اور دیگر اصحاب کو سائنس و فلسفہ لائق قیادت سمجھتا ہے کوئی بینک کے سود کو حلال تو کوئی حرام گردانتا ہے کوئی خاندانی منصوبہ بندی کو ایک نعمت غیر مترقبہ تصور کرتا ہے تو کوئی اسی کو لائق صد لعنت اور فعل شنیع اورعمل مذموم کے القابات سے نوازتا ہے غرض جتنے منہ اتنی باتیں اور جتنے ذہن اتنے عقائد اس تنوع پہ زمانہ قدیم کا روائتی بابل بھی ہیچ نظر آتا ہے۔ پھر لباس کو دیکھئے کوئی اتنا اپ ٹو ڈیٹ کہ اسے دیکھ کر آپ اپنے فرس تخلیل کو جولانی دیں تومعلوم ہو کہ ہاس آف لارڈذ سے کوئی آنریبل ممبر ابھی ابھی تقریرختم کرکے سیڑھیاں اتر رہا ہے اور پھر کسی نے سر پر توسولاہیٹ پہن رکھی ہے اور نیچے قمیض اور شلوار کسی نے تہبند سے اپنے جسم کو ڈھانک رکھا ہے تو کسی کی زیب و زینت پاجامہ بنا ہوا ہے غرض اللہ تعالیٰ نے جتنے پرندے اس دنیا میںپیدا کئے اورکو مختلف قسم کے بال و پر عطا کئے ہیں ان کی ہر قسم اور ہر نوع آپ کو کسی بھی پاکستانی شہر میں ملے گی، زبانوں کا جھگڑا بھی کچھ کم نہیں کوئی انگریزی کے حق میں ہے تو کوئی اردو کو زیب زبان کرنے کا آرزو مند ہے ۔کوئی عربی کی آغوش میں جانا پسند کرتا ہے تو کوئی اس بات کے مخالف ہے۔ کنبوں کے اندر بھی باہمی تفاوت مضحکہ خیز حد تک موجود ہے ساس ان پڑھ ہے تو بہو لا گریجوئیٹ ہے، باپ ایک اجڈ فرسودہ خیال ہے تو بیٹا انگلینڈ ریٹرنڈ آزاد منش ہے ،بیوی سکول مسٹرس ہے تو خاوند غنڈہ تاہم بعض ایسی بنیادی باتیں بھی ہیں جن میں میرے ہم وطنوں کا غیر مشروط اور غیر متزلزل اتفاق ہے ساوراتفاق اتنا مضبوط ہے کہ اسے سوائے معجزہ کہے بن نہیں پڑتی مثلاً یہاں ہر شخص کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام اور قران حکیم کی سربلندی ہو اور ہر مسلمان حقیقی معنوں میں مسلمان بن کر دنیا کے لئے ایک مثال قائم کرے اور وہ جملہ فرائض جو اللہ تعالیٰ نے اس کو بحیثیت ایک مسلمان کے تفویض فرمائے ہیں بدرجہ اتم بجا لائے پھر یہاں ہر شخص کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات سے والہانہ محبت ہے جوعشق کی حد تک پہنچی ہوئی ہے بلکہ وہ چند اشخاص جو دیرینہ اسلامی قدروں سے قدرے نا اُ مید ہو کر دور حاضر کے بانیوں کی مدح سرائی کرتے ہوئے سنے جاتے ہیں ان کے دلوں کو بھی اگر ٹٹولا جائے تو ان کے دل میں بھی اپنے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے پناہ محبت موجود ہے اور ان کی الحادی کیفیت محض سرسری اور عارضی ہے۔ عالم گیر اسلامی اخوت کے رشتے پر بھی ہر کس و ناکس کا ایمان ہے فلسطین یا طرابلس کے کسی مسلمان کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو پاکستانی مسلمان کے دل میں ایک سمندر بن کرموجزن رہتا ہے اور انڈونیشیا کے کسی مسلمان کے پاؤں میں چبھنے والا کانٹا تیربن کر پاکستانی مسلمان کے دل میں اتر جاتا ہے اسی طرح پاکستان بنا تو مسلمانوں کی کبھی ایک پلیٹ فارم پر نہ آنے والی قوم پرندوں کے ایک جھنڈ کی طرح ایک ہی جھنڈے کے نیچے اکٹھی ہو گئی حتیٰ کہ اس غیر معمولی رویئے کوپنڈت نہرو جیسا سیاست دان بھی سمجھ نہ سکا پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے صرف ایک سال پہلے وہ ملایا میں ہنس کر کہہ رہا تھا کہ مسٹر جناح اگر مسلمانوں سے ڈائیرکٹ ایکشن کرا سکیں تو کرا دیں مگر آئندہ آنے والے تیز رفتار واقعات نے پنڈت ہی کو اپنے اندازے کی غلطی کا احساس ضرور کروا دیا ہو گا ۔ستمبر 1965ء کی جنگ نے اس امر پر ایک ناقابل تنسیخ مہر ثبت کر ڈالی جن لوگوں نے بھی اس جنگ کے دوران رموزشوق کاوہ محیر العقول منظر دیکھاہے وہ اس بات کی کھلم کھلا گواہی دینے میں قطعاً ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ کچھ نظریاتی اختلافات رکھنے کے باوجود اس ملک کے لوگ اس عزم میں بھی متفق ہیں کہ جلدازجلد سائنسی روشنی میں تعمیر وترقی کی اعلیٰ سے اعلیٰ منزلیں طے کرکے ترقی یافتہ قوموں کیدوش بدوش قدم رکھا جائے اور اسلامی سرزمین کی سالمیت کو ایک حصارمستحکم کی صورت میں استوار کر دیا جائے تا کہ حملہ آور لہریں اپنا سر ٹپک کر رہ جائیں اور یہ حصار قیامت تک سینۂ ارض میں گڑا رہے ۔اب وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ قرآن و سنت کے معاملے میں جتنا انتشار پایا جاتا ہے اسے تاحد امکان کم تر کر دیا جائے اور وہ پراگندگی جو قدیم و جدید کے ہر معاملے میں ذہی پستیوں کے گوشے گوشے میں ترقی پذیر ہے حتیٰ المقدور بیخ کنی کی جائے قوم میں حتیٰ الوسع فکروعمل اور ظاہر و باطن کی ہم آہنگی پیداکی جائے تاکہ قوم کے ذہن ایک ہی لائن پر سوچیں اور دل ایک ساتھ دھڑکیں اور قدم ایک ساتھ اٹھیں۔ ہمارا جذباتی بچپن جوحصول آزادی سے پہلیتھا ختم ہو چکا ہے اب ہمارے سامنے زندگی کے ٹھوس حقائق موجود ہیں جن کا ہم نے نہائت دانش مندی اور جرائت سے سامناکرنا ہے ہم نے اپنی آزادی کو برقرار رکھنا ہے ہم نے اپنی سا لمیت کی حفاظت کرنی ہے اور سب سے بڑھ کر ہم نے اسلام کی پیروی کرنی ہے جو ہمارا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ہم نے ایک اور ذمہ داری نبھانی ہے جسے ہم سب اپنی ہنگامی الجھنوں کے سبب فراموش کر چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم نے موجودہ دور کی دکھی انسانیت کو مذہب اسلام کا ایک حقیقی نمود پیش کرکے ان پر یہ ثابت کرنا ہے کہ آدمی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی ارتقاء کو بھی قائم رکھ سکتا ہے۔ ہم نے دنیا کو یہ نکتہ سمجھانا ہے کہ انسان ایک دانشمند جانور بننے کے لئے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کا مقصود صحیح معنوں میں انسان یعنی اشرف المخلوقات بننا ہے اور اشرف المخلوقات کی تعریف یہ ہے کہ اس کے پاؤں زمین پر اور اس کا سر عرش عظیم پر ہو اور اس کا دل جلوۂ الہٰی کا مظہر ہو ہم ہی اللہ تعالی کے مذہب اسلام اور اس کے کلام قران حکیم کے امین ہیں اور ہم نے ہی یہ مشکل مگر معرکہ آرا مہم سر کرنی ہے اور اگر یہ ہم کر سکے اور یقیناً انشاء اللہ تعالی کر سکیں گے تودنیا کی قوموں میں ہمارا ایک قابل رشک مقام ہو گا اور آخرت میں سرخرو ہوں گے تاہم ابھی تک ہم حقیقت کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ منزل ملے ہماری قوم کا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ منزل کی راہ متعین ہو تا کہ ہم جلد ازجلد منزل مقصود کو پالیں مگر افسوس ہے کہ تاحال ہم اپنی راہ متعین نہیں کر سکے، ہماری مذہبی رہنمائی کے دعویدار گروپ باہم دست و گریباں ہیں ہر گروپ اپنا ڈھول پیٹ رہا ہے مگر یہ سب کچھ محض ہنگامہ آرائی تک محدود ہے منزل کی جانب ایک قدم نہیں اٹھ سکا ان دو گروہوں میں ایک گروہ مولویو ں کا ہے یہ لوگ اپنے آپ کو پرانی اقدار کے محافظ کہتے ہیں کسی حد تک پرانی قدروں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں مگر ان کا علم محدود اور نگاہ کوتاہ گردوپیش کے حالات زمانے کے رحجان اور قومی مشکلات سے قطعاً بے خبر یہ لوگ دلچسپی کو قائم رکھنے کے لئے یہ نئی نئی ایجادات کا سہارا لیتے ہیں، مذہب کے عجائب گھر سے ہر روز ایک نیاطلسم ہوشربا ڈھونڈھ نکالتے ہیں تہذیب حاضرہ کی تباہ کاریوں سے کلیتہً آگا ہ ہیں مگرعلوم جدیدہ سے بے خبری کے باعث ان کی مثال اس بڑھیا کی سی ہے جو مصداق ‘ اُ ٹھ اُ ڈ گئے نیں تے بُڈھی پونیاں ڈھونڈھدی پھِر دی ہے ! جس سالوس فیل انداز یعنی مغرب کی ملحدانہ تہذیب جدید سے ان کو واسطہ ہے اس کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لئے ان کی تیاریاں بہت ناکافی ہیں اور قوم اس وقت پندونصیحت کے علاوہ ٹھوس علمی اور عملی منصوبے بھی طلب کرتی ہے اس لئے اس گروہ مولویوںکو بے پناہ علمی جدوجہد تحقیقی تصنیف کرنی پڑے گی تاکہ قومی تقاضوں کو پورا کر سکے ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. علامہ یوسف جبریل ؒ کی زندگی کے بارے میں
    تحریر اکرام اللہ
    علامہ یوسف جبریلؒ کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہے۔ وہ سال ہاسال سے مسلمانانِ عالم کو بیدار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ وہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دے رہے ہیں۔ علامہ یوسف جبریل ؒ کی شخصیت نہایت عجیب و غریب ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ انگریزی زبان میں بھی کتابیں اور مضامین لکھے ہیں۔ اپنے خیالات کی تبلیغ و اشاعت اور اپنے شعلہء دل کو تابناک بنانے کیلئے شعر کا بھی سہارا لیا ہے۔ ان کی زندگی کا آغاز انگریزی فوج میں ایک سپاہی سے ہوا۔انہوں نے انگریزی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق کے جیل خانہ مصیب میں کورٹ مارشل کی سزا برداشت کی۔ علامہ صاحب کو گورکھا ٹوپی نہ پہننے کی پاداش میں کورٹ مارشل کی سزاتجویز ہوئی ۔ اگرچہ ان کو کڑی سے کڑی سزا کی رضامندی ہوئی۔لیکن لندن سے انگریز آرمی کو یہ انتباہ ملا کہ عین اس وقت جب دشمن تمہارے سامنے ہے۔ تم ایک مسلمان سپاہی محمد یوسف کو گورکھا ٹوپی پہننے کی پاداش میں پھانسی کی سزا دیکر اڑھائی لاکھ مسلمان فوجیوں میں نفرت اور بغاوت کا بیج بوناچاہتے ہو۔ علامہ صاحب کو پچیس برسکی عمر میں جیل بھیج دیاگیا۔وہاں ان کو تجلیات الہیٰ دیکھنے کاموقع ملا۔علم و تعلیم و تعلم کا آغاز کیا۔اور اپنی خداداد صلاحیتوں سے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے میں مصروف رہے۔وہ قرآنِ حکیم کے تلمذ اقبالؒ کے شیدائی اور ہادیء اکرم تاجدار عرب ، عرب و عجم حضرت محمدﷺ کے فدائی ہیں۔
    علامہ یوسف جبریلؒ کا تعلق وادی سون سکیسر کے گاؤں کھبیکی سے ہے۔ انہوں نے کسی کالج یا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ بچپن ہی سے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکن بعد میں انگریزی، عربی ، فارسی زبان کے علاوہ بے شمار زبانوں پر عبور حاصل ہوا۔ یہ سب کچھ روحانی سلسلہ تھا۔ علامہ صاحب فرماتے ہیں۔ شملہ کانفرنس کے دوران قائداعظمؒ انگریزی اور کانگریسی وفد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان کے حصول میں ناکام ہو رہے تھے۔ قدرت مجھے دہلی لے گئی ۔ اورنگ زیب روڈ پر حضرت قائد اعظمؒ سے ملاقات ہوئی۔ میرے منہ سے نکلا۔ ’’قائداعظمؒ آپ حکم کریں۔انشاء اللہ آپ ہم کر فرماں بردار پائیں گے‘‘۔ قائد اعظم ؒ پاکستان کے مطالبے پر سخت مضبوط ہو گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیاب و کامران ہوئے۔
    علامہ صاحب نے 1963 ء میں شہرہ آفاق جرمن مستشرق اینی مری شمل سے مذاکرہ کیا۔اور اسے قرآنِ حکیم میں قدیم و جدید فلاسفی آف اٹامزم اور ایٹمی سائنس دکھائی۔ تو وہ لاجواب ہو گئیں۔ بعد میں اس نے اسلام قبول کر لیا۔علامہ صاحب نے روئے زمین کے ایٹمی سائنس دانوں کو چیلنج کیاکہ وہ قرآنِ حکیم کی سورۃ الھمزہ پڑھ لینے کے بعد بھی سب اکٹھے ہو کر نیوکلر فائر کی اتنی ہی مختصر، ایسی ہی جامع تعریف، و تخصیص پیش کریں جیسا کہ قرآنِ حکیم میں موجود ہے۔ اس سائنس کے دور میں سائنس کی بنیاد پر وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکیں گے جیسا کہ نزولِ قرآنِ کے دوران عرب لوگ فصاحت و بلاغت کی بنیاد پر قرآنِ حکیم کے مقابلے میں ایک سورۃ بھی پیش نہیں کرسکتے تھے۔ اور انہوں نے روئے زمین کے جدید فلسفیوں کو بھی چیلنج کیا ہے کہ وہ قرآنِ حکیم کی سورۃ الھمزہ پڑھ لینے کے بعدسب اکٹھے ہو کر یہ فیصلہ دیں کہ جس طرح قرآنِ حکیم نے سورۃالھمزہ میں جدید وقدیم اٹامزم کے فلسفے کو دنیا میں نمودار ہونے والے ایٹمی جہنم (ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری) کی بنیاد قرار دیا ہے۔ حالانکہ قدیم اٹامزم پچیس سو برس قدیم ہے اور جدید اٹامزم سترہ سو پہلے ظاہر ہوا۔ ایٹمی جہنم بیسوی صدی میں نمودار ہوا۔ کیاایسا کرنا انسانی ذہن کے لئے ممکن ہے؟۔ کیا اللہ تعالی ٰ کے بغیر یہ بات چودہ صدیاں قبل کسی کے علم میں تھی۔ فلسفی علامہ صاحب کے جواب میں ہرگز یہ نہیں کہہ سکتے کہ ذہنِ انسانی کے لئے ایسا کرنا ممکن تھا۔ قرآنِ حکیم میں’’حطمہ‘‘ کی حقیقت کا انکشاف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے علامہ یوسف جبریل کے ذمے تھا اور قرآنِ حکیم ہی نے انسانیت کو ایٹمی جہنم سے نجات کاطریقہ بتایا۔
    علامہ یوسف جبریلؒ جب ڈاکٹر جاویداقبال ، حضرت علامہ اقبال ؒ کے فرزندسے ملے تو انہوں نے ان کو علامہ اقبال ؒ کی کرسی پر بٹھایا اور کہا کہ مجھے آپ کے کلام سے اپنے والد کی خوشبو آتی ہے۔ اور ان سے کلام جبریل سنا اور جاوید اقبال روتا رہا۔جاوید اقبال نے کہا کہ آج تک کوئی بھی شخص ہم سے بھی اس کرسی پر نہیں بیٹھا ۔ آپ اس قابل ہیں کہ علامہ محمد اقبال ؒ کی کرسی پر بیٹھیں۔
    علامہ صاحبؒ کی کتاب ’’جبریل اسلامک بم‘‘ کی اشاعت کے بعدامریکہ، یورپ اور دوسرے مخالف ممالک کا پاکستان کے اسلامی بم کے خلاف پروپیگنڈا یک دم ختم ہو گیا۔
    18 جولائی 1968 ء کو روٹری کلب اسلام آباد کے زیر اہتمام شہرزار ہوٹل میں دنیا بھر کے سفیروں کے سامنے قرآنِ حکیم اور ایٹم بم کے موضوع پر تقریر کی۔تقریر ختم ہونے پر روس کے سفیر نے علامہ صاحب کے پاس آ کر مصافحہ کیا اور کہا۔
    ’’ The most thought provoking lecture Ihave heard in my life‘‘
    یعنی
    ’’سب سے زیادہ فکر انگیز تقریر جو میں نے اپنی زندگی میں سنی ہے۔‘‘
    اس کے بعد امریکی سفیر علامہ صاحبؒ کے پاس آئے اور اس نے بھی وہی جملہ کہا جو روس کے سفیر نے کہا تھا ۔ البتہ اس کا مصافحہ کچھ زور دار تھا ۔ شگاکو امریکہ کےBulletin of the atomic scientist ۔ Newsweek, Time ، پاکستان ٹائمز، concept, News اور اس کے علاوہ سینکڑوں اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل میں ان کے مضامین شائع ہوئے۔
    1964 ء میں علامہ صاحب کے استفسار کے جواب میں انگریزشہرہ آفاق فلسفی برٹرینڈ رسل نے آپ کو لکھا۔ کہ:۔
    ’’ جب سے آدم اور حوا نے گندم کا دانہ کھایا ہے۔ انسان نے ہر وہ حماقت کی ہے۔ جو وہ کرسکتا ہے۔ اور انجام ایٹمی جہنم ہے۔‘‘
    لیکن علامہ صاحب کو سورۃ الھمزہ نے ناامید نہ ہونے دیا۔ ویسے رسل کا تجزیہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ غلط نہ تھا مگر اللہ تعالی ٰ نے اپنی مہربانی سے قرآنِ حکیم میں ایٹمی جہنم سے بچنے کی تدبیر بتا دی ہے۔
    علامہ صاحبؒ بچپن میں مڈل پاس کئے بغیر سکول سے بھاگ گئے۔ پچیس برس کی عمر میں 1942 ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران بغدادو کربلاکے قریب ایک مقام مصیب میں انہوں نے کئی روحانی خواب دیکھے۔ وہ انڈین آرمی میں سپاہی تھے ۔ ایک حکم آیا جس میں اسلام پر زد پڑتی تھی۔ جس پر علامہ صاحب نے وہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔علامہ صاحب نے آرمی کے احکام کی خلاف ورزی کی تو ہندوستانی میجرنےGOC مڈل ایسٹ جنرل الیگزینڈر کے خط کے ساتھ علامہ صاحب کے سامنے فوجی سٹار پھیلا کر کہا جو کہو میں یہاں سے تم کو بنا کر (یعنی جنرل وغیرہ) ہندوستان بھیج دیتا ہوں۔ آپ انگریز کے خلاف بغاوت ختم کردیں مگر علامہ صاحب نے قطعی طور پر اس سے انکار کردیا۔اور جرنیل بننے سے نکاری ہو گئے۔ انگریزمڈل ایسٹ میں ڈھائی لاکھ مسلمان ہندی فوجیوں کے ردعمل سے بے حد خوف زدہ تھا۔ البتہ علامہ صاحب کا کورٹ مارشل کردیا گیا۔ اور پھر چالیس برس یعنی 1982 ء تک شب و روز علم کے حصول میں منہمک رہے۔ اردو ، فارسی، عربی، انگریزی زبانیں، ادب،قرآن حکیم، توریت، زبور، انجیل کی تفسیر و تشریح ،ہومیوپیتھک کے کورس، سنیاسیت، سائنس ، ایٹمی فزکس تک، فلسفے ڈارون اور رسل تک، تواریخ جغرافیہ اور دوسرے قدیم و جدید علوم حاصل کئے اور آخر کار انگریزی زبان میں چودہ جلدیں اور اردو زبان میں چودہ اتنی ہی تحقیقی کتب لکھیں۔ جو سب کی سب ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنِ حکیم اور سائنس کے حوالے سے ہیں۔ آپ نے 1942 ء میں مختلف خواب دیکھے۔1961ء میں معلوم ہوا کہ علامہ صاحب کا مشن انسانیت کو ایٹمی جہنم یعنی حطمہ سے آگاہ کرنا ہے۔ علامہ صاحب نے جو کچھ لکھا ہے۔ وہ خوابوں پر انحصار نہیں کیا بلکہ انسانیت کے سامنے علمی دلائل پیش کئے ہیں اور آپ نے ہر بات سائنس اور قران حکیم کے حوالے سے لکھی ہے۔ سارا علم انہوں نے بغیر کسی استاد سے حاصل کیا۔ یہ عجیب بات ہے۔ تاہم اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ علامہ صاحب کی پیدائش 17 فروری1917 ء میں موضع کھبیکی میں ایک اعوان خاندان میں ہوئی ۔دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانیت کو اس دنیا کے ایٹمی جہنم اور اگلی دنیا کے حطمہ کے دردناک عذاب سے بچائے۔آمین۔

    پروف ریڈنگ 27-8-2015
    Back to Conversion Tool

    Linux VPS | Dedicated Servers | Urd

  2. کلامِ جبریل ادبی جواہر کا بیشن بہا خزانہ ہے
    تحریر: شوکت محمود اعوان
    موجودہ دور کا انسان سائنس کے راستے پر تباہی کی طرف رواں دواں ہے اور تمام دنیا اس غارت کے گڑھے کی طرف کچھی جاتی ہے ۔ اس کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہر شخص اس مغالطے میں ہے کہ دور’’ ترقی‘‘ کی جانب جا رہا ہے اور گرفتارانِ سراب کی مانند ہر فرد اور ہر قوم یہ سمجھ رہی ہے کہ عنقریب وہ خود کفیلی کے اس آب حیات تک پہنچ جائے گی جو ان کی آنکھوں کے سامنے نہایت تیزی سے چمک رہا ہے مگر افسوس کہ جس چیز کو وہ آبِ حیات کا سمندر سمجھ رہے ہیں وہ محض دھوکا ہے۔ وہ محض سراب ہے وہ تو محض صحرا میں اٹھتے ہوئے بخا رات کی لہریں ہیں اور ان کے پیچھے ایک طویل و عمیق غار ہے تباہی کا جس میں سراسر آگ مشتعل ہے اور وہ لوگ جو،اب اندھا دھند اس غارِ عمیق کی جانب آبِ حیات کے مغالطے میں مجبور بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ دفعتاََ اپنے آپ کو اس غار کے دہانے پر پائیں گے جس میں سے شعلے ہر طرف لپک رہے ہیں اور وہی شعلے ان سب کو لپیٹ میں لے لیں گے اور وہاں ایک کہرام ہو گا اور وہ سب آگ میں مر جائیں گے ۔ بے کس ، مجبور اور فریب خوردہ انسان! آج جتنا لٹریچر دنیا کے ہر گوشے میں چھپتا ہے اسے آپ بھی پڑھ کر دیکھیں۔ �آپ ہر لفظ جو آج کسی ادیب، شاعر ، فلسفی ، لیڈر ، سوشل ورکر کے منہ سے نکلتا ہے سن کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایک ہی لفظ جو زبان زد خلق ہے وہ ہے ’’ترقی‘‘ اور اگر کہیں سے کوئی صدا ترقی کے خلاف بلند ہوتی ہے تو اس کی اہمیت نقارخانے میں طوطی کی آواز سے بڑھ کر نہیں اور پھر برٹ رینڈ رسل جیسا انسان بھی اس ترقی اور سائنس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا ہے تو ا س انداز میں کہ سائنسی نقائص کے مستقبل میں درست ہو جانے کی امید لئے ہوئے مگر جبریلؔ کا مقام مختلف ہے۔ جبریلؔ اپنی آواز میں ایک جہاں لرز گرج لئے ہوئے ہے جس کی تڑپکے سامنے وہ بے شمار مینڈک جو بھادوں کے مہینے میں آسمان کو سر پر اٹھائے ہوئے ہیں دفعتََا خاموش ہو جائیں گے۔ جبریلؔ کو سائنس کے پیدا کردہ نقائص کے درست ہو جانے کی کوئی امید نہیں ۔ وہ برقِ خاطف کی طرح آشیانہء سائنس پر گرتا ہے ۔ جبریلؔ کو قرآن اور سائنس دو ازلی دشمن نظر آتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔جن میں سے ایک کی کامیابی دوسرے کی موت کا پیغام ہے۔ ان میں سے ایک رہے گا۔ دوسرا فنا ہو جائے گا۔ جبریلؔ صادق القول شخص ہے اور جبریلؔ کی طاقت حق ہے اور حق قرآن میں لکھا ہے۔ قرآن ایک حق کی تلوار ہے جو جبریلؔ کے ہاتھ میں ہے۔ جبریلؔ وہی کچھ کہتا ہے جو کچھ و ہ قرآن سے سنتا ہے اور صرف وہی کچھ کہتا ہے جس کا ثبوت قرآن میں ملے ۔ ظاہری محاسن جن سے جبریلؔ کا کلام از اول تا آخر مالا مال ہے گویا کہ فن شاعری کا ایک اعلیٰ نمونہ ہی نہیں گونا گوں فنی اور ادبی جواہر کا ایک پیش بہا خزانہ بھی ہے مگر جو چیز حقیقی توجہ کی مستحق ہے وہ ہے وہ مواد اور وہ موضوع جو منظوم ( نعرہ جبریل، آئینہ جبریل ) کا طرہٗ امتیاز ہے جس کاہر بند اپنی جگہہ ایک بنیادی مسئلے اور انفرادی نظریئے کا حامل ہے جسے کچھ اس انداز سے بنایا گیا ہے جو صرف جبریلؔ ہی کا حصہ ہے۔ ہمارے اس نئے دور اور مسلمان کی کیفیت کا جس طرح تجزیہ کیا گیا ہے یہ بذات خود ایک معرکہ ہے۔ نعرہ جبریل ؔ اور آئینہ جبریلؔ کے بعض بند تو ایسے ہیں جن پر کتابیں تصنیف کی جا سکتی ہیں ۔بعض نشتریں تو ایسی ہیں جن کے زخم سے ایک پتھر دل انسان بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ بعض شعلے تو ایسے ہیں جن سے نا امید سے نامید انسان بھی بھڑک اٹھتا ہے۔ اس میں آہیں ہیں۔ آنسو ہیں۔ نالے ہیں۔ تیر ہیں۔ برچھیاں ہیں ۔ نعرے ہیں۔ تکبیریں ہیں اور پھر حکمت ہے، نصیحت ہے۔ الہیٰ فلسفہ ہے اور ایک دلفگار انداز ہے ۔’’جو خود جگر چاک ہوں اوروں کو جگر چاک کروں ‘‘ کہتا ہوا دل میں اتر جاتا ہے اور کچھ ایسا درد لئے ہوئے ہے کہ رقت ہو جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی بلند پہاڑ کی چوٹی سے کرِنا پھونک رہا ہے جس کی رفتار لحظہ بہ لحظہ بڑھتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ کلیجے پھٹ جائیں گے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک دردمند ناصح ایک دردمند بھری آواز میں ہمیں ہماری زندگی پر سرزنش کر رہا ہے اور ہم ایک پشیمان مجرم کی طرح اس کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ اللہ اللہ۔ ایک انسان کا کلام ہے۔ دور تیزی سے تباہی کیطرف بڑھ رہا ہے اور مجبور مسلمان کو جس بے بسی سے اس دور میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ دور جس انداز میں ایک مصیبت عظمی کی تاریک سے تاریک تر فضاؤں میں بڑھتا چلا جارہاہے اور مسلمان جس دردناک انداز سے اس ابتلا ئے عظیم میں اس اندوھناک قیامت صغری کی طرف بے بس و مجبور کھچا جا رہا ہے اور وہ گھٹائیں جو اس دنیا میں بنی نوع آدم کے افق پر اک خوفناک تیزی سے تباہی کی چھائی جا رہی ہیں اور وہ بلائیں جو دنیائے اسلام پرعنقریب ایک تباہ کن انداز سے مسلط ہونے والی ہیں اور وہ وسائل جو دنیا کو کفرو الحاد کی تیرہ و تار کھائیوں میں دھکیل رہے ہیں اور وہ جگر پاش مسائل جو دنیائے اسلام کو درپیش ہیں، جن کو سمجھنا ہر مسلمان کاعین فرض ہے اور پھر بنی نوع آدم کی یہ بے بسی اور مجبوری اور مسلمانکی یہ غفلت یہ مستوری، ان کوائف کو جس انداز میں جبریلؔ نے سلک سخن میں پرو دیا ہے، اس کا اندازہ کچھ کلام کو سن کر ہی ہو سکتا ہے۔ قلم اسے صفحہء قرطاس پر اتارنے سے قاصر ہے۔ نقد و نظر کے قوانین و اصاویل بھی ایک معین مقام تک ساتھ دیتے ہیں حتیٰ کہ اقرار عجز میں سرنگوں ہو جاتے ہیں اور پھر ایک ایسے شخص کا سوا سال کے قلیل عرصے میں سارا دن قرآنی مسائل کی انگریزی تصنیف میں مصروف رہ کر کچھ پہروں میں ’’نعرہء جبریل اور آئینہ جبریل‘‘ (نالہ جبریل) جس کا نام کبھی شاعری کی دنیا میں دیکھا ہی نہیں گیا ہو فقط رات کے اگلے پچھلے پہروں میں نعرہء جبریل کی صورت میں شہرہ آفاق منظوم پہلی ہی چھلانگ میں لکھ ڈالنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو سلجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک کرشمہ ہے اور یہ گل و بلبل کا فسانہ نہیں اور نہ ہی اس شاعری کو کوئی آدمی طوطے مینے کی کہانی سمجھ لے بلکہ یہ نظم برائے نظم نہیں ایک دھڑکتا ہوا پیغام اور دل میں اترتی ہوئی نصیحت ہے۔آج دنیا اور دنیا سے بڑھ کر مسلمان قوم سائنس کے متعلق جن غلط فہمیوں میں مبتلا ہے اور کفر و الحاد کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی انسانیت جس طرح دین و مذہب سے روگرداں ہے، اسے جس انداز میں جبریل نے اپنے کلام میں واضح کیا ہے، اس کا بیان نثر میں بھی کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک عظیم المرتبت خطیب ایک نہایت ہی اعلیٰ انداز بیان میں جملہ متنازعہ فیہ مسائل کو اس پر’ اثر زبان سے سلجھاتا ہوا چلا جاتاہے اور دقیق سے دقیق غلط فہمیوں کے پردے اس نادرالووجود حکمت سے فاش کرتا جا رہا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم و حکمت کا ایک سمندر ہے کہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا جا رہا ہے اور موجودہ اور مروجہ غلط فہمیوں کو تنکوں کی طرح بہائے جا رہا ہے اور کہیں زور کلام کم نہیں ہوتا کہیں گراوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ آپ ذرا توجہ ہٹا کر تو دیکھیں ۔ آپ کے دل کو تو لاشعوری طور پر پر ایک قوی طاقت نے اپنے قبضے میں جکڑ رکھا ہے۔ آپ کے جسم پر لرزہ ہے ۔ آپ کی آنکھوں میں حیرت ہے ۔ آپ کے دل میں ایک ہیجان برپا ہے ۔ آپ کو کسی دوسری دنیا میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ آپ آپ نہیں رہے بلکہ کسی اور دنیا کا جزو ہو چکے ہیں۔ پھر سائنس اورقرآن کا جو مقابلہ اشعار میں دکھایا گیا ہے وہ بذاتِ خود ایک عدیم المثال معرکہ ہے ۔ بہت سے قادرالکلام اصحاب جنہیں اللہ تعالی نے اقلیم سخن میں بحیثیت ایک کلیم کے نوازا ہے وہ صدقِ دل سے اس امر کا اقرار کریں گے کہ سائنس اور قرآن کے مقابلے جیسے ادق مضمون کو اس انداز میں جس انداز میں جبریل ؔ نے اس چیز کو نبھایا ہے لباسِ نظم سے مزین کرنا اس طرح کہیں بھی آپ کو بوجھل اصلاحات حکمتی کی مروجہ گرانباری سے متحمل ہونے نہیں دیتا اور فن سخنوری کا ایک گراں قدر نمونہ ہے ۔اندازِ سخن کے ساتھ ساتھ نفسِ مضمون کو سامنے رکھیں تو دنیا کا کوئی عظیم سے عظیم فلاسفر بلکہ سائنسد ان کسی اعلی درجے کی زبان میں محض نثر میں بھی نہیں لکھ سکتا یہاں تو بات ہی کچھ اور ہے ۔ شعرو سخن کی عظمت، علم و ادب کا فخر، نور قرآن کا آئینہ، شمع رسالت کا پروانہ ، انسانیت کا دوست۔ اسلام کا خادم ، مسلمان کا ہمدرد اور ایک دردمند انسان جان توڑتی ہوئی نظم کو جبریلؔ نے آبِ حیات پلا دیا ہے۔
    علامہ یوسف جبریلؒ کے موضوعات میں کفروالحاد، ایمان، سائنس، دور، غور آیات، مادہ پرستی، آخرت، علم، حکمت، انسانیت، ادوارِ ماضی اور دورِ حاضر کی خصوصیات کا مقابلہ،حکمت حاضر۔ علم حاضر شامل ہیں، آپ کے کلام میں درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے بلکہ ہر بات درد میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ حرف حرف سے درد ٹپکتا ہے۔ ہر بات میں ایک بات ہے۔ پھر سارا انداز فلسفیانہ ہے۔ ایک خاص مکتب فکر ہے جس کا اصل مکتبِ نبوی ﷺ سے ملتا ہے۔ ایک مسلسل دلیل ہے۔ پھر ایک امید ہے۔ جبریل کاایمان ہے کہ قوم جاگے گی اور وہ تمام پیشین گوئیاں جو نبی اکرمﷺ کی طرف منسوب ہیں وہ پوری ہو کر رہیں گی۔ مگر شائد ہم نہ ہوں گے۔ بقول ان کے ’’ گلشنِ دین محمد ﷺ میں بہار آئے گی‘‘۔ جبریل جب دورِ اسلامی کو بیان کرتاہے تو گیتی بھی آہیں بھرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ شوکت محمود اعوان
    صدر یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی پاکستان
    allamayousuf.net
    http://www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *