ہماری پارٹی نے پہچان دیا ہم نے ہر روز حکومت میں گلگت بلتستان کو حقوق دیئے ہیں۔ہم نے 2 سال کا انتظار نہیں کیا ہے۔ جی بی کے موجودہ گورنر کے پاس کوئی انظامی امور کا اختیار نہیں ہے، سید خورشید شاہ

سوست ٹوڈے /گلگت /ایس یو ثاقب /قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی پاکستان سید خورشید شاہ قمر زمان کائرہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا باضابطہ  ایکشن کمیٹی نہیں ہے حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف نے گلگت بلتستان آکر باقائدہ ایکشن کمپن کا اعلان کرتے ہوئے 45 ارب کا اعلان کردیا اور یہ پری پول رگنگ ہے جس کی مزمت کرتے ہیں۔کدری دور معاہدے کو جب  پی پی پی کو مرکز میں اعتماد میں نہیں لیا ہے ہم نہیں چاہتے ہیں یہ منصوبہ کالا باغ ڈیم بن جائے۔ ایک وزیر  کو لاکر گورنر بنایا جو کہ غیر قانونی ہے۔18 ویں ترمیم کے تحت گورنر اسی صوبائی  ہوتا ہے۔ جتنے  بھی ہمارے منصوبے تھے اس پر نواز شریف نے اپنے نام کی تختی لگانے کی کوشش کی ہے۔اس وقت کونسل میں 3 مشیر نہیں ہیں انکو میں گورنر کی طرح تخت لاہور سے لایا جائے۔یہاں کے لوگ  فراخ دل ہیں ڈسپائل انکو دینگے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امپاورمنٹ آڈر 2009 میں نگراں  حکومت کا ذکر نہیں تھا۔جس کے حوالے سے کام کرناتھا لیکن اچانک ن لیگ نےپری پول رگنگ کے لیے اس طرح کیا ہے یہ قانون ہے کہ گورنر ریٹائرڈ ہونے کے بعد 2 سال کے محدد الیکشن نہیں لڑسکتا ہے۔گلگت بلتستان اور کشمیر کو ہم پاکستان کا حصہ سمجھے تو تمم مراعات مل سکتے ہے۔بھٹو نے ایف جی آر ختم کیا۔ہماری پارٹی نے پہچان دیا ہم نے ہر روز حکومت میں گلگت بلتستان کو حقوق دیئے ہیں۔ہم نے 2 سال کا انتظار نہیں کیا ہے۔ جی بی کے موجودہ گورنر کے پاس کوئی انظامی امور کا اختیار نہیں ہے ہم قائم مقام گورنر تھے اور اس کور ریگویر بناکر خود قانون شگن کردی گئی ہے۔گلگت بلتستان کو متنازعۃ کہنے والے عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ن لیگ والے اب ھی متنازعۃ کہتے ہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہ پاکستا ن کی اکائی ہے۔یہاں جھنڈا پاکستان کا ہے۔ فوج پاکستان کی ہے تمام معاملات پاکستان سے ہوتے ہیں تو متنازعہ کس طر ح ہوسکتا ہے۔صحافیوں تندو تیز سوالوں کے دینے سے گریزاں ہوئے اور سیٹٹ سبجیکٹ رول کے بارے میں غلط کام لیتے ہوئے کہ کہ سٹیٹ سبجیکٹ رول بھٹو نے ختم کردیا ہے اور کہا کچھ معاملات میڈیا سے چھپانا پڑتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *