اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے بریفنگ میں گلگت بلتستان نظر انداز کر دیا گیا۔

گلگت(چیف رپورٹر) اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے بریفنگ میں گلگت بلتستان نظر انداز کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کے کسی نمائندے کو نہیں بلایا گیا۔ جو اس خطے کی محرومیوں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ گلگت بلتستان کے500کلو میٹر علاقے کو چیرتے ہوئے اقتصادی راہداری منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر جی بی کے بیس لاکھ عوام کے تحفطات دور نہیں کئے گئے تو سبسڈی سے بڑی تحریک شروع کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار کوارڈینیٹر و ترجمان عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان وجاہت علی نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا2500مربع میل علاقہ 1963ء میں جی بی کے عوام سے پوچھے بغیر علاقہ چین کے حوالے کیا گیا۔ اب شندور اور دیامر کے کچھ علاقے بھی غصب کئے جا رہے ہیں۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا دنیا ایک گلوبل ویلی بن چکی ہے۔ ظالم حکمران ہماری رائے پوچھے بغیر جو فیصلہ ہو گا۔ اب اس کا شدید رد عمل آئے گا۔ اقتصادی راہدرای منصوبہ گلگت بلتستان شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ نام نہاد سیاسی رہنماء الیکشن میں عوام کو بے وقوف بنانے کے بجائے گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل اور غصب شدہ حقوق اور عوام کے فلاح و بہبود کیلئے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ میں تھرڈ پارٹی کی موجودگی کے بغیر منصوبہ شروع کرنا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اگر وفاقی حکومت اور نواز شریف نے سنجیدگی سے اس معاملے پر جی بی کو اعتماد میں نہیں لیا تو گندم سبسڈی تحریک سے زیادہ شدید مذاحمت سامنے آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بہت جلد عوامی ایکشن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے اس پر اپنی پالیسی سامنے لائینگے اور بھر پور تحریک شروع کرینگے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *