نوٹ دو ،ووٹ لو کیوں لب سلے ہیں؟؟؟ تحریرسعید الرحمان

پچھلے دنوں ہم کچھ دوست ایک کینٹین میں بیٹھ کر گلگت بلتستان کے انتخابات پر تبادلہ خیال کر رہے تھے کوئی کسی کے بارے میں تو کوئی کسی کے حوالے سے مختلف رائے دیتااور ان میں ہر کوئی دوسرے کو اپنی مرضی کے امیدوار کو ووٹ دینے کی تلقین کر رہا تھا اتنے میں وہاں ایک اور دوست پہنچ گئے ،آتے ہی انہوں نے کہا جناب کس موضوع پر بات ہو رہی ہے ؟ تو میں نے کہا آپ کو تو معلوم ہی ہے آج کل انتخابات کاموسم ہے تو انہی کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے ۔ان صاحب نے کہا جناب پچھلی بار ہم کچھ دوستوں نے اپنا ووٹ دس ہزارروپے لے کر فلاں امیدوار کو دئیے تھے اس بار پھر سے جو سب سے زیادہ پیسے دے گا میں تو اسی کو ووٹ دوں گا ۔جب وہ یہ ساری باتیں کر رہا تھا میرے پاؤں کے نیچھے سے زمین نکلتی جا رہی تھی کہ ہمارے معاشرے میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ووٹ بیچا جا رہا ہے ۔میں اسی خیال میں گم تھا کہ دوسرے دوست نے مجھے جھنجوڑتے ہوئے کہا کیا ہوا کس سوچ میں پڑے ہو ؟ میں نے کہا ،کچھ نہیں بھائی اس دوست کی باتیں سن کر مجھے حیرت ہو رہی تھی اسی خیال میں گم ہوا پڑا تھا ۔میں نے کہا ہمارا ووٹ اللہ تعالی کی امانت ہے اور اس کا صحیح استعمال ہم سب پر فرض ہے اس کو ہم اچھی قیادت کے چناؤ کیلئے استعمال کر تے ہیں مگر یہاں تو حالت کچھ اور ہے ہم اپنا ووٹ بیچنے پر تلے ہوئے ہیں کچھ پیسوں کے عوض اپنا ووٹ کسی کو بھی بیچ دیتے ہیں اور بڑے فخر سے یہ دعوہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔جس ووٹ کے ذریعے ہم اچھی اور باصلاحیت قیادت چنتے ہیں اس کو جب ہم بیچنے لگیں گے تو سوچیں کہاں سے اچھی اور با صلاحیت قیادت آئیں گے۔ووٹ بیچنے کا مطلب تو یہی ہوگا کہ ہم خود نہیں چاہتے کہ ایک اچھا اور با صلاحیت قائد جیتے اور اقتدار میں اچھے لوگ آئیں ۔میرے ان الفاظ کو سن کر دوسرے دوست نے بھی خاموشی توڑ دی اور وہ بھی اسی طرح کے جذبات دکھانے لگا۔بہر حال ہم نے اس دوست کو بھی قائل کرہی لیا کہ وہ ووٹ کا صحیح استعمال کرے۔مگر یہاں سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اس ایک دوست کی سوچ ہی یہ نہیں تھی کہ وہ ووٹ بیچ دے اس کی طرح کے کئے اور لوگ بھی ہونگے جو چند پیسوں کے عوض اپنا قیمتی ووٹ بیچ دیتے ہیں ۔جب ان لوگوں سے ووٹ بیچنے کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو یہ کہہ کر خود کو ایک طرف کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے ایک ووٹ کی کیا حیثیت ہے جو ہم کسی کو بیچ دیں یا مفت میں دیں تو کوئی بہت بڑا فرق پیدا ہوگا ،اس کے علاوہ ماضی میں ہم نے یہی ووٹ مفت میں بھی لوگوں کو دیا ہے مگر وہ اقتدار میں آتے ہی ہوا میں اڑنے لگتے ہیں اور عوام کے مسائل خود حل کرنے کے بجائے ان سے ایسے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں جیسے وہ کبھی ہمارے پاس ووٹ مانگنے آئے ہی نہ ہوں۔
قارئین ! ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ آپ کا آج گزرے ہوئے کل سے بہتر ہواور مستقبل آج سے بہتر ہو مگر جب اس فارمولے کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسا کرنا ممکن نہیں رہتا کیونکہ جب ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ عوام میں اتنا بھی شعور نہیں پایا جاتا کہ قیادت کیلئے ایک خاص انسان کو چنا جائے بار بارانہی کو چننا جو اس عوام کو لوٹنے اور اپنے اکاؤنٹس بھرنے کے ہمیشہ سے عادی رہے ہیں سراسر بے وقوفی ہی ہوتی ہے۔اب بار بار انہی کو ہم قیادت کیلئے چنیں گے تو ظاہر ہے ہمارا آج کل سے کیسے بہتر ہو سکے گا؟انتخابات کے قریب آتے ہی غریب سے غریب کے گھر میں بھی بڑے بڑے سیاستدانوں کا آنا جانا رہتا ہے کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ سبز باغ دکھا کر ان سادہ لوح غریب عوام کو بے وقوف بنانے لگتے ہیں اور پھر انتخابات میں انہی غریبوں کے ووٹ کے نتیجے میں جیتتے ہیں تو اگلے پانچ سالوں تک وہ بھول ہی جاتے ہیں کہ وہ عوام کے ووٹ کی بنیاد پر سیٹ جیتے ہیں اور اسمبلی میں ان کی نمائندگی کرنی ہے ۔اس کے علاوہ انتخابات کے موسم میں کئی اور بھی ایسے ایسے حادثے رونما ہوتے ہیں کہ جن کے حوالے سے ہم کبھی سوچ بھی نہیں رہے ہوتے ہیں جیسا کہ اس بار گلگت کے کچھ علاقوں میں نوجوان لڑکوں نے پیسا کمانے کا انوکھا طریقہ بھی ایجاد کرڈالا وہ ایسے کہ انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد ان نوجوانوں نے اتفاق کر کے یہ طے کرلیا کہ فلاں امیدوار کی کمپین دفتر کی ذمہ داری فلاں ساتھی لے گا اور اس امیدوار سے کمپین دفتر کی مد میں پیسے اٹھائے گا اس طرح چاریا پانچ نوجوانوں نے مل کر چار پانچ امیدواروں کی کمپین دفاتر کی ذمہ داریاں لی ہیں اور انہوں نے اس مد میں کافی پیسے بھی بٹورے ہیں۔اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ جہاں انتخابات کچھ لوگوں کیلئے ایک جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں وہاں کچھ لوگوں کیلئے پیسے کمانے کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔جس ووٹ کے ذریعے ہم ملکوں اور قوموں کی تقدیریں بدلنے کی بات کرتے ہیں اسی ووٹ کو کچھ لوگ پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں ۔
ان حالات میں ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ گھر تک پہنچ جائیں ،ہر ہر جوان ،بوڑھے اور دیگر لوگوں تک پہنچ کر ان کو ووٹ کی شرعی حیثیت سے آشنا کیا جائے ۔جس کسی بھی علاقے میں ایسے لوگ ہوں جو اپنا ووٹ بیچنے اور جہاں کہیں بھی کوئی امیدوار ووٹ خریدنے کی بات کرے وہاں ان کو شعور دلایا جائے کہ وہ جو کر رہے ہیں قطعا وہ سارا کچھ غلط ہے اور اس طرح وہ ان سیاسی لٹیروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو پانچ پانچ سال اسمبلی میں بیٹھ کر مست اپنے اکاؤنٹس بھرتے رہتے ہیں اور پھر اگلے انتخابات میں نئے منشور کو لے کر یا کسی اور پارٹی ٹکٹ سے پھر عوام کے سامنے آکر سبز باغ دکھانے کا عمل شروع کردیتے ہیں اسلئے وقت سے پہلے ہمیں اس بات کا احساس کرتے ہوئے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، لوگوں کے دلوں پر دستک دینی ہوگی ،ان کو ووٹ کی طاقت کیا ہوتی ہے اس کا شعور دینا ہوگا تبھی ہمارے اس معاشرے میں لوگ اچھی اور باصلاحیت قیادت کے چناؤ میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *