صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح چترال میں بھی بلدیاتی انتحابات کا سلسلہ جاری ہے۔

سوست ٹوڈے(چترال)(گل حماد فاروقی) خیبر پحتون خواہ کے دیگر اضلاع کی طرح چترال میں بھی بلدیات انتحابات کا سلسلہ جاری ہے۔ صبح آٹھ بجے سے محتلف پولنگ اسٹیشن پر لوگ جوق درجوق آتے ہیں جن میں بعض امیدواران اپنے ووٹرز کو اپنی گاڑیوں میں پولنگ اسٹیشن تک پہنچاتے ہیں۔ ان لوگوں میں خواتین، مرد ، جوان اور بوڑھے یکساں طور پر انتحابات میں اپنی رائے کا اظہار کرنے کیلئے آرہے ہیں۔
تاہم بعض پولنگ اسٹیشن پر ووٹرز نے شکایت کی کہ جگہہ نہایت تنگ ہیں اور ووٹرز کی تعداد بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے اکثر لوگ ووٹ ڈالے بغیر واپس جارہے ہیں۔
سینگور کے مقام پر گرلز سکول میں جو پولنگ اسٹیشن مقرر کیا گیا ہیں پریذایڈنگ آفیسر کے مطابق وہاں 1230 ووٹ ہیں جن میں صبح آٹھ سے دس بجے تک نہایت کم ووٹ پول ہوئے ہیں یہ جگہہ نہایت تنگ ہیں نہ تو خواتین ووٹرز کیلئے انتظار گاہ ہیں نہ عملہ کیلئے مناسب جگہہ ہے۔ اس سلسلے میں جب ریٹرننگ آفیسر سید مظہر علی شاہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ جگہہ اگرچہ بہت تنگ ہے جسے انہوں نے مسترد کیا تھا مگر مقامی لوگوں کے اصرار پر اسے پولنگ اسٹیشن کے طور پر منظور کیا گیا۔
اسی طرح بلچ ہائی سکول میں بھی خواتین ووٹرز کیلئے جگہہ نہیں تھی بعد میں علاقے کے لوگوں کے اصرار پر سکول میں ان کیلئے ایک کمرہ حالی کرایا گیا ۔
تاہم بعض جگہہ پر خواتین پولنگ اسٹیشن پر مر د پولیس اہلکار تعینات ہیں جسے چترال کے لوگ اپنے مقامی روایات کے حلاف سمجھتے ہیں ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے چند مقامی لوگوں نے شکایت کی خواتین پولنگ اسٹیشن پر لیڈیز پولیس ہونا چاہئے تھی اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر سے رابطہ کیا گیا تو ان کی ترجمان سب انسپکٹر امان اللہ خان نے بتایا کہ ان کے پاس خواتین پولیس کی تعداد صرف 43 ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے ضلع میں ہر جگہہ لیڈی پولیس کو ہر پولنگ اسٹیشن پر تعینات کی جائے۔ 
محتلف مردانہ اور زنانہ پولنگ اسٹیشن کے سامنے لمبی قطار میں مرد و خواتین کو کھڑے دیکھے گئے بعض خواتین کے ساتھ شیر خوار بچے بھی تھے وہ کسی سائے کے نیچے اپنے لئے بیٹھنے کی جگہہ تلاش کر رہی تھی جبکہ مرد حضرات بھی تپتی دھوپ کے باوجود لمبی قطار میں پولنگ اسٹیشن کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے دیکھے گئے تاکہ وہ جاکر اپنا ووٹ استعمال کرے۔عشریت وارڈ سے ایک مقامی شحص امیر حسام الدین جو تحصیل کونسل کیلئے امیدوار بھی ہے کا کہنا ہے کہ صبح آٹھ بجے سے تین بجے تک سات سو میں سے صرف 185 ووٹ پول ہوئے اگر سست روی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو خدشہ ہے کہ زیادہ تر ووٹرز اپنے رائے دہی سے محروم رہ جایں گے۔
بعض اسٹیشن پر پولنگ بوتھ کی حالت زار بھی نہایت کمزور تھی بلکہ چند ووٹرز کو دیکھا گیا جو کمرے جاکر ٹاٹ پر اپنا ووٹ رکھ کر اس پر مہر لگارہے تھے۔ تاہم مجموعی طور پر ووٹنگ کا سلسلہ نہایت پر امن طریقے سے جاری ہے اور آحری اطلاعات آنے تک کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
تمام تر مشکلات کے باوجود بھی چترال پولیس محتلف جگہہ پر تعینات ہیں اور وہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہے گا اس کے بعد گنتی سے پتہ چلے گا کہ کس کا پلہ بھاری ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *