دیامر کی صورت حال۔۔۔۔غیرت! جہالت یا غفلت؟ تحریر  علی احمد جان 

11026119_889431431079855_3477689665816063661_nضلع دیامر کا شمار گلگت بلتستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق 10,936 مربع کلو میٹر پر پھیلے اس علاقے کی آبادی 131,925 ہے۔ یہ ضلع مذہبی و مسلکی انتہا پسندی کی وجہ سے نہ صرف گلگت بلتستان میں بدنام ہے بلکہ جون 2013 میں نانگا پربت بیس کیمپ میں گیارہ سیاحوں کے قتل کے بعد بین الاقوامی سطح پر بدنامی کا باعث بنا۔ اس سے قبل سال 2012 میں 28فروری کو 18،تین اپریل کو 9 اور 15 اگست کو سانحہ بابوسر میں 20 سے زائد شعیہ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیے جانے کے واقعات بھی اس ضلعے کے نواحی علاقوں میں پیش آئے تھے۔
گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس ضلعے کے دو علاقوں داریل اور تانگیر میں جرگے کے فیصلے کے بعدآٹھ جون کو ہونے والے انتخابات میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کت عمل کو بے پردگی قرار دے کر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس جرگے میں نام نہاد علماء کے ساتھ ساتھ انتخابی امیدواروں نے بھی شرکت کی تھی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ خواتین کا گھر سے نکل کر پولنگ اسٹیشن آنا اور اور رائے شماری میں حصہ لینا ہمارے رسم و رواج کے خلاف ہے۔ دوسری قابل افسوس بات یہ ہے کہ مقامی جرگے کے اس فیصلے کو حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حیدر خان، جے یو آئی (ف) کے رحمت خالق، پی پی پی کے دافر خان اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر زمان نے بھی تسلیم کیا۔ بھلاہو مقامی اور قومی میڈیاکا جس نے اس مسئلے پر خصوصی توجہ دی اور حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جس کے بعد نامزد امیدواروں کو شوکاز نوٹس جاری کردئے گئے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر وہ فیصلے میں ملوث پائے گئے تو ان کے کاغذات مسترد ہوسکتے ہیں اور خواتین کے لیے الگ پولنگ اسٹیشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ حکومت کے اس ا علان کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ شاید ان انتخابات میں پہلی مرتبہ اس علاقے کی خواتین ووٹ کا حق کا استعمال کرسکیں گی مگر کل کی اس خبر نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا جس کے مطابق بااثر علما نے ایک جلسے کا انعقاد کرکے باقاعدہ طور پرمہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنا ہے۔ ان علما میں مولانا عبدلشکور، مولانا عبدلعزیز، مولانا عبدالقیوم اور مولانا سید جمال شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق صرف داریل میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 12,550 ہے جو حق رائے دہی سے محروم رہیں گی۔
کہا جاتا ہے کہ اس ضلعے میں بدھ مت دور کی ایک یونیورسٹی کے آثار پائے گئے ہیں مگر(ایک خبر کے مطابق) اس صدی میں بھی داریل میں لڑکیوں کے لیے کوئی تعلیمی ادارہ موجود نہیں اور لڑکوں کا پہلا انٹرمیڈیٹ کالج زیر تعمیر ہے۔ ان علاقوں کے علما کا کہنا ہے کہ اسلام میں خواتین کے ووٹ دینے کی گنجائش نہیں۔ حیرت ہے کہ ان علاقوں کے لوگ بنا سوچے سمجھے ان کی باتوں پر یقین کرتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے علاقے کی پسماندگی کی وجہ کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ اس مسئلے کو صرف غیرت یا جہالت قرار دینا ہماری جہالت ہے۔ یاصرف علما کو قصو وار ٹھہرا کر خاموش بیٹھنا ہماری بے حسی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ میں علما کو بے قصور سمجھتا ہوں۔ ۔۔۔مگر اس سارے معاملے میں حکومت کی غفلت اہم ترین وجہ ہے۔ تعلیمی ادارے قائم کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہے اور آئین کی شق نمبر 25 اے کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ تجویز کردہ نظام کے مطابق پانچ سے سولہ برس کی عمر کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے۔ کیا یہ ریاست کی مجرمانہ غفلت نہیں کہ68 سال گزر جانے کے باوجود وہ ایک تعلیمی ادارہ اس علاقے میں قائم نہیں کر سکی۔ اس صورت حال میں اگر یہاں کی خواتین کو ووٹ دینے کا حق مل بھی جاتا ہے تو کیا وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر سکیں گی ؟ میرا خیال ہے کہ جب علم و شعور نہیں ہوتواس علاقے کی خواتین کا ووٹ کاسٹ کرنا نہ کرنا برابر ہے جیسے سندھ کے دیہی علاقوں کی خواتین کو جاگیردار یا وڈیرے کے حکم پر مال مویشیوں کی طرح پولنگ اسٹیشن لایا جاتا ہے۔
ریاست کی طرف سے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اور اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے گرجاگھر، مندر اور مسجد کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ان علاقوں میں مذہبی شدت پسندوں کو یہ اختیارات اور طاقت کس نے دی اور اس کا سدباب کون کرے گا؟ کیا خود ریاست یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *