شدید گرمی اور بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لاؤڈ شیڈنگ میں قدرتی برف چترالی عوام کیلئے نعمت سے کم نہیں۔

چترال(گل حماد فاروقی) ماہ رمضان میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال میں بھی گرمی نے عوام کو پریشان کیا ہے ایک طرف گرمی کی شدت نے لوگوں کو تنگ کیا ہے تو دوسری طرف بجلی کی طویل لاؤڈ شیڈنگ نے بھی عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔
چترال کے محتلف علاقوں میں بارہ گھنٹے کی لاؤڈ شیڈنگ معمول کی بات ہے۔ لوگوں نے یو پی ایس یا انرجی سیور پنکھے لگائے ہیں جس سے وہ تھوڑی دیر کیلئے سستاتے ہیں۔ تاہم ان پریشان صورت حال میں لواری ٹاپ کے پہاڑی پر پڑنے والی قدرتی برف ان گرمیوں میں کسی نعمت سے کم نہیں۔
عصر کے وقت کافی تعداد میں گاڑیاں بائی پاس روڈ ، چیو پل اور دیگر اہم شاہراہوں اور چوک پر کھڑ ے ہوکر قدرتی برف بیچتے ہیں جو لواری ٹاپ سے لایا جاتا ہے۔ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک برف فروش نے کہا کہ وہ یہ قدرتی برف لواری ٹاپ سے لاتا ہے جس پر تین سے چار ہزار روپے خرچ آتا ہے کیونکہ وہاں ان سے ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے ۔ اس کاروبار میں کبھی فائدہ تو کبھی نقصان بھی ہوتا ہے۔ مگر وہ اس بات کا پرواہ نہیں کرتا اسلئے کہ لوگوں کو برف ملے اور وہ افطاری کے وقت کم از کم شربت یا پینے کا پانی ٹھنڈا کرسکے کیونکہ دن بھر بجلی نہ ہونے سے ریفریجریٹر یا ڈیپ فریزر بھی نہیں چلتے۔
لواری ٹاپ کے پہاڑی پر پڑنے والے یہ قدرتی برف نہ صرف دکانداروں کیلئے منافع کا سبب بنا ہے بلکہ چھوٹے بچے جو پلاسٹک کے شاپنگ بیگ بیچتے ہیں ان کو بھی اچھی حاصی مزدوری مل جاتی ہے۔مہمند ایجنسی ہی سے تعلق رکھنے والے پانچویں جماعت کے ایک طالب علم نے کہا کہ وہ پڑھتا ہے مگر ابھی چھٹیوں میں وہ شاپنگ بیگ بیچ کر گھر والوں کیلئے رزق حلال کماتا ہے اور اپنے پڑھائی کیلئے کچھ رقم بچاتا ہوں۔
شام کے وقت لوگ لمبے قطار میں کھڑی ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور یہ قدرتی برف گھروں کو لے جاکر اس سے پینے کا پانی اور شربت وغیرہ مشروبات ٹھنڈا کرتے ہیں۔رمضان کے علاوہ یہ قدرتی برف فالودہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ رمضان کے مہینے میں یہ برف لوگ گھر لے جاکر اسے کھریدکر اس پر شربت ڈالتے ہیں اور یہ فالودہ نہایت شوق سے کھاتے ہیں۔ یقینی طور پر اس گرمی میں بجلی کے بغیر قدرت کی طرف سے یہ برف چترال اور دیر کے لوگوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *