وزیر اعلیٰ اورآئی جی کے پی کے قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔پسماندہ گان اختر حسین

DSC02073چترال (بشیر حسین آزاد) موڑکھو کے شیراندورسہت کی رہائشی اور دو ماہ قتل ہونے والے جوانسال اختر حسین کی والدہ فصل بی بی، بہن حریرہ کنول اور چھوٹے بھائی جرنیل حسین اور اکبر حسین نے وزیر اعلیٰ اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ اس اندوہناک قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اس کیس کی تفتیش جدید خطوط پر کرایا جائے جبکہ مقامی پولیس اب تک قاتلوں کا چہرا سامنے لانے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے جس کے لئے وہ دومرتبہ ڈی۔پی۔ او چترال سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مقتول اختر حسین کا باپ کارگل کے معرکے میں شہید ہوچکے ہیں اور خود ان کی سلیکشن بھی چترال سکاوٹس میں ہوئی تھی اور وقوعہ کے روز وہ طبی معائنہ کے لئے گھر سے نکلا اور ایک گھنٹے بعد ان کی لاش دریا کے کنارے مل گئی۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم غریب اور لاچار پسماندگا ن کی ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی جبکہ ان کی دنیا ہی اجڑ گئی ہے اور اختر حسین کا بہیمانہ قتل ان کے لئے قیامت سے کم نہیں لیکن دندناتے ہوئے قاتل ان کی زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں اور سفاک درندوں کو منظر عام پر لائے بغیر ان کے زخم ٹھیک نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ اگر پولیس بھی ان کے بیٹے اور بھائی کے سفاک قاتلوں کو گرفتارکرکے عدالت کے کٹہرے میں لانے میں دلچسپی نہ لے ، تو وہ داد رسی کے لئے کہاں جائیں۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ وہ قاتلوں کی نشاندہی نہیں کرسکتے مگر یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ اپنی تفتیش کے ذریعے قاتلوں کو بے نقاب کرے ۔ 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *