گیارہ جولائی ،جشن امامت تحریر: الواعظ نزارفرمان علی

گیارہ جولائی ،جشن امامت
تحریر: الواعظ نزارفرمان علی
ہزار بار شکر ہے اس ذات پاک کا جس نے مخلوقات پر اپنی ظاہر ی و باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں، مگر ہم حقیقی شگر گزاری سے قاصرہیں۔آپ سب کو حضرت نور مولانا شاہ کریم الحسینی ؑ حاضر امام کا58 واں یومِ امامت مبارک ہو۔بارگاہ الٰہی میں عاجزانہ دعا ہے کہ ماہ رمضان اور اس دن کی برکت سے دنیا انسانیت اور امت کی ہر مشکل آسان ہو،روئے زمین امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ،دین/ دنیا کی اعلیٰ خوشیاں عطاء ہو،ایمان و علم کی لازوال دولت سے مالامال ہو اور ملک و ملت کا بول بالاہوجائے۔آمین یارب العالمین۔
قارئیں کرام !آج کا یومِ سعید شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،آج سے تقریباً57 سال پہلے 11جولائی1957ء کو حاضر امام اپنے دادا جان اور شیعہ امامی اسماعیلی سلسلے کے 48 ویں امام سلطان محمد شاہ کی ہدایت اور وصیت کے مطابق تخت امامت پر فائز ہوئے اس وقت آپ کی عمر مبارک فقط 21 سال تھی۔ربِ ذوالجلال کی تائید و نصرت سے منصب امامت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی حاضر امام نے مریدوں کی روحانی ترقی اور دنیاوی فلاح و بہبود کے امور میں بھر پور توجہ اور بے پناہ کوشش انجام دیں اور اپنے مورثوں کی طرح جماعت و امت کی مادی و اُخروی بہتری کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔گزشتہ 5 دہائیوں کے دوران مریدوں نے تہذیبی و تمدنی ترقی کا طویل ،پرُ پیچ اور دشوار گزار سفر جس برق رفتاری اور خوش اسلوبی سے طے کیا ہے وہ خدائے بزرگ و برتر کے فضل اور مولانا حاضر امام کی علمی و عملی تعلیم کا فیضان ہے۔اگر ہم ماضی کے دریچے وا کریں تو عیاں ہوگا کہ آپ کی مدبرانہ قیادت نے جغرافیائی ،سیاسی و انتظامی اعتبار سے منقسم جماعت کوعالم گیر اسلامی بھائی چارے کے اٹوٹ بندھن میں باندھ دیا۔جماعت کو سماجی و علمی لحاظ سے توانا اور معاشی و معاشرتی اعتبار سے مستحکم کرکے انسانی برادری میں ایک منفرد تشخص کا حامل بنا دیا۔بلاشبہ آپ اپنے مریدوں کیلئے رہبر کامل ، امت کیلئے عظیم متحرک لیڈر اور دکھی انسانیت کیلئے مسیحا کی حیثیت سے اپنے فرائض کماحقہ انجام دے رہے ہیں۔
مولا نا حاضر امام نے مغرب کے کئی اہم فورمز پراسلام اور عالم انسانیت کے حوالے سے اپنا نقطہ نظرسے بڑے مدلل انداز میں اجاگر فرمایاہے ،جیسا کہ ایک موقع پر آپ فرماتے ہیں کہ شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے امام ہونے کی حیثیت سے میرا تعلق اسلامی عقائد و ثقافت کی روایات سے ہے جبکہ میری تعلیم، میری ذاتی، سماجی و کاروباری تعلق نے میں مجھے ایک غیر اسلامی مغرب کے ساتھ وابسطہ کر رکھا ہے اور یہ دونوں(مشرق و مغرب) میرے لئے نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں،امام نے مذید فرمایا کہ ان تعلقات کو ،جن کو افسوس کے ساتھ کچھ لوگ تہذیبوں کا تصادم کہتے ہیں،میرا پختہ یقین ہے کہ یہ لا علمی کا تصادم ہے اور اس کے ذمہ دار اسلامی اور غیر اسلامی دنیا یعنی ان کے تعلیمی نظام کی ہے جو لا علمی کو دور کرنے میں ناکام ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نہایت فکر مندی سے اس بات پر اکثرزور دیتے ہیں کہ افریقہ اور ایشیا میں 70 فیصد سے زائد آبادی غربت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہاں کی معیشت کمزور اور ریاستی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔وہاں سیاسی انتشار اور معاشرتی و سماجی بدنظمی ہے اس کو ختم کرنے کیلئے عالمی ادارے،مغرب کی بڑی طاقتیں اور مسلم دنیا کی مضبوط ریاستیں اپنا فعال کردار ادا کریں۔تاکہ ترقی پذیر علاقوں میں اچھی اور فلاحی حکومتوں کے قیام ،پائیدار ترقی ،معاشی خودمختاری اور لوگوں کے درمیان منصفانہ تعلقات اور آپس میں پرامن رہ سکیں۔ان کو تعلیم ،صحت،انفراسٹرکچراور دیگر ضروری سہولتوں کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔
مغرب کی مشہور’’ براؤن یونیورسٹی‘‘ کی کئی سو سالہ تاریخ میں مدعو کئے جانے والے پہلے مسلم لیڈر ہیں جہاں آپ نے اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے اور دین فطرت کے مفہوم کو کائناتی تناظر میں دیکھنے پر زور دیا۔27 فروری2014 ء کو کنیڈین پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خصوصی خطاب فرمایا،حاضر امام پہلے مسلمان اور پہلے مذہبی فرقے کے رہنماء ہیں جنہیں اس اعزاز سے نوازا گیا۔اس کے علاوہ یہ اعزاز آج تک صرف 5 افراد جوکہ کسی مملکت کے سربراہ نہیں کو دیا گیا ہے۔اس موقع پر آپ نے فرمایا’’اسماعیلی امامت ایک مافوالقومی(آفاقی) اکائی ہے جو نبی کریمﷺ کے زمانے سے ہی اماموں کی جانشین کے تسلسل کی نمائندگی کرتی ہے،اسماعیلی امام کی ذمہ داری روحانی ہے ان کا اختیار مذہب کی تشریح ہے۔یہ کوئی سیاسی ذمہ داری نہیں ہے میں کسی قطعہ ارضی پر حکمرانی نہیں کرتا۔تاہم دوسری طرف اسلام کا بنیادی طور پر یہ عقیدہ رہا ہے کہ مادی اور روحانی دنیا پیچیدہ حد تک باہم مربوط ہیں۔دین و دنیا کا یہی امتزاج تھا جس نے میری توجہ آغا خان ڈیلوپمنٹ نیٹ ورک پر مرکوز کرایا‘‘ اس تاریخی موقع پر مسلم دنیا میں قیادت کے حوالے سے پائی جانے والی مختلف تشریحات،تکثیریت کوا یک قوت کے طور پر اپنانے،سول سوسائٹی کی ضرورت اور اس کا فعال کردار،رضا کار اور بلا منافع تنظیموں کی سرگرمیاں جو اسلامی کلچر میں وقت اور علم کے نذرانہ کی شکل میں جاری ہیں چنانچہ آپ کے حالیہ دوروں میں کنیڈا میں نئے اسماعیلی اداروں(اسماعیلی سینٹر )کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ آپ دنیا کے بڑے مذاہب،مختلف اسلامی بردریوں اور معاشروں کے درمیان بین الاثقافتی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یہ آپ کی دیرینہ خواہش ہے کہ تکثیرت کو ایک سماجی قدر کی حیثیت سے پروان چڑھانے کیلئے پر امن اور با مقصد گفتگو اور برداشت،رواداری اور فیاضی کے اسلامی سیاق میں تعلقات قائم کرنے کے امکان کو روشن کیا جائے۔بلاشبہ انسانی فلاح و بہود کے راستے پر گامزن علاقائی وبین الاقوامی اداروں میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک اپنے ویژن ،مشن اور دورس ثمرات کے اعتبار سے نمایاں و مقدم نظر آتا ہے جس کا منشور دنیا کے ہر معاشرے کے تمام افراد کی مذہبی ، قومی ،خاندانی قیود سے بالا تر ہوکر جہالت ، بیماری ، بھوک اور محرومی سے نجات دلانے کیلئے مسلسل کوشاں رہنا ،چاہے حالات جیسے بھی ہوں پذیرائی ملے یا مزاحمت کا سامنا ہو اپنے کام کو عبادت سمجھ کر خلق خدا کے کام آنا حقیقی روح ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ AKDNکے قریباً تما م ادارے(سوائے AKFED) غیر منافع بخش ،خالصتاً مفادعامہ کے پروگراموں پر مشتمل ہیں جبکہ دیگر معاشی و صنعتی ترقی سے وابستہ شعبے اسلامی منافع کی روح کے مطابق حاصل کردہ فوائد کو غیر منافع بخش انسانی بہبود کے اداروں کے نقصانات کو کم کرکے پر صرف کیا جاتاہے اور یہی بات آپ کے انسانی ضروریات و مسائل کوقابو کرنے کیلئے قائم کردہ اداروں کی خاصیت ہے کہ جب کوئی ادراہ وجود مین لاتے ہیں تو پھر بے تحاشہ نقصانات اور تکالیف کے باوجود ان کوختم نہیں کرتے بلکہ اپنی جیب سے بھی فراہم کر کے کارخیر کے عمل کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ان کے شاندار کاموں میں سے ایک تاریخی شہروں،عمارات اور ثقافتی گہواروں کی حفاظت و بحالی جن میں خاص طور پر قاہرہ میں الازہر پارک،تاجکستان کا خوروگ پارک،مغل حکمران ہمایوں کے مقبرے کے احاطے میں سرسبز باغات کی بحالی،سات سو سالہ بلتت فورٹ کی بحالی،شگر فورٹ ( بلتستان )کی ازسرنو بحالی جسے اب ثقافتی میوزم کے طور پر بھی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ گنیش، چھومر کھن، کریم آباد اور التت(ہنزہ)جیسے تاریخی جگہوں کو اس کی حقیقی شان کے مطابق بحالی اور تعمیر نو کاکام وغیرہ شامل ہیں۔
اسماعیلی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت پرتگال کی حکومت کی جانب سے اسماعیلی امامت کیلئے گلوبل سیٹ کے قیام کا اعلان ہے، معاہدے کی رو سے منصب امامت کیلئے ضروری سفارتی مراعات و اعزازات ، مستثنیات اور سہولیات کے توثیق ہوگی ، اس معاہدے میں اسماعیلی امامت کی آئینی حیثیت اور بین الاقوامی امور میں کام کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کیا گیا ہے جس کے مطابق امامتی اداروں کو باضابطہ طور پر وہاں کے باشندوں کے معیار زندگی بہتر بنانے اور علمی معاشرے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے جہاں منصب امامت پرتگیزی زبان بولنے والے ممالک کے ساتھ اشتراک بڑھانے کے ساتھ بین الاقوامی برادری اور مسلم امہ کے مابین خوشگوار تعلقات ، پرامن اور شاندار مستقبل کو یقینی بنائے گی۔
گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلے میں اسماعیلی کونسل چترال اور اسماعیلی طریقہ بورڈ کی طرف سے منعقدہ پروگرام میں معروف شخصیت جناب لیکچرر سعادت حسین مخفی( جن کا براہ راست تعلق اسماعیلی مسلک سے نہیں ہے ) نے چترالی کلام حاضر امام کے حضور میں ھدیہ کئے ۔کچھ اشعار کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
امامت کی نصف صدی اللہ کی طرف سے انعام ہے اور یہ ہمارے لئے انتہائی خوشی کا باعث ہے کیونکہ ہمیں(اسی میں تمام نعمتیں مل گئیں)آپ کی یاد اور آ پ کے قدم ہمارے لئے مبارک ثابت ہوئے آپ کیلئے ہم صبح شام دعا کرتے ہیں اے حاضر امام آ پ کوگولڈن جوبلی مبارک ہو۔ہر طرف تعلیم ،صحت اور ثقافت کے میدان میں آپ کے انعامات ہیں اسی طرح آ پ کے دادا جان نے ہمیں غلامی سے آزاد کرایا ہے۔آپ کے قدم پڑنے سے سرزمین چترال گلستان بن گئی ہے،پھر بھی یہ (قوم) احسان بھول گئے ہیں آپ کی عزت افزائی کا حق ادا نہیں کرتی اے حاضر امام آپ کو گولڈن جوبلی مبارک ہو‘‘۔
آئیں آج کے اس پرمسرت دن کے موقع پر ہم اس عہد کی از سر نو تجدید کریں کہ قیام امن اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔ایمان اور علم نافع کی روشنی کو چہار سو پھیلائیں گے ، تفرتوں کی دیواروں کو مسمار کرکے اسلامی اخوت و بھائی چارے کی پاکیزہ فضاء قائم کریں گے اور اسلام اور پاکستان کے علمی و عملی سفیر بن کر ملک و ملت کا نام روشن کریں گے انشاء اللہ۔
آپ سب کو امامت ڈے کی لاکھوں مبارک باد۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *