پانی کی بہاؤ اور مقدار میں اضافے کیساتھ جگہ جگہ سے بپھر جانے کی وجہ سے سینکڑوں کنال زرعی و غیر زرعی اراضی ندی برد ہوگئے ہیں۔

پانی کی بہاؤ اور مقدار میں اضافے کیساتھ جگہ جگہ سے بپھر جانے کی وجہ سے سینکڑوں کنال زرعی و غیر زرعی اراضی ندی برد ہوگئے ہیں۔

شگر(عابد شگری)شگر کے چھوٹے بڑے سارے ندی نالے میں پانی کی بہاؤ میں اضافہ اور بپھر جانے سے سینکڑوں زرعی و غیر زرعی اراضی ندی برد،کھڑی فصلیں تباہ ہوگئے ہیں۔موسم گرما کی گرمی نے رنگ دکھاشروع کردیا۔شگر کے تمام علاقوں سے آنے والے اطلاعات کیمبطا بق ہر جگہ ندیوں میں پانی کی بہاؤ اور مقدار میں اضافے کیساتھ جگہ جگہ سے بپھر جانے کی وجہ سے سینکڑوں کنال زرعی و غیر زرعی اراضی ندی برد ہوگئے ہیں۔ان میں سب سے زیداہ متاثر چھورکاہ ندی میں ہوا ہے جہاں ندی کی بے رحم پانی نے لوگوں کی سینکڑوں کنال زرعی و غیر زرعی اراضی پانی برد ہوگئے جبکہ گندم اور آلو کی کھڑی فصلیں بھی پانی اپنے ساتھ بہا کر لے گئے۔لوگ اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی پشتے تعمیر کرنے اور پانی کی رخ کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی پشتے کیلئے گیبیئن کی فراہمی بھی کی گئی ہے۔لوگوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کی قیمتی زمینوں اور فصلوں کو بچانے کیلئے ہنگامی طور پر ان متاثرہ علاقوں میں حفاظتی پشتے تعمیر کرنے کیلئے مشینری فراہم کی جائے اور مستقل بنیادوں سے ہونے والے نقصانات سے بچانے کیلئے اقدامات کریں۔

شگر میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122کا قیام
شگر(عابد شگری)سابق ممبر یونین کونسل مرہ پی شگر وزیر محمد نسیم نے کہا ہے کہ شگر میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122کا قیام انتہائی ناگزیر ہوگیا ہے۔شگر اور ان کے مضافات میں آئے روز ہونے والے حادثات اور واقعات میں ان اداروں کی نہ ہونے سے سخت نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔سکردو سے ایک گھنٹے کی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے اکثر ان اداروں کو اطلاع دینے کے باؤجود واقعہ ختم ہونے اور نقصانات زیادہ ہونے کے بعد پہنچتا ہے۔آگ لگنے اور کسی حادثے کی صورت میں صرف موت کو دعوت دینے اور اپنی مدد آپ کے تحت انہیں بچانے کیلئے کوشش کرنے کے سوا لوگوں کے پاس کوئی آپشن موجود نہیں۔زیادہ تر واقعات اور حادثات کے بعد تربیت یافتی عملوں اور اداروں کی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر جان ضائع اور نقصانات زیادہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور شگر میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122کی قیام عمل میں لایا جائے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *