حکومت لائف لائن کو بحال کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے۔سول سوسائٹی نمائندگان


حکومت لائف لائن کو بحال کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے۔سول سوسائٹی نمائندگان
چترال (بشیر حسین آزاد ) چترال کے تمام سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، پروفیسر سید شمس النظر فاطمی، شیر عزیزبیگ، غلام مصطفیٰ، سید برہان شاہ، مولانا ہدایت الرحمن، فرالدین، محمد ولی شاہ،سردار علی اور دوسروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ چترال میں زندگی کو معمول پر لانے کے لئے لائف لائن کو بحال کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے جوکہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں جن میں روڈ، پل اور واٹر چینل شامل ہیں۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً چار ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک حکومت انفراسٹرکچر کی بحالی میں کسی سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں مسائل دن بہ دن بڑھتے اور پیچیدہ صورت اختیار کرتے جارہے ہیں اور یہ سب انسانی المیہ کو جنم دینے پر منتیج ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے فضاؤں میں ہیلی کاپٹروں کی گڑ گڑاہٹ سے سیلاب کے متاثر ین کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا اور مختلف علاقوں میں آٹا اور دال کے چند تھیلے تقسیم کرکے حکومت اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سیلاب متاثریں کے حالت زار بیان کرتے ہوئے کہاکہ روڈ، پل، ابپاشی اور ابنوشی کے نہر اور پائپ لائن نہ ہونے کی وجہ سے تمام علاقوں میں غذائی قلت پید ا ہوگئی ہے اور گندم کا آٹا ایک نایاب جنس بن گئی ہے جس پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے۔ انہوں نے شوغور ، کھوت ، موڑکھومیں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اگر صورت حال یہی رہی توعلاقے کی تمام آبادی متاثر ہوگی جوکہ سیلا ب سے براہ راست متاثر نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اکثر علاقوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سڑکوں، نہروں اور دوسرے انفراسٹرکچر کی بحالی میں مصروف ہیں جوکہ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات میں مختلف این جی اوز کی ریلیف اپریشن میں کارکردگی قابل ستائش ہے۔


chitral

تالاب کو آزاد نہ کرنیکی صورت میں ایون کے عوام انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے،عمائدین ایون کا پریس کانفرنس
چترال (بشیر حسین آزاد) سیلاب زدہ گاؤں ایون کے عمائدین خیرا لاعظم، وجیہ الدین، رحمت نذیر، سفیر اللہ، حجیب اللہ، محبوب الرحمن اور دوسروں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے دریائے چترال کا ایون گاؤں میں متعدد دیہات اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی کو پانی میں ڈبودینے والا تالاب کو آزاد کرنے کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں جن میں کنٹرولڈ بلاسٹنگ بھی شامل ہے ۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بمبوریت اور رمبور کی وادیوں سے بیک وقت سیلاب آنے کے بعد دریائے چترال کو کئی گھنٹوں تک ایون گاؤں میں روکے رکھا جس سے لاکھوں کیوسک پانی جمع ہوکر درخناندہ، تھوڑیاندہ اورموڑدہ اور ملحقہ زمینات کو پانی میں ڈبودیا ہے مگر ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک کوئی نوٹس نہیں لیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس تالاب کوختم کرنے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج برامد ہوں گے اور تالاب کا پانی ایون کے باقی ماندہ حصوں کو بھی متاثر کرے گی اور سیم و تھور اس زرخیز علاقے کی زرعی اراضی کو ناکارہ کرے گی۔ انہوں نے ایون گاؤں کی طرف حکومت کی بے نیازی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک ہفتے کے اندر اندر تالاب کو آزاد نہ کرنے پر ایون کے عوام انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے جن میں بھوک ہڑتال شامل ہے۔ ایون کے مغززیں نے کہاکہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ ایون گاؤں کی تباہی کا ذمہ دار ہے جس کے انجینئروں نے کروڑوں روپے تو اس علاقے میں حفاظتی پشتوں کی تعمیر پر خرچ کیا لیکن ان کی معیار اور نقشہ درست نہ ہونے کی وجہ سے حفاظت فراہم کرنے کی بجائے تباہی وبربادی کا باعث بن گئے۔ انہوں نے ایون کے نالہ کو پندرہ سے بیس فٹ کی گہرائی تک چینلائز کرنے کا مطالبہ کیا جس کے بغیر پورا ایون گاؤن سیلاب کی زد میں آجائے گا۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *