وزیر اعظم پاکستان نواز شیریف کے احکامات پر (ن) لیگ کی حکومت نے 100دنوں کا ایجنڈا رکھا جس میں مکمل طور پہ کامیا بی ملی ہے- وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حا فظ حفیظ الرحمن

afizurrehman gilgitگلگت (ایس یو ثا قب ) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حا فظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا اور ایک منفرد طور پر کام کر کے اپنی حکومت کو آڈئیل بنا یا جا ئے گا ۔ اب تک جتنی بھی حکو متیں آئی ہیں ان کو اپنے آپ کی حیثیت کا علم نہیں تھا جس کے بدولت گلگت بلتستان کے تمام کام منجمد ہو ئے اور تمام ترقیاتی کاموں سمیت پاور پرا جیکٹس کے کام ادھورے رہ گئے ۔ 100دنوں کی حکومتی کا رکر دگی کے حوالے سے پر یس کانفر نس کر تے ہو ئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شیریف کے احکامات پر (ن) لیگ کی حکومت نے 100دنوں کا ایجنڈا رکھا جس میں مکمل طور پہ کامیا بی ملی ہے اور سیلاب کی وجی سے کچھ وقت لگے گا لیکن حکو متی تر جیحات عوام کو ضرور حا صل ہو نگے ۔ان 100دنوں کے ایجنڈے میں بجلی کی لو ڈ شیڈنگ کا مکمل خا تمہ ہو گا ہماری حکومت نے نئی پا ور پرا جیکٹس کے بجائے پرانے پا ور پرا جیکٹس کی منٹننس کا کام شروع کیا ہے جس کے تحت خراب شدہ پا ور ہا وسز فعال ہو نگے اور پو رے گلگت بلتستان میں 7.3میگا واٹ بجلی فراہم کی جا ئے گی اور سر دیوں میں کم سے کم 4میگا واٹ بجلی فراہم کیا جائے گا ۔فنا نس ڈیپار ٹمنٹ کو مکمل فنڈ ادا کیا گیا ہے اور اس دوران 9پلوں میں سے 6پلوں کا کام مکمل کیا جائے گا اب تک کی تمام حکومتوں کو نو مبر میں رلیلز ملتا تھا پہلی بار جو لائی کو ریلیز ملا ہے جس کے تحت ترقیاتی کام التو کے شکار نہیں ہو نگے ۔ تعلیم ،صحت،ٹوریزم اور ایل ۔جی ۔اینڈ ۔آ ر۔ ڈی ،محکمہ زراعت ،ماہی پروری سمیت لاء اینڈ آرڈر کے تمام کاموں کے لیئے ایک مثبت اقدام اٹھا یا گیا ہے اور ان100دنوں میں عوام کو محسوس ہو گا کہ کو ئی تبدیلی آئی ہے ۔ہم بیروکریسی کے سا تھ لڑ نا نہیں چا ہتے ہیں اور سا تھ مل جل کر کام کر نے کے حامی ہیں ۔پچھلی حکومت کیے سیلاب متا ثرین کے کسی بھی نقصان کی ذ مہ اری ہماری نہیں ہے 2010کے سیلاب کی ذمہ داری اس دور کی حکومت کی تھی ہماری ذمہ داری مو ضودہ سیلاب کی ہے ۔ایل ۔جی ۔اینڈ آر ۔ڈی میں نئے چیف انجینئر جلد تعینات ہو گا۔بے روز گا روں کو بلا سود قر ضے دیئے جا ئنگے۔اخوت کی جانب سے جو قر ضے دئے جا ئنگے اس کا نام تبدیل کر کے وزیر اعلیٰ بلاسود قر ضے نام رکھا جائے گا اور3000تک بے رو زگا روں کو بلاسود قر ضے دئے جا نگے ۔یکم نومبر آزادی گلگت بلتستان وک پہلی بار پاکستان کے چا روں صوبوں میں منا یا جا ئے گا ۔NDMAکو فعال بنا یا گیا ہے اور جو رقم ان کو ضرورت تھی دی گئی ہے ۔ ہر سال شندور میں فیسٹول رکھا جا تا تھا لیکنkpkحکومت کی عدم توجہی اور زمین کے تنا زعے پر اس مر تبہ دیو سا ئی میں تین دنوں کو فیسٹول رکھا گیا ہے اور اس فیسٹول میں کار ریل ،مو ٹر سا ئیکل ریلی کابھی اہتمام ہو گا اور اس فیسٹول چا ئینا کے اہم حکو متی ذمہ داروں کے علاوہ وزیر اعظم پا کستان خود بھی شر کت کر نگے۔نیب اور ایف آئی کو فعال بنا یا گیا ہے جو بھی کا روئی ہو گی قا نون کے مطا بق ہو گی اور جو افراد کرپشن میں ملوث ہیں ان کے خلاف نیب اور ایف آئی اے کام کر ینگے ۔وزیر اعظم نے اپنے دورے میں جو پچاس کڑوڑ کی رقم کا اعلان کیا تھا وہ پورے گلگت بلتستان کے سرکاری کاموں کے لیئے کیا تھا اور جہاں بھی سرکاری املاک،سرکاری سیکٹر کو نقصان ہوا تھا وہاں خرچ ہوگا ۔حا لیہ سیلاب میں حکومتی سیکٹرز میں پچاس کڑوڑ تک کا نقصان ہو ا تھا جس کو ہم نے پیش کیا تا کہ ہمارا بجٹ خرچ نہ ہو اور ہماریADPمتا ثر نہ ہو سکے حکومت کے 100دنوں کی کارکر دگی سا بقہ حکومت کی پانچ سالہ حکومت سے بہتر ثابت ہو گی ۔

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *