انسانیّت،انتخابات اور ہم |تحریر: محمد عسکری ممتاز

انسان کو شروع سے ہی اپنے بارے میں ایک بڑی غلط فہمی میں رہی ہے اور اب تک اس کی یہ غلط فہمی بدستور موجود ہے۔اور اس غلط فہمی کانتیجہ جس کا ہم طول تاریخ میں مطالعہ کرسکتے ہیں۔کبھی انسان اسی غلط فہمی کے تئیں افراط پراتر آتا ہے تو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ بلند ہستی سمجھ لیتا ہے۔غرور ،تکبر اور سرکشی کی ہوا اس کے دماغ میں بھر جاتی ہے۔کسی بھی طاقت کو اپنے سے بالاتر جاننا تو دور کی بات ہے مدمقابل بھی نہیں سمجھتا ۔اور اناربکم الاعلیٰ کی صدا بلند کرتا ہے۔اور یوں اپنے آپ کو کاملاً غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ سمجھتے ہوئے وہ جبر و قہر کا دیوتا،ظلم و جور اور شر و فساد کا مجسمہ بن جاتا ہے۔جنکی بارز مثال نمرود ،فرعون اور شداد وغیرہ ہیں۔اور طول تاریخ میں انکے جیسے اور انکے راہ پر چلنے والوں کی کمی نہیں رہی اور اب بھی موجود ہیں۔انٹرنیشنل لیول سے لیکر علاقائی لیول پر انکے پیروکار مختلف رنگ و روپ میں پائے جاتے ہیں بس ان کو دیکھنے کے لیے ایک چشم بصیرت کی ضرورت ہے تاکہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ عبرت بھی حاصل ہو فاعتبروا یا اولی الابصار حق و باطل کی جنگ ہمیشہ سے رہی ہے اور رہے گی۔
بقول علامہ اقبال
موسی و فرعون شبیر و یزید
این دو قوت از اذل آمد پدید
shigriاور ان طاقتوں میں آج بھی اسی انداز میں نبردآزما ہونے کی ضرورت باقی ہے۔اور دوسری طرف کبھی انسان اپنی اسی متذکرہ بڑی غلط فہمی کی وجہ سے اس قدر تفریط کی جانب مائل ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ ذلیل ہستی سمجھ لیتا ہے۔درخت ،دریا،پہاڑ،
جانور،ہوا،آگ ،بادل ،بجلی،چاند ،سورج،تارے ،کیڑے مکوڑے،اعضائے جسمانی غرض ہر اس چیز کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور گردن جھکا دیتا ہے۔جس کے اندر کسی قسم کی طاقت ،نفع و ضرر موجود نہیں جو بظاہر انکو نظر آتی ہے نیز اپنے جیسے انسان میں بھی کوئی قوت دیکھتا ہے تو ان کو بھی دیوتا اور معبود کے طور پر قبول کرنے میں تامل نہیں کرتا۔اور اس کی مثال دیکھنے کیلئے اپنے پڑوس میں ہندوستان ہی کافی ہے جہاں ایک تجزیہ کے مطابق پانچ ہزار سے زاید اشیاٗ ،حیوانات اور نباتات کی بہ عنوان معبود پرستش کی جاتی ہے جبکہ دنیا بھر میں یہ عمل مختلف رنگ و روپ میں جاری ہے جن میں اکثر مادیات کے حصول کیلئے اپنی عزت ابرو انسانی کرامات پر داؤ لگاتے ہیں دنیا کو حاصل کرنے کے غرض سے مکروفریب ،دھاندلی،جھوٹ،غیبت،تہمت،چغلی،چوری،عہد شکنی، غرض ہر وہ برائی گناہ اور جرم کو ذریعہ بناکر کسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یا جہالت کی وجہ سے بحرحال ان سب کا شمار بے شک اسی متذکرہ انسانوں میں ہوتا ہے۔جو ہر چیز کے سامنے جھکنے کیلئے تیار رہتا ہے جبکہ خدا نے اس انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور زمین پر اپنا نمائندہ بناکر بھیجا ہے۔ حضرت علی ؑ کا فرمان ہے( ائے انسان تم غیروں کا غلام من بنو کیونکہ خدانے تجھے آزاد پیدا کیا ہے) غلامی ایک بہت بری عادت ہے اور اس عادت کی مذمت اسلام میں بھی ہوئی ہے اور دنیا کا کوئی بھی معاشرہ اس خوی غلامی کو قبول نہیں کرتا۔
بقول علامہ اقبال
آدم از بی بصری بندگی آدم کرد گوہری داشت مگر نذر قبادوجم کرد
آدم از خوی غلامی زسگاں خوار تراست من ندیدم کہ سگی پیش سگی سرخم کرد۔
فرماتے ہیں انسان کی بصریت جب ختم ہوجاتی ہے تو دوسروں کی غلامی شروع کردیتا ہے۔کیونکہ آزادی ایک گراں بہا گوہر ہے جو انسان کے پاس ہے اور جب انسان کی بصیرت چلی جاتی ہے تو وہ اس گوہر گراں بہا کو دوسروں کی قدموں میں نچھاور کردیتا ہے۔اور غلامی کی عادت اس میں پیدا ہوجاتی ہے جب یہ عادت اس میں آجائے تو وہ انسان کتوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوجاتاہے حتی کہ میں نے کسی کتے کو کسی دوسرے کتے کے سامنے جھکتے ہوئے نہیں دیکھا جبکہ انسان انسان ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے سامنے جھک جاتا ہے۔اوریہ بڑی افسوس کی بات ہے۔اور اس غلامی کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہے کوئی پیسے کا غلام ہوتا ہے کوئی ظاہری عزت کا غلام،کوئی شہرت کا غلام،کوئی عہدے کا غلام،کوئی شہوت کا غلام اور کوئی طاقت کا غلام ہوتا ہے۔اور یہ غلامی چاہے جس شکل میں بھی ہو اور جس انسان میں غلامی کی صفت آجائے وہ انسان قرآن کی نظر میں ذلیل اور وہ حیوانات سے بھی بدتر ہوکر رہ جاتا ہے۔اسی لیئے اسلام نے ان دونوں انتہائی تصورات (افراط و تفریط) کو باطل قرار دیکر انسان کی اصلی حقیقت اس کی سامنے پیش کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
انسان اپنی حقیقت تو دیکھے کہ کس چیز سے پیدا ہوا؟ایک اچھلتے ہوئے پانی سے جو پشت اورسینے کی ہڈیوں کے درمیان سے کھینچ کر آتا ہے(الطارق5سے 7تک)
کیا انسان یہ نہیں دیکھتا کہ ہم نے اس کو ایک قطرہ آب سے بنایا ہے اور اب وہ کھلم کھلا حریف بنتا ہے اور ہمارے لئے مثالیں دیتا ہے۔اور اپنی اصل کو بھول گیا ہے ۔(یٰس۷۷اور۷۸)
انسان کی ابتداء مٹی سے کی پھر مٹی کے نچوڑ سے جو پست پانی ہے اس کی نسل چلائی پھر اس کی بناؤٹ درست کی اور اس میں روح پھونکی۔(السجدہ ۷ سے۹(
اور لاتعداد آیتیں ان آیات میں انسان کے غرور اور تکبر کو توڑا گیا ہے اور دوسری طرف سے یہ توجہ بھی دلائی گئی ہے کہ ذرا اپنی حقیقت کو تو دیکھ۔ایک نجس اور حقیر بدبو دار پانی کا قطرہ جو رحم مادر میں مختلف نجاستوں سے پرورش پاکر گوشت کا لوتھڑا بنتا ہے۔خدا چاہے تو اس لوتھڑے میں جان ہی ڈال دیں ورنہ یونہی غیر مکمل حالت میں خارج ہوجائے۔خدا اپنی قدرت سے اس لوتھڑے میں جان ڈالتا ہے اس میں حواس پیدا کرتے ہے۔اور ان آلات اور ان قوتوں سے اس کو مسلح کرتا ہے۔جن کی انسان کو دنیوی زندگی میں ضرورت ہوتی ہے۔اس طرح انسان دنیا میں�آتا ہے مگر اسکی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک بے بس بچہ ہوتا ہے۔جس میں اپنی کوئی حاجت پوری کرنے کی قدرت نہیں ہوتی بے چارہ ہوتا ہے۔خدا ہی نے اپنی قدرت سے ایسا اہتمام کیا کہ اے انسان تیری نشودنما ہوتی ہے تو بڑھتا ہے توجوان ہوتا ہے طاقتور اور قادر ہوتا ہے۔پھر ان قوتون میں انحطاط کا عمل شروع ہوتا ہے تو جوانی سے بڑھاپے کی طرف جاتا ہے۔یہا ں تک کہ ایک وقت میں تجھ پر پھر وہی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔جو بچپن میں تھی۔تیر ے حواس آہستہ آہستہ جواب دے دیتے ہیں تیری قوتیں ضعیف ہوجاتی ہے تیرا علم نسیا منسیاََ ہوجاتا ہے۔اور آخر کار تیری شمع حیات خاموش ہوجاتی ہے۔مال ،اولاد،عزیز ،دوست،اقارب اور ہمیشہ تجھ پر مرمٹنے کی قسم کھانے والے تیری پارٹی کارکن یا لیڈر ،تجھ کو قرض دینے والے یاتجھ سے قرض لینے والے تجھ سے مدد مانگنے والے یا تیری مدد کرنے والے،تمہاری سفارش کرنے والے یا جو تم سے سفارش کے طالب تھے الغرض سب کو چھوڑ کر قبر میں جاپہنچتا ہے۔اس مختصر حیات میں تو ایک سکینڈ کیلئے بھی اپنے آپ کو مزید زندہ رکھنے پر قادر نہیں ہے۔تجھ سے بالاتر ایک قوت ہے جو تجھے زندہ رکھتی ہے اورجب وہ چاہتی ہے تجھ کو دنیا چھوڑنے پر مجبور کردیتی ہے۔پھر جتنی مدت تو زندہ رہتا ہے قوانین قدرت سے جکڑا رہتا ہے۔یہ ہوا ،یہ پانی،یہ روشنی،یہ حرارت ،یہ زمین کی پیداوار،یہ قدرتی سازوسامان،جن پر تیری زندگی کا انحصار ہے ان میں کوئی ایک چیز بھی تیرے بس میں نہیں۔نہ تو ان کو پیدا کرتا ہے نہ تیرے احکام کے طابع ہیں۔یہی چیزیں سب تیرے قدرت کے خلاف آمادہ پیکار ہوجاتی ہے توتو اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں بے بس پاتا ہے۔ایک ہوا کا جھکڑ تیری بستیوں کو تہہ و بالا کردیتا ہے ایک پانی کا طوفان تجھے غرق کردیتا ہے۔ایک زلزلے کا جھٹکا تجھے پیوند خاک کردیتا ہے۔شہر کے شہر کو خاک یکسان کردیتا ہے۔تو خواہ کتنے ہی آلات سے مسلح ہو اپنے علم سے انسان (جوکہ خود تیرا اپنا پیدا کیا ہوا نہیں ہے) کیسی ہی تدبیریں ایجاد کرلے۔قدرت کی طاقتوں کے سامنے یہ سب چیزیں ہیچ ہیں اور توان عاریہ میں ملی ہوئی چیزوں کے بل بوتے پر اکڑتا ہے۔پھولے نہیں سماتا کسی طاقت کو خاطر میں نہیں لاتا ،فرعونیت ،نمرودیت اور شدادیت کا دم بھرتا ہے۔جبار وقہار بنتا ہے۔ظالم اور سرکش بنتا ہے۔خدا کے مقابلے میں بغاوت کرتا ہے ،خدا کے بندوں کا معبود بنتا ہے۔اور خدا کی زمین میں فساد پھیلاتا ہے ظلم کرتا ہے ظالموں کی حمایت کرتا ہے یتیموں کمزوروں اور ناداروں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالتا ہے الغرض کسی بھی جنایت سے باز نہیں رہتا۔اب ان معروضات کی روشنی میں ہمیںیہ فیصلہ کرنا ہے کہ معاشرے میں ہم کیا کردار ادا ررہے ہیں۔خدا نخواستہ دانستہ یا نادانستہ طور پر ہم افراط اور تفریط کے شکار تو نہیں ہورہے یا ایسے افراد کو ہم نے اپنا آئیڈیل تو قرار نہیں دیاِ یا خود ا نجانے میں ایسے افراد کا آلہ کار تو نہیں بنا ہوا ہے بڑا ہی نکتہ ہے یاران نکتہ داں کیلئے۔
راقم نے پچھلے سال سیاست اور اسلامی طرز زندگی کے عنوان سے کچھ عرائض جوکہ قبل از انتخابات میری ناقص نظر میں لوگوں کے جاننے کی ضروری باتیں تھیں۔مختصر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی اب جبکہ انتخابات کے بعد جبکہ کافی وقت گذرجانے اور حکومت سازی بھی ختم ہونے کے بعد بھی ہم موسم انتخابات سے نہیں نکلے ہیں جبکہ ہونا یہ چاہئے اور ضرورت اس بات کی ہے ہمیں اب نئی
سیاسی زمین پر اپنے معاشرتی ،معاشی،مذہبی،اخلاقی امور کو ارتقاء کی منزلوں کی طرف لیجانے کے لیئے بھرپور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اور اس ضرورت کی تکمیل کیلئے معاشرے میں موجود افراد میں سے ایک فرد کی حیثیت سے کم از کم ہماری جو ذمہ داری بنتی ہے مختلف حوالوں سے اس ذمہ داری کو پوری کرنے کی سعی اور تلاش اور حد الامکان کوشش کی جائے اب انتخابات کو رونے سے کیا فایدہ جو ہوا سو ہوا۔
اور یہ سوچ درست نہیں کی میں اکیلا بھلا معاشرے کے لیئے کیا کرسکتا ہوں؟

بقول شاعر
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کی مقدر کا ستارہ
ہمیں ایک دوسرے کو سنے الزام تراشی کرنے کسی کی ناکامی کو کسی سے جوڑنے اور کسی کی کامیابی کو کسی کی کوشش جاننے جیسی باتوں کو بالائے طاق رکھ کر مل جل کر اگے بڑھنے کی کوش کرنے کی ضرورت ہے۔ہارنے والا سیاستدان یہ نہ سمجھے اب جبکہ میں میدان سیاست میں اس بار ہار گیا ہوں تو میری کوئی ذمہ داری نہیں ایسی فکر کا انسان سیاستدان کجا انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں بلکہ اسے ہرمیدان میں آگے آگے رہ کر عوام کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے۔جبکہ اب اس کے پاس کافی وقت بھی موجود ہے اور اپنی ناکامی کے اسباب کا بغور مطالعہ کرنے کیلئے بھی اس فرصت سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے یہ کہ اس کا کون سا اقدام درست تھا اور کون سا کام غلط کس کے مشورے پر عمل پیرا ہونے کا یہ نتیجہ نکلا وغیرہ۔اور کس کے مشوروں پر عمل نہ کرنے کا کیا صلہ ملا کیونکہ جو زندگی کے تجربیات سے سبق حاصل نہیں کرتا وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتاحتی وہ ظاہری طور پر کامیاب ہوکر بھی ہمیشہ ناکام ہی رہتا ہے۔اور جن لوگوں نے بظاہر اس میدان میں اس مرحلے میں کامیابی حاصل کی ہے انکی ذمہ داری دوچندان ہے وہ جہاں سے جس پلیٹ فارم یا جس پارٹی کے ٹکٹ سے کامیاب ہوا جن جن لوگوں کی حمایت اور ہماہنگی انکی کامیابی میں شامل ہے وہ ایک طرف لیکن اب جبکہ وہ کامیاب ہوکر علاقے کا نمائندہ بن کر ایک مجلس قانون ساز کا ممبر یا رکن بنا ہے تو وہ اب علاقے بھر کا نمائندہ ہے۔نہ پارٹی کا نہ کسی شخصیت کا نہ کسی خاندان کانہ کسی قوم کا نہ کسی مکتب فکر یا مذہب کا بلکہ ہر اس فرد کا جن کا اس علاقے سے تعلق ہو خواہ وہ اس کا ووٹر ہو یا مخالف کا وہ اس علاقے کے ہر فرد کے تمام تر حقوق کی حفاظت کا ذمہ دار ہے اور منتخب نمائندئے کو ہر فورم پرلوگوں کو انکے حقیقی حقوق دلانے کی اپنی پوری کوشش اور اپنی تمام تر توانائیوں کو برؤ کار لانے کی ضرورت ہے۔اور یہ انکی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے اور ان ذمہ داریوں کی ادائیگی ان پر شرعاََ و قانوناََ اور اخلاقی طور پر لازم اور ضروری ہے۔اگر وہ ذلیلانہ حرکتوں،انتقام جوئی،اقراء پروری،عیش و عشرت،غرورو تکبر جیسی نیچ حرکتوں پر اتر آئے تو نہ علاقے میں کوئی ترقی ہوسکتا ہے نہ معاشرے میں کوئی بہتری آسکتی ہے۔نہ خود اسکو کو ئی اس عمل کا فایدہ ہوسکتاہے بلکہ آئندہ شکست فاش سے دوچار ہونیکی وجہ سے بھی بن سکتاہے اور یہ سب عملًا ہوتا ہے اور ہمارے سامنے کی باتیں ہیںیہ قانون فطرت ہے اور فطرت کے قوانین سے کسی کو بھی فرار حاصل نہیں
اسی طرح سیاستدانوں کے علاوہ معاشرے میں کردار ادا کرنے والے دوسری شخصیات علماء کرام ۔دانشور حضرات،سماجی شخصیات،لوکل انتظامیہ کے ذمہ دار افراد ،اساتذہ،طلاب،تاجر،صحافی برادری،ملازمین، زمیندار، مزدوراور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی سے مربوط افراد کو بہتری کیلئے سوچنے،فکر کرنے نظریہ دینے اور تعاون کرنے کی ضرورت ہے جو جہاں جس حد تک کردار ادا کرسکتا ہے وہ کردار ادا کرے بھرپور کردار ادا کرے۔منفی سوچوں اور منفی فکر کو ہر اسٹیج پر دبانے اور سرکوب کرنے کی کوشش کرے،مفاد عامہ کو اجاگر کرنے اور اس فکر کو عام کرنے کیلئے کوششیں کی جائیں۔جہالت،ظلم،ناانصافی،زیادتی اور تمام معاشرتی اخلاقی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے یک قلب و یک جان ہوں۔اور اس کام کیلئے ضروری ہے ہر کوئی تمام تر تعصبات لسانی،علاقائی اور مذہبی تفرقات سے دوری اختیار کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرے وگرنہ زبانی جمع خرچ جو کہ اکثر لوگ کرتے ہیں اور میدان عمل میں برعکس عمل کرتے ہیں اس عمل سے لوگوں کو ایک دوسرے دور اور بدظن کرنے کا علاوہ کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جون 2015کو ختم ہونے کے بعد جو نتائج سامنے آئے وہ سب کے سامنے ہیں نتائج برخلاف بعض تجزیہ گار جو مختلف انداز سے اخباروں،ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر پیش گوئی کرتے رہے اور انقلاب کی باتیں ہوتی رہی۔اور اپنی باتوں کی تصدیق کیلئے انتخاباتی دوروں جلسوں ،جلوسوں کو دلیل بناکر پیش کرتے رہے۔تو دوسری طرف لوگوں کی حمایت اور مخالفت کے اعلانات اور اخباری اشتہاروں اور بیانات کو کسی کی ہارجیت کیلئے سنگ میل قرار دیتے رہے اس طرح بہت سارے ہارنے والوں کو جیت کی نوید سناتے رہے اورجیتنے والوں کو ہارنے کی خبریں سننے کو ملتی رہی۔اور یہ بھی حقیقت ہے ہر جماعت یا امیدوار نے حسب استطاعت پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا اور یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں البتہ مقدار اور طریقہ کار میں اختلاف ضرور ہوسکتا ہے۔اس دوران فوج نے امن و امان کی صورت حال پر کنٹرول کی کامیاب کوشش کی اور اس لحاظ سے پرامن انتخابات پر ہماری فوج قابل تحسین ہے البتہ ایک ادہ واقعات بھی رونماء ہوئے جوکہ افسوس ناک اور کسی حد تک طبیعی بات تھی۔البتہ دھاندلی بھی ہوئی ہوگی اور اس بات سے منکر کی عقل پر شک کیا جاسکتا ہے۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ دھاندلی کس حد تک ہوئی اور دوسرے انتخابات کی نسبت اس کا ریشو موجودہ انتخابات میں کیا تھا قابل بحث ہے اور ہماری بحث سے خارج ایک موضوع ہے۔ہمارا خطہ تاریخی اور جعرافیائی لحاظ سے ایک مذہبی خطہ اور مخصوص رسومات اپنی زبان اور ثقافت سے مالا مال ہونے کیساتھ ساتھ دلفریب قدرتی مناظر ،دلکش تفریحی مقامات،بلند ترین پہاڑی چوٹیوں ،قیمتی پتھروں سے لبریز چٹانوں،زرخیززمینوں ،انواع و اقسام کے پھلوں پھولوں ،گرم و سرد چشموں اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے ساتھ ہی یہ علاقہ ہنداور چین کی سرحدوں کی وجہ سے بین الاقوامی اہمیت کا حامل خطہ بھی ہے۔بام فلک دیوسائی ہو یا کے ٹو ،دریائے سندھ کا منبع ہو یاکارگل کا محاذ، سیاچن کا عالمی شہرت یافتہ میدان جنگ ہویا شاہراہ ریشم کی زمین الحق اتنی بڑی اہمیت اور اتنی زیادہ بے مثل خصوصیات شاید ہی دنیا کے کسی خطہ کی قسمت میں یکجا لکھی گئی ہو بعید ہے اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بغیر
مبالغہ کے اس خطہ زمین کو دنیا کی مہم ترین خطہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔دنیا کے تین ایٹمی اور دو اقتصادی اوربڑی آبادی والی قوتوں کو ملانے والا مرکز کوئی معمولی بات نہیں ساتھ ہی ساتھ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے یہ عظیم ترین خطہ محروم ترین خطہ بھی ہے ہر لحاذ سے۔اس علاقے میں ترقیاتی کام آزادی کے 67سالوں کے بعد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ان علاقوں میں اب تک بے پناہ پانی ہونے کی باؤجود لوگ پینے کے صاف پانی کیلئے ترستے ہیں۔سڑکوں کی حالت ناگفتہ ہ بہ ہے پروازوں کا نظام یہاں کے عوام کیساتھ کھلم کھلا تذلیل اور مزاق کے علاوہ کچھ نہیں۔اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر نہ بجلی کافی ہے نہ ایندھن کا انتظام خلاصہ جس شعبہ میں دیکھے خرابی ،دھاندلی ،بدنظمی،افراد تفری،کا م چوری اور من مانی کے علاوہ کچھ نہیں ان تمام تر محرومیوں اور خرابیوں کی جڑ یہاں کے عوام کو ظالمانہ طور پر
آئینی اور قانونی حقوق سے محروم رکھنا ہے اور مقامی طور پر تعلیم کی کمی سیاست دانوں کی خراب کارکردگی اور بہت ساری چیزیں ہوسکتی ہیں۔حکومتیں1948سے جب یہاں کے لوگوں نے اپنی مدد آپ اس مہم ترین علاقے کو ڈوگرہ کی ظالم اور غاصب حکومت سے آزاد کیا آج تک مختلف بہانوں سے اس خطے کو آئین اور قانون سے محروم رکھتی آئی ہیں ان بہانوں کی قیمت کوڑی کے برابر بھی نہیں اور جس جس کا اس سارے تعصب آمیز اور ظالمانہ عمل میں ہاتھ ہے وہ اس خطے کے اور خطے کے عوام کے مجرم ہیں۔اس خطے سے جو بھی فرد اس ظلم پر راضی ہو یا خاموش رہے وہ سب بھی قوم کے غدار ہیں اور ویسے بھی ان نالایق حکمرانوں سے کیا خیر کی امید ہو سکتی ہے جنہوں نے اس عظیم الشان ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے وہ بھلا ہمارے لئے کیا کرینگے لیکن آئینی حق کوئی خیرات نہیں جو یہ نالایق لوگ ہمین دیں گے بلکہ یہ ہمارا حق ہے اور ٹھوس حکمت عملی کے ذریعہ اس حق کہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ جمہوریت کا تقضابھی ہے عوامی طاقت سے حقوق کا حصول اور محرومیوں سے نجات۔
اسلامی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جونقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو
مذہبی سیاسی جماعتوں کے بارے میں یہ بات بڑی اہمیت کے حامل ہے کہ اس بار تمام تر تاریخی عقلی اور اخلاقی اقدار اور عقل و منطق کے برخلاف عمل کرتے ہوئے دو مذہبی بڑی پارٹیاں آپس میں دست وگریبان ہوئی اور خالص فائدہ اس اختلاف کا وفاق میں حکمران پارٹی کو حاصل ہوا متذکرہ دونوں پارٹیاں اپنی اصالت اور حقانیت کو ثابت کرنے کیلئے کیا کیا کرتی رہیں اور انکے حامیوں نے کیا کہا لکھا اور پڑھا گیاوہ سب دہرانے کی ضرورت نہیں اور ایک الگ بحث ہے البتہ حتی ایک عام انسان بھی ان پارٹیوں کو اصالت کے بارے میں مختصر تاریخی مطالعہ سے آگاہ ہوسکتا ہے اور کونسی پارٹی آئین قانون ضوابط اور اداروں پر یقین رکھتی ہے اور یہ باتیں ہماری بحث سے خارج پرانی باتیں ہیں اورہم اس بارے میں اظہار رائے سے قاصر ہیں۔ہاں ایک بہت بڑا مغالطہ ہے میری نظر میں یہ کہنا کہ ہر نئی پارٹی جب ظہور میں آتی ہے یہ کہتی نظر آتی ہے ہمارا ہدف اور مقصد ایک ہے راہ اور روش میں اختلاف ہوسکتا ہے بالکل ٹھیک ہے لیکن روش میں اختلاف سے مراد یہ تو نہیں ایک کام میں دونوں کود پڑیں اور جگڑا ،فساد،غیبت ،تہمت ،ہتک عزت،کردار کشی ،نازیبا الفاظ کا استعمال ،ضد،حسادت اور دشمنی جیسی چیزوں کا بہتات اور وہ بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اور پھر کون ان کی باتوں پہ یقین کرسکتا ہے اور اپر سے یہ سب مذہب ،مکتب اور دین کے نام پر الایاذباللہ۔کہ ان کا ہدف اور مقصد ومنزل ایک ہو جبکہ یہ پارٹی کے مفادات پر قومی اور ملت کے مفادات کو ہر آن قربان کرنے کیلئے تیار نظر آئیں اور اس بازی میں اس حد تک آگے بڑھ جائیں اور اپنی ہر غلطی کو وحی منزل اور مخالف کی حتی صحیح بات کو بھی ماننے کیلئے تیار نہ ہواغیار کی حمایت ممکن اور اپنے ہی لوگوں پر الزامات کی بوچھاڑ کیساتھ مسترد کردے اور اس طرح کی حرکتوں سے ملت کو نہ قومی سطح پر نہ علاقائی سطح پر نقصان کے بجائے کوئی فائدہ نہیں ہوا ابھی نقصانات کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے اور بحرحال فریقین برابراس امرمیں شریک ہیں۔
ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا
اگے اگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا
خیر یہ بات تو اظہر من الشمس ہے اور سب سے بڑی افسوک کی بات یہ ہے کہ ہم حالات سے سبق حاصل نہیں کرتے حضرت علی ؑ فرماتے
ہیں(عبرت حاصل کرنے کی چیزیں کتنی زیادہ ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے بہت کم) اتنا سرمایہ قوم کا مادی بھی اور معنوی بھی فقط اس انتخابات میں صرف ہوا جس کا کوئی حد و مرز نہیں اور جتنا بڑانقصان ہوا وہ بھی ناقابل تلافی نقصان ہے آخر کیوں۔ان باتوں کی تفصیل پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔یہ پارٹیاں واقعا اگر کچھ کرنا چاہتی ہیں تو قومی سطح پر اور خاص طور پر علاقائی سطح پر اپنا محاسبہ کریں صفوں میں موجود کالی بھیڑوں مفاد پرستوں کو تلاش کریں اور ایسے لوگوں کو اپنی صفوں سے فلفور خارج کریں عملی طور پر مثبت کردار اوراصلاحات کے ذریعہ کھوئے ہوے مقام کو پانے کی کوشش اوربرتری دکھانے والی سیاست چھوڑ کر حسن نیّت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کے کلیدی مسائل کو حل کرنے کی ہرممکن کوشش کریں الزام تراشی، تہمت، غیبت ،حسد ،اخباری بیان بازی اورمیڈیا پرایک دعسرے پر کیچڑ اچھالنے سے نہ کسی کو فائدہ ملا ہے نہ ملے گا ۔
اور وہ تمام افراد جنہوں نے مختلف عناوین کے تحت ان پارٹیوں کیلئے عملی میداں میں کام کیا کوششیں کی دن رات ایک کردیے وہ بھی سوچیں کہ آیا ان کی محنتیں اکارت گئی ہیں یا واقعاً ملت اور قوم کا کوئی فائدہ ہوا ہے ؟انکا کردار کیسا تھا اور اب کیا کرنا چاہیے اور یہ جب ممکن ہوگا بشرطیکہ آپ نے اپنی حمایت کسی شخصی مفاد کے تحت پارٹی سے نہ کی ہوبلکہ اپنی ذمہ داری سمجھ کر خالصانہ اورفی سبیل اللہ کی ہو۔
ان تمام تر حالات میں ایک طرف ہماری بعض محترم شخصیات تھیں اور کچھ ادارے تھے جو غیر سیاسی تھے کچھ غیر سیاسی تنظیمیں تھیں جو بہتری کیلئے کردار ادا کرسکتی تھیں جنہوں نے غیر جانب دار انہ کردار ادا کیا اور مذہبی پارٹیوں کے حوالے سے مساوات سے کام لیتے ہوئے دونوں کوایک آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی جوکہ بذات خود قابل ستائش عمل تھا اور اس عمل کے نتیجے میں میرے نزدیک کافی ممکنہ خطرات اور نقصانات کا روک تھام بھی ہوا پھر بھی اس رویے کے بارے میں بعض لوگ تنقیدی نگاہ رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس عمل کو سراہتے نظر آتے ہیں اس بارے میں عرض خدمت یہ ہے کہ تمام تر حالات واقعات اور سامنے آنے والے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے انکے لیئے اپنے عمل پر نظر ثانی کی گنجایش موجود ہے وہ حضرات ادارے اور تنظیمیں اور انکے ذمہ دار افراد اس سارے معاملات پر نظر ثانی کی روشنی میں جو کردار انہوں نے ادا کیا ہے کتنا مناسب اور مفید ثابت ہوا یا این کہ اس سے بھی زیادہ مناسب کردار ہوسکتا تھا جو مفادعامہ میں زیادہ سود مندہوسکتا تھا ؟فائدہ یہ ہوگااس باز بینی کا نتیجہ سامنے آئے تاکہ آئندہ کیلئے کوئی بہتر لائحہ عمل ترتیب دینے میں سود و زیاں کو نظر انداز کرنے سے محفوظ رہ سکیں۔
کچھ لوگوں نے خالص نیت کے تحت انتخابات کے قریب قریب عجلت میں مذہبی رقباء میں مصالحت کے لئے کچھ کرنے کی اپنی سی کوشش کی تاکہ کم از کم یہ لوگ آپس میں دست و گریباں نہ ہوں البتہ یہ انکی قانونی ذمہ داری نہیں بنتی تھی اور نتیجہ یہ کہ ہر ناسنجیدہ اورناپختہ ارادوں
کو اہمیت دیتے ہوئے عجلت میں انجام پانے والا کسی بھی عمل کا مثمر ثمر نہ ہونا ایک سیدھی سی بات سمجھی جاتی ہے لذا یہ کوشش ناکام ہوئی البتہ اخلاقی طور پر ایک مستحسن کوشش تھی جوکہ طرفین کی عدم توجہ اور وعدہ خلافیوں اور اس عمل کو نظر انداز کرنے کی نتیجہ میں کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی ۔
عدم اتفاق کی کئی طرح کی جوہات تھیں مندرجہ بالا کے تحت لیکن جو لوگ تنہا حکومت بنانے کی باتیں کرتے ہوئے ان باتوں کو نظر انداز کرتے
رہے انکو کم از کم اب اس بات کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوجانا چاہئے تاکہ آئندہ خیالی پلاؤ کھانے کی عادت سے باز رہے۔ خلاصہ کے طورپر اہلیاں شمال سے یہ عرض کرنا مقصود تھا وہ یہ کہ انتخابات ہوتے رہینگے۔اور سیاسی مذہبی غیر مذہبی پارٹیاں یہاں آتی رہیں گی اور ہم انکو جتواتے رہینگے۔اور انکی حکومتیں یہاں بنتی رہیں گی ہم کسی کی حمایت کسی کی مخالفت میں اپنی کرامت حیثیت،عزت،ابرؤ انسانیت حتی دوستیاں، رشتہ داریاں ،محبت اور مروّت داؤ پر لگاتے رہیں گے۔اور آپس میں لڑتے جھگڑتے،تہمت،ناروانسبت اور الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔افراط و تفریط کا شکار ہوتے رہیں گے مگر ایساکب تک ہوتا رہے گا اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔کیا ہم اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کیا ہماری ذمہ داری یہ ہے یا ہمیں خواب گراں اب سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے اگر ہم آج بھی اس ترقیافتہ دور میں بھی خواب گراں سے نہیں اٹھیں گے اور نو ظہور چیلنجز سے مقابلہ کرنے کیلئے خود کو تیار نہیں کریں گے۔مذہبی علاقائی،خاندانی پارٹی بازی اور غیر منطقی فکری نظریاتی اختلافات کی نفرتوں سے نجات حاصل نہیں کرینگے۔اور کما فی السابق شخصی مفادات کو مفاد عامہ پر ترجیح دیتے رہیں گے تو ترقی امن ،آشتی،آئینی حقوق کا حصول ،جہالت سے نجات،محبت بھائی بندی کا فروغ ،عدالت ،اجتماعی کا قیام ،ظلم بربریت سے نجات،روزگار،اعلی تعلیم،علاج ومعالجہ کے امکانات کا حصول ،ذرائع آمدرورفت کے امکانات میں بہتری،مقامی صنعتوں ،سیاحت وغیرہ کا فروغ اور خاص کر ثقافت ، اخلاق دین و مذہب کا تحفظ اورافراط و تفریط سے دوری جیسے خواب کبھی بھی کسی قیمت پر شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔دشمنی ،نفرت ،جہالت، اختلافات ،حسد ،بغض اور منافقت جیسی بیماریوں سے نجات پائے بغیر صدیوں کا وقت گذرجائیگا لیکن ہم یہیں ہوں گے جہاں آج کھڑے ہیں (جب چڑیا چک گئی کھیت اب پچھتاوے کیا ہوت) پھرپچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
کیونکہ قانون الہی کبھی متغیر نہیں ہوتا اور قرآن کا ارشاد کبھی ناحق نہیں ہو سکتا بیشک اللہ کسی قوم (کی حالت) کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اس
(کی حالت) کو نہ بدلیں۔سورۃ الرعد آیت نمبر ۱۱
شاعر نے آیہ کریمہ کو بہتریں پیرائے میں یوں کہا ہے کہ۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
اور اس معاملے میں معاشرے میں جو خواص کا طبقہ ہے علماء ،زعماء،دانشور،سیاستدان،سرمایہ داراور طلباء وغیرہ انکی ذمہ داریاں بہت زیادہ حساس اور اہمیت رکھتی ہیں اور اس طبقے کی ذمہ داریاں اگر بطریق احسن پوری ہوجائیں تو بہت سارے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔اور یہ جنت نظیر وادیاں حقیقت میں جنت نظیر بن سکتی ہیں۔
حکیم امت علامہ اقبال کے مطابق:
نہیں ہے نامید اقبال اپنی کشت و یراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

 

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. علی عباس says:

    Article:
    Very good
    perfect
    Create down GB problems occur

  2. yawar ali says:

    thank,s Mr Mumtaz

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *