ناظم ویلیج کونسل جغور کے دفتر کا افتتاح۔ مولانا عبد الشکور ضلع نائب ناظم مہمان حصوصی تھے۔

806 - Copyچترال(گل حماد فاروقی) ویلیج کونسل جغور کے ناظم کے دفتر کا افتتاح ہوا۔ اس موقع پر ضلع نائب ناظم مولانا عبد الشکور (کنوینئر ضلع کونسل) مہمان حصوصی تھے جبکہ مولانا محمد الیاس تحصیل ناظم چترال نے صدارت کی۔ 
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر رورل ڈیویلپمنٹ عبد الاکرم نے کہا کہ جغور ویلج کونسل سو 100 ویلیج کونسلوں میں پہلا ویلیج کونسل ہے جس کا آج باقاعدہ افتتاح ہورہا ہے۔ انہوں نے نو منتحب ناظمین اور کونسلران پر زور دیا کہ وہ عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں ان یونین کونسل اور ویلیج کونسلوں کے ذریعے عوام کے مسائل حل ہوں گے اور ترقیاتی فنڈ بھی ان منتحب اراکین کے ذریعے خرچ کی جائے گی جو چار ہزار آبادی کیلئے تیس لاکھ تک فنڈ ریلیز کیا جائے گا۔
نو منتحب ناظم ویلیج کونسل جغور سجاد احمد نے کہا کہ وہ عوام کو کبھی مایوس نہیں کریں گے اور لوگوں نے اپنا قیمتی ووٹ دیکر ان پر جو اعتماد کیا ہے وہ اس پر پورا پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جغور ویلیج کونسل کے دروازے ہر وقت عوام کیلئے کھلے رہیں گے اور ہماری کوشش ہوگی کہ عوام کی دہلیز پر ان کے مسائل حل کرے۔
مقررین نے کہا کہ اس وقت چترال پر دو قسم کی آفت آچکی ہے پہلے سیلاب نے تباہ کیا اب زلزلے نے مگر نو منتحب ناظمین عوام کو ہر ممکن سہولت پہنچانے اور ان کی پریشانی دور کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہوں گے۔انہوں نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ جائز اور انصاف پر مبنی کام کرنے کیلئے ان کے ساتھ تعاون کرے کیونکہ عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بھی حکومت یا ادارہ نہیں چل سکتا۔
تقریب سے مولانا عبد الشکور، محمد الیاس، نائب ناظم شہباز ولی، حاجی شنواری نے ابھی اظہار حیال کیا۔
ایک حصوصی انٹر ویو میں مولانا عبد الشکور ضلع نائب ناظم نے کہا کہ وہ بہت جلد متاثرین تک چک پہنچا ئیں گے ۔تاکہ یہ لوگ اپنے تباہ شدہ مکانوں کو دوبارہ تعمیرکرسکے۔
سجاد احمد ناظم ویلیج کونسل جغور کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی کوششوں سے اپنے حلقہ میں متاثرین میں چیک تقسیم کئے اور لوگ اب خوش ہیں۔
لیڈی کونسلر انیسہ الماس نے کہا کہ وہ خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے میدان میں اتر چکی ہے کیونکہ ان کے حلقے میں بالحصوص اور چترال میں بالعموم خواتین کیلئے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کیلئے تعلیمی اداروں کی بھی شدید کمی ہے ۔ تاہم انہوں نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ وہ منتحب ہوکر ان خواتین کی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ 
تقریب میں کثیر تعداد میں ناظمین، علاقے کے عمائدین اور سماجی کارکنان نے بھی شرکت کی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *