پاکستان اور چا ئینا گلگت بلتستان کی متنا زعہ حیثیت کا احترم کر تے ہو ئے دیامر اور دوسر ے ڈیم بنا نے سمیت دوسر ے پرو جیکٹس بنا نے سے سو فیصدحق انٹرنیشنل کمیونٹی کے سا منے تسلیم کرے جس کی گا رنٹی انٹر نیشنل کمیو نٹی دے ۔ڈیم کے اعلیٰ ایڈ منسٹریشن میں سو فیصدگلگت بلتستان کے لوگ ہوںحمید خانبالاورستان چئیرمین

hamid khanبرسلز( پ۔ر)بالا ورستان نیشنل فر نٹ کے چیئر مین عبدالحمید خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور چا ئینا گلگت بلتستان کی متنا زعہ حیثیت کا احترم کر تے ہو ئے دیامر اور دوسر ے ڈیم بنا نے سمیت دوسر ے پرو جیکٹس بنا نے سے قبل(UNCIP.DISPUTED)کا سو فیصدحق ملکیت کو انٹرنیشنل کمیونٹی کے سا منے تسلیم کرے جس کی گا رنٹی انٹر نیشنل کمیو نٹی دے ۔ڈیم کے اعلیٰ ایڈ منسٹریشن میں سو فیصدگلگت بلتستان کے لوگ ہوں اور گلگت بلتستان میں پہلے ترجیح متعلقہ ڈسٹرکٹ متا چرین اور دیامر کو دی جا ئے دوسری تر جیح گلگت بلتستان کو دی جا ئے کسی بھی نو کر ی کے لیئے گلگت بلتستان میں ان پرا جیکٹس پر کام کر نے کے تجر بہ کار نہ ہوں تب گلگت بلتستان کی ایڈ منسٹریشن ہی پا کستان سے اپیل کرے گی پاکستان جس تجر بی کار کو بھی بھیجے اس کو قبول کر نا یا نہ کر نا ڈیم ایڈ منسٹریشن کی صوابدید پر ہو ۔ بجلی بلز کی وصولی اوع اس کی سا ری انکم گلگت بلتستان کی ایڈ منسٹریشن کے ہاتھ میں ہو ۔ گلگت بلتستان ایڈ منسٹریشن کا مطلب گلگت بلتستان میں مو جود پاکستان کے شہری نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے شہری سے مراد ہے ۔ڈیم کی حفا ظت کا کام بھی گلگت بلتستان ڈیم ایڈمنسٹریشن اور گلگت بلتستان کی الیکٹڈ با ڈی کی نگرا نی گلگت بلتستان کے لو گو ں پر مشتمل افراد کریں نہ کہ پاکستان اور چا ئینا اپنی آرمی گھسا دیں جو کہ اس سے قبل ان کا معمول رہا ہے اور ڈرا دھمکا کے کیا جا رہا ہے ۔رائیلٹی سو فیصد گلگت بلتستان کو دی جا ئے رائیلٹی میں بھی وہی شرائط ہوں پہلے ڈیم متا ثرین ،دیامر پھر گلگت بلتستان گلگت بلتستان کو بجلی دینے کی گا رنٹی ہواور گلگت بلتستان سے جو بھی بجلی بیچی جا ئے گی پاکستان استعمال کر ے گی اور اس کے بلز پاکستان گلگت بلتستان کو ادا کرنے کی ذمہ دار ہو گی ۔ڈیم کی وجہ سے جو قدرتی آفات ہوں گے اس کا کمپنسیشن پا کستان گلگت بلتستان کو دینے کی پابند ہو گی اور اس کی گا رنٹی انٹر نیشنل کمیو نٹی دے گی ۔ اگر پا کستان چا ئینا (UN) کی قراردادوں کی پرواہ نہیں کر تے ہیں تو کھلم کھلا بتا دیں اس صورت میں بھی پاکستان کو (UN)کی نگرانی میں ریفرنڈم کراکر گلگت بلتستان کے لو گوں سے مینڈیٹ حا صل کر نے کے بعد ڈیم اور دوسرے بڑے پراجیکٹس بنا سکتا ہے ۔ ریفر نڈم کسی اور کے نہیں بلکہ (UN) کی نگرانی میں کرا کر عالمی قوانین کی پاسداری کے بعد گلگت بلتستان کو ئی بڑ ا پرا جیکٹس کی تعمیر ہو سکتا ہے اس صورت میں بھی مشروط ہے کہ (UNCIP) نے بھی ابھی تک گلگت بلتستان کو متنا زعہ رکھا ہوا ہے جیسے جموں اینڈ کشمیر دونوں پارٹس ہیں اور خود آئے روز پاکستان خود (UN) کی قراردادوں کی بات کر تا ہے ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *