ادب پارے : حاجی سرمیکی سریلی ہچکیاں

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ہفتہ کوہسار کی اختتامی تقریب کا زبانی دعوت نامہ ملا تو کشاں کشاں اسلام آبادروانہ ہوا۔ گوکہ یہ اختتامی تقریب ترتیب واہتمام کے اعتبار سے دور دور تک پہاڑوں سے متعلقہ نہیں لگ رہی تھی ۔ البتہ پہاڑی وادیوں کے نمائندہ طلبہ کی قائدانہ کردار سے یہ انہی علاقوں کا ایک ثقافتی میلہ سا لگ رہا تھا ۔ یونیورسٹی کی جانب سے سٹیج پر اس تقریب کے میزبان مدرس اور نیپال کے ایمبسیڈر محترم بھارت راج پاودیال جو اپنے پہلو میں ایک خاتون کو لئے بیٹھے تھے ، مہمان خصوصی کی نشست پر براجمان تھے ۔ثقافتی رنگ میں رنگی یہ تقریب پہاڑوں سے متعلقہ ہو یا ان کے بیچ رہنے والوں کے رہن سہن سے ، مگر تقریب کے آغاز پر پاک و ہند کے موسیقاروں کی دھنوں سے گردنواح میں موجود لوگوں کو راغب کرنے کی کامیاب کوشش جاری تھی۔ ہندوستان سے پاکستان اور پھر کچھ انگریزی دھنوں کے بعد گلگت بلتستان کی علاقائی ثقافتی موسیقی کی دھنیں بھی الاپنی شروع کردی۔ ہم لان میں بیٹھے کلائمبنگ کے دلدادہ ہمارے دوست کی مصنوعی کوہ پیمائی کے عملی مشق سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔ اب یکے بعد دیگرے رو بہ تقریب ہوگئے ۔ ہماری رہنمائی کے لئے یونیورسٹی کی ایک ہونہار طالبہ کی خدمات حاصل تھی ۔ ان کی اور ان سے شناسائی ہی وہ اسباب تھے کہ ہم بلا تامل شریکِ تقریب ہوگئے۔ مگر ان کی شناسائی، دوست کی ہمراہی ، گلگت بلتستان کی نمائندگی، چہل پہل اور موزوں ترین آب وہوا ، تب دھرے کے دھرے رہ گئے کہ جب ہم نے ایک نوجوان ڈھولک نوازکی فنکاری دیکھی ۔ بیٹھے تھے کہ کھڑے ہوگئے، دور تھے نزدیک ہوگئے ۔ تب دیکھا کہ ان کے ساتھ دو اور صاحبانِ فن بیٹھے ہیں کہ ان کے حلیے کلیئے ہیں ان کے فن کے بالکل متضاد ، گویا کہ لبوں سے سرُنہ نکالا تو کوئی سپید پوش دیندار لگتے تھے۔ تعلق ان حضرات کا ہنزہ سے تھے۔ گلگت بلتستان میں بولی جانیوالی زبانوں میں سے برشسکی ، شینا اور کھوار زبانوں کی دھنیں تو اس نوخیز ڈھولک نواز تک کو ازبر تھیں۔ سب سے پہلے شینا دھن بجانے کا اہتمام تھا اس پر تو چند طلبہ نے نہایت شاندار رقص بھی پیش کیا۔ گو کہ شینا رقص کا جداگانہ انداز پر کشش اور جازبِ نظر ہوتا ہی ہے مگر میری نگاہیں تو برابر اس چھوٹے ڈھولک نواز استاد کے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ دھن کے ساتھ ان کاخود ہچکولے کھانا، آبرو، ہونٹوں اور چہرے کے تاثرات سے تال پکڑنے ، لے پر چلنے اور سر کو جانچنے کا دلربا انداز، گویا اس کی ماہرانہ فنکاری کے لئے دل ہی دل میں داد و تحسین کے پھوار پھوٹ رہے تھے۔ ایسے میں دوسری نشست میں چترال ، کیلاش کا منفرد ترین ثقافتی ساز ورقص پیش ہوا۔ سراپا رنگوں میں گھری خاتون کا رقص ، دھنک رنگ روایتی ٹوپی جو بیچ کمر تک کھنچ کر پراندے کا بھی کام تمام کر تی ہے، اور چہرے پر بین العینین تاش کے کلب پتے سے ملتا جلتا نشان ، پھیکی سی مسکراہٹ جو اتمامِ خوداعتمادی کی مضبوط دلیل جیسی، سبھی دیدہ و دل میں سبھی ستائشیں سمیٹ کر بیٹھ گئی۔ بعد اس کے مہمانِ خصوصی سے نمائیاں طلبہ وطالبات میں انعام و اسناد کی تقسیم کا مرحلہ آیا ،کیا آیا کہ پاکستان میں پہلی بار " بھارت"کا نام ادب سے لیا جارہا تھا، گویا پاکستان میں بھارت راج کے لئے بڑی رونق افروز تقریب سج تھی۔ بھارت صاحب نے بھی خود کو اپنے نام کی طرح ہندوستا نی نہیں بلکہ عملاً نیپالی ہونے کا ثبوت دیا ۔ کیلاشی پری کی پرفارمنس بھارت صاحب کے منہ پر بھی مسکراہٹ کا سبب کیا بنی کہ پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے انتظامیہ کا شکریہ ادا بھی کیا اور پاک نیپال دوستی کو ایورسٹ اور کے ٹو کی طرح مصمم اور بلند ترقراد دے کر داد سمیٹ لئے ۔ یوں وہ اس نشست سے رخصت ہوگئے۔ انسان کو فیصلہ سازانہ رویہ نہیں رکھنا چاہیئے تاہم وہاں بیٹھے حضرتِ میزبان جو خود روئیے سے ہی کوئی "استاد"دکھتا تھا ،نے کوئی ایسی حرکت کی جو مابین الطلباء ، حاضرین زی وقار اور بمناسبت یوم العالم کسی طور اسے زیب نہیں دیتا تھا۔ تقسیمِ اسناد کے بعد ایک تعارفی ایوارڈ بچ گیا تھا وہ حضرت نے سوٹ کی جیب میں ڈال دیا۔ ہماری مراد یہ ہرگز نہیں کہ وہ گھر لے کر گئے، کیونکہ نہ یہ خود اس کے کسی کام کا تھا نہ بادلِ نخواستہ ان کے بچے اس سے کھیلیں گے۔ مگر لبِ محفل اس نے نجانے ایسی حرکت کیوں کی۔ خیر یہ بات کسی بھی طور زیادہ دیر تک ہماری جذبات کا ذائقہ پھیکا نہیں کرسکی ۔ یوں اس کے بعد تیسری نشست میں بلتستان کی ہونہار طالبہ روحینا شاہ نے سٹییج سنبھالی اور اردو زبان کی شستہ ادائیگی ، فی البدیع بالربط جملے اور با محاورہ گفتگو سے سامعین میں نئی روح پھونک دی۔ محفل کا عروج کہے تو شاید غلط نہ ہو کہ جب ایک برشسکی گلوکار نے گانا گا کر سماں باندھ لیا۔ اس کی زبان کے ساتھ سر اور تال پر مہارت ، چھوٹے استاد اور نورانی موسیقاروں کی ماہرانہ موسیقی نے محفل پر چارچاند لگا دیا۔اس دوران جو رقص و سرود شینہ، بروشسکی اور چترالی نوجوانون نے پیش کی ان میں ایک علاقائی ثقافتی تنوع نظر آرہی تھی ۔ کسی کا بھی انداز دوسرے علاقے کی ثقافت سے میل نہیں کھا رہا تھا۔ البتہ جب بلتی زبان میں ایک انتہائی مسرور اور چوکنے نوجوان ، جنہوں نے اپنے جنونِ موسیقی کی وجہ سے ہر علاقے کے گروپ کے ساتھ ان کے ہوبہو رقص بھی کیا اب حضرت نے بلتی زبان میں کوئی گانا گایا تو استاد اس کا سر روایتی سامانِ موسیقی سے نہیں پکڑ سکے۔ صاف ظاہر تھا کہ ایسے گانے پر دھن بنانے کے لئے جدید برقی آلاتِ موسیقی کی ضرورت تھی۔یہ اس دور کی دھن ہی نہیں تھی جس دور کے آلات تھے۔اس کی دھن روایتی بلتی ، گلگتی یا چترالی دھن سے مماثلت نہیں رکھتی تھی البتہ اردو زبان کے کسی پاپ گانے کی جدید دھن لگ رہی تھی۔ اس طرح اس نوجوان کی اچھی کوشش محفل میں نیا رنگ پیدا کرنے کی بجائے سامنے بیٹھے ضعیف العمر بزرگ شخصیات کی روانگی کا پیش خیمہ بنا۔ میری طرح شاید انکے دلوں پر بھی یہ نادانی کوئی کسک چھوڑ HAJIگئی۔ رقص کیا خاک ہورہا تھا ۔ وہاں تو ثقافتی رقص کا بیڑہ غرق ہو رہا تھا،میدان میں جذبہ قومی کے ساتھ اترنے والوں کے ہاتھ پیر یوں پھولے ہوئے تھے کہ ان کے بے ڈھنگے، نقالیں انداز بلتی آداب و روایتِ موسیقی پر مرثیہ کناں تھے۔ آنکھیں نمناک ہوگئیں جب اپنے روایتی رقص و سرود کایوں جنازہ نکلتا سا دیکھ لیا۔ خدا معلوم کہ چند لوگوں نفرت سے بھی زیادہ موسیقی سے نفریں کیوں ہیں؟۔ہم نے ڈھولک سے انسان دوستی اور جذبہ انس و محبت کو ابھارنے والی آواز سے ہٹ کر کچھ نہیں سنا۔ البتہ اس کو اسلام و عقائد سے متصادم قرار دے کر اس کی ممکنہ طور سے اصلاح کی بجائے متروک کردیا گیا جس وجہ سے اب یہ پوری طرح مدفون ہوچکی ہے ۔بلتی ساز بجانے والوں کو گردش دوران نے غمِ روزگار میں مبتلا کرکے اندرون و بیرون ملک دھکیل چکا ہے۔جبکہ نئی نسل میں موجود گنے چنے فنکاروں کو بلتی موسیقی کی ابجد بھی بھلی نہیں لگتی اورابن الوقت ایسے بن چکے ہیں کہ ہندوستانی ، پختون اور دیگر جدید طراز کی نقالی میں مگن ہیں۔جبکہ ہنزہ ، چترال ، غذر اور دیگر دو چند اضلاع میں نہ صرف روایتی دھنیں کی بقا کی کاوشیں کی جارہی ہیں بلکہ انہی کی بنیاد پر نئی دھنوں کی ترتیب و تدوین پر معیاری کام ہورہا ہے۔ چھوٹے استاد اور اس کا فن امرِ مذکور کا روشن ثبوت ہی تو ہے۔ بلتی گانے جیسے بھی ہوں، وہ معیاری ہو یا غیر معیاری، حرام ہو یا حلال یہ ہماری ترجیح نہیں البتہ، کبوتر رقص اور دھن ، حریب، تلوارناچ اور دھن ، میندوق ہلتنمو یہ وہ دو چند نام ہے جو صرف نام کی حد تک زندہ ہے ۔ حریب تو عہدِ رفتہ کی ایک پرسوز یاد ہے جو کبھی کبھار ریڈیو سیشن کے مقامی پروگراموں میں بجنے لگتی ہیں تو اسی دور کے ہی احباب و اسباب یاد دلاتی ہیں ۔ مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ ان "غیر شرعی اور غیر اخلاقی" اور فرسودہ رسومات کی بیخ کنی کرنے کے بعد محبت ، یکانگت اور خدا پرستی کے فروغ کا خواب کہاں تک شرمندہ تعبیر ہوچلا ہے؟کیا اس کی روک تھام کے بعد بھی محبت کی بجائے تعصب ، کینہ و عداوت بہت تیزی سے گامزن نہیں ہے؟ کیا ڈھول کی تھاپ کبھی خدا کے ہونے کا اعلان کرسکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر خدا کے نہ ہونے، ایمان لانے میں خلل ڈالنے یا پھر خدا سے دور کرنے کا اعلان کیسے کر سکتی ہے۔بلتی ثقافتی موسیقی کے قاتل یہ نہیں جانتے کہ نئی نسل دورِ جدید کی موسیقی سے متاثر ہو رہی ہے۔ اب موسیقی کو کہاں کہاں سے ختم کروگے،نماز کے لئے جگانے والی گھڑیال کی آواز، موبائل اور ٹیلی فون کے بجنے کی آواز، ٹرکوں کے ہارن ، ایمبولینس کی سائرن ،بارش کی رم جھم ، بادلوں کی گرج اور طوفانوں کی سیٹیاں کب حرام قرار پائیں گی معلوم نہیں۔نہ جانے یہ پارسا داود کے منہ سے چنگ چھین کر دین بچانا کب بند کریں گے اور چنگ و رباب ، بربط و نے کامرانیِ محبت کاساز، بے وفائی کا سوز اور ناپائیداری دنیا پر بین کرنے پر باعث نفرین بنتے رہیں گے اوریوں بانسری کی سریلی ہچکیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے گی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *