حضرت محمدؐ ۔۔۔ایک عظیم سائنسدان تحریر نیب خان

mazameen sosttoday
حضرت محمدؐ بیک وقت روحانی ،سیاسی وجسمانی حکیم۔بطور روحانی حکیم کے عرب کے لوگوں کے روحانی امراض کی تشخیص کرکے علاج کے طور پر ان کے دلوں سے لالچ اور تعصب کے خفی بتوں کو نکالنے کے ضامن نسخے دیتے۔
بطور سیاسی حکیم کے سرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف عوام کو متحرک اور متحد کیا ۔فلاحی نظام دیا ،مساوات محمدیؐ سے یاد کرتے ہیں۔
بطور جسمانی حکیم کے اُن کو جسمانی بیماریوں سے بچانے کے باعث بنے۔عرب کے لوگ جسم کے بال نہیں کٹواتے تھے،ناخن نہیں کاٹتے تھے،مسواک کرنا نہیں جانتے تھے،رات کو درخت کے نیچے سو کر بیمار ہوتے تھے،فحاشی اور عریانی تھی،محرم نامحرم کی تمیز کم تھی کچھ لوگ غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے،جہالت کی انتہا تھی الغرض عرب کے لوگوں کو جسمانی بیماریوں سے بچانے کیلئے نسخے د یے،چند ایک تبرکاً پیش خدمت ہے۔حضورؐ نے فرمایا’’ اے لوگو ناخن کاٹو اور بال بناؤ‘‘ اب ڈاکٹر بھی تائید کرتا ہے۔حضورؐ فریا کرتے تھے کہ ناخن کے اندر شیاطین بستے ہیں،ڈاکٹر اسے جراثیم کے نام سے جانتے ہیں۔ جو کہ کھاناکھاتے وقت جسم کے اندر داخل ہوتے ہیں جس کے باعث بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
حضور ؐ فرمایا کرتے تھے کہ گرم روٹی مت کھاؤ مکروہ ہے،جبکہ آج کل ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرم روٹی اندر معدہ کو نقصان دیتی ہے۔ حضورؐ کے تعلیمات سے نابلد لوگ گرم روٹی کھا کے اپنے معدہ کو خراب کر رہے ہیں ۔
حضو ر ؐ فرمایا کرتے تھے ’’رات کو درخت کے نیچے مت سو جانا،اس لئے کہ درخت سے شیاطین گرتے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ درخت سے مضر صحت گیس گرتی ہے۔
حضور ؐ فرمایا کرتے تھے ’’ دانتوں کو مسواک کرو،دانتوں کے اندر شیاطین بستے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دانتوں میں میل جمع ہوتا ہے جس پر جراثیم پلتے ہیں جو کہ کھانا کھاتے وقت جسم کے اندر چلے جاتے ہیں اور بیماریوں کے باعث بن جاتے ہیں۔
حضورؐ فرمایا کرتے تھے ’’ اے لوگو فحاشی اور عریانی سے بچو،سادہ مگر پُروقار شادیاں کرو‘‘ جدید تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ فحاشی اور عریانی سے ایڈز پیدا ہوسکتی ہے۔
حضورؐ فرمایا کرتے تھے کہ دوران ماہواری ہم بستری نہ کرو گناہ ہے، ماہواری کے دوران عورت سے ملن کرنے پر ایڈز کا خطرہ ہوتا ہے۔حضورؐ نے ہر اس کام سے ان کو روکنے کی تلقین کی جس سے ان کی جسمانی روحانی اور معاشرتی نقصان ہوتا ہو۔مرنے کے بعد زندہ ہونے اور یہاں ہم بدی سے پرہیز کریں اور نیکی اپنائیں تو ہمارے دوجہان سنور جاسکتے ہیں ہم روح کے قائل ہیں مثلاً نیند کو ہم چھوٹی موت چھوٹی موت کہتے ہیں دوران خواب بدن بستر میں ہی ہوتا ہے اور روح کا حصہ کہاں سے کہاں جاکر آتا ہے۔بدن کو دفن کرتے ہیں تاکہ زندہ لوگ بدبو سے بچ سکیں۔نیک کام کرنے والوں کو جنت ملے گی وہاں ہر قسم کے مراعات ہونگے۔
مختصراً حضرت محمدؐ نے فطرت کی دعوت دی ہے۔اللہ نے سب کو فطرتاً اسلام میں پیدا کیا ہے۔6 سے 7 سال تک تمام انسان مسلمان ہی ہوتے ہیں۔مسلمان کا معنی امن کے ہیں۔امن تین حروف کا مجموعہ ہے :الف سے اللہ میم سے محمدؐ نون سے نجات کلمہ طیبہ کو دل میں بسانے والا نجات پائیگا۔امن کی دعوت کلمہ طیبہ کی دعوت امن کی دعوت ہے 6 سال تک بچہ بے ضرر ہوتا ہے ۔جیسا کہ رسول پاکؐ نے فرمایا ’’مسلمان وہ ہے جس کے زبان ہاتھ سے دوسروں مسلمانوں کو ضرر نہ پہنچیں۔بچے آپس میں بے ضرر ہوتے ہیں چھ سال کے بعد دل میں تعصب اور لالچ کے بت داخل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے کلمہ طیبہ پڑھاتے ہیں تاکہ بچہ کے دل میں تعصب اور لالچ کے بت داخل ہونے سے قبل اللہ تعالیٰ بس جائے بچہ مسلمان ہی برقرار رہے اسلام کے معنی بھی امن ہے ہمیں دلوں میں رب العالمین کو بسانے کی دعوت دیتا ہے تاکہ ہم رحمت العالمین کے رنگ میں رنگ سکیں۔فرقہ ،ذات کے پھندوں سے نکل کر رحمت العالیمین رنگ کے اصلاحات اور ایجادات کا سوچیں تاکہ رحمت فرقہ ،ذات ،گلگتی بلتی کا تصور رکھنے والوں کو انسانی وحدت کا سبق ملے،رحمت گلگتی بلتی فرقہ ذات کا تصور رکھنا رحمت العالمین کا عملاً نفی کرتا ہے جورحمت العالمین کا نفی کرے اس کی ریاضت بے سود ہے۔
مختصراً یہ مہینہ حضورؐ پر نور کی ولادت کا مہینہ ہے۔حضرت محمدؐ ہی بانی اسلام ونمونے اسلام ہونے کے ناطے روحانی حکیم و باپ تسلیم کرنے کا عہد کرنا چاہئے۔ حضورؐ ہی نقطۂ اتحاد ہے۔اور حضرت محمدؐ کی علم روحانی و نوری ہونے کے ناطے محبتوں کا مجموعہ ہے۔القرآن۔اللہ نور ہے زمینوں اور آسمانوں کا۔نور علم ہے علم محبت ہے( قرآن) اللہ چھپا ہوا خزانہ ہے ظاہر ہونا کیلئے آدم کو بنایا اور اپنا نور اس کے سینے میں ڈال دیا۔انسان نام رکھا۔یعنی انس رکھنے والا اس نورکو محبت اور ولایت کہتے ہیں اس نور کے طفیل آدم صفی اللہ اور اشرف ہوئے۔ابلیس نے اس محبت اور ولایت کو سجدہ نہیں دیا،ملعون ٹھہرے وہ نور آدم کے سینے سے سینہ بہ سینہ چلتی رہی موسیٰ کے سینہ سے پھوٹی تو کلیم اللہ ہوئے حضرت عیسیٰ کے سینے تک پہنچی تو روح اللہ ہوئے محمدؐ کے سینے میں پہنچی تو رسول اللہ ہوئے اور حضرت علی کے سینے میں پھوٹی تو سردار اولیا ٹھہرے۔ہمیں روحانی علم اور کسی تعلیم میں تمیز کرنے کی ضرورت ہے۔علم اندر سے پھوٹتی ہے تعلیم باہر سے دی جاتی ہے۔جو جس فقہ اور مسلک کو پڑھے گا اسی فقہ یامسلک کا عالم ہوگا۔دین اسلام کامبلغ نہیں ہوگا۔اگر حکومتی سطح پر قائد گلگت جوہر علی خان اورپیر نصیر المعروف، بابا چلاسی کے فکر فلسفہ کے مطابق عوام کا سامنا کرکے حضرت محمد سے وفا کے عنوان سے کل مسلمان بھائی کا تصور اجاگر کرنا چاہیے تاکہ کل فرقہ ،ذات ،مسلک ،فقہ بھائی کا تصور رکھنے والوں کو وحدت کا سبق ملے گا،کل فرقہ ذات گلگتی بلتی چلاسی نگری کا تصور زیر ہو جائے گا۔عوام آپس میں روحانی بھائی ہونگے ملک کے دیگر صوبوں اور آزاد کشمیر کیلئے یہ علاقہ نمونہ بن جائے گا۔چونکہ ہمارے لوگ امن پسند اور فطرتی صلح جو ہیں یہ کام حکومت اور علماء کا ہے۔حکومت چاہے تو ہم ساتھ دیں گے۔
حضورحق سائنسدان بھی ہیں
علم و ہنر کے گلدان بھی ہیں
کیوں نہ ہم دل میں ان کوبسا لیں
پر درد پر نور مہربان بھی ہیں
رحمت العالمین ہیں خدا کے پیارے نبی
حق کے امین ہیں خدا کے نبی
کیوں نہ ہم ان پہ ناز کریں
ایک مکمل دین ہیں خدا کے نبی

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *