ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے چالیس سالہ حائستہ خان جاں بحق۔ متوفی کے پانچ بچے رہ گئے۔ یتیم بچوں کا وزیر اعلےٰ سے انصاف کی اپیل۔


چترال(گل حماد فاروقی) علاقہ دروش کے شاہ نگار گاؤں سے تعلق رکھنے والے خائستہ خان کو دمہ کی بیماری لاحق تھی جسے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش پہنچا یا گیا۔ ان کی بچوں حناء بی بی وغیرہ نے مقامی صحافیوں سے آہوں اور آشکبار آنکھوں سے سسکیاں لیتی ہوئی کہا کہ ان کے باپ کو آٹھ دسمبر کو دروش ہسپتال پہنچایا گیا جو دمہ کی مریض تھے وہ شام تک ہسپتال میں موجود رہے مگر ان کی حالت بگڑتی جارہی تھی جس پر ڈاکٹر ربانی نے اسے پشاور ریفر کیا۔ مگر ڈاکٹر موصوف نے ایمبولنس دینے سے معذرت کی کہ ایمبولنس حراب ہے۔ انہوں نے دروش ہسپتال کے میڈیکل آفیسر انچارج ڈاکٹر یعقوب سے رابطہ کیا مگر بات نہیں بنی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسراراللہ سے رابطہ کیا گیا اور ان سے ایمبولنس مانگی گئی کافی کوششوں کے بعد وہ ایمبولنس دینے پر راضی ہوئے اور RHC کوغذی کے ایمبولنس ڈرائیور الیاس سے رابطہ کیا گیا جو تین گھنٹے کے تاحیر سے رات گیارہ بجے دروش ہسپتال پہنچ گئے مگر اس کی ایمبولنس میں آکسیجن نہیں تھی۔ جو آکسیجن کی سلنڈر لینے کیلئے دوبارہ کوغذی گئے اور اگلے صبح ہم پشاور ہسپتال روانہ ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایمبولنس انتہائی حراب حالت میں تھی اور اس میں گیس بھی حتم ہوا جس کی وجہ سے راستے ہی میں حائستہ خان نے دم توڑا۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ ایمبولنس اثر و رسوح والے افراد کو دی جاتی ہے اور ان کا والد ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے جاں بحق ہوئے جس پر انہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو ان ڈاکٹروں کے حلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے درخواست د ی جس کی ایک نقل وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ کو بھی بھیجی گئی مگر چترال پولیس نے ابھی تک ان ڈاکٹروں کے حلاف ایف آئی آر درج نہیں کی۔
ان کی بیٹی حناء بی بی جو نویں جماعت میں پڑھتی ہے نے روتے ہوئے کہا کہ ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہے والد کے مرنے کے بعد ہمارا کوئی کمانے والا نہیں ہے بھائی چھوٹا ہے اور اب ہماری نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی۔
حائستہ خان کی بیوی اور ماں بھی اس صدمے سے نہایت نڈھال ہوگئے اور وہ بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا انصاف کے دعویدار حکومت ان کو انصاف دلائے گا انہوں نے وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ چترال پولیس کو ہدایت کرے کہ ان ڈاکٹروں کے حلاف باقاعدہ مقدمہ درج کے اور حکومت ان کے حلاف تادیبی کاروائی کرے تاکہ آئندہ ا ن ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے کسی کی قیمتی جان نہ جائے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *