خصوصی رپورٹ - سوست نالہ کی خطرناک صورتحال

 RAUF SOST GOAJLتحریر عبدلرارف

تعارف: موضع سوست،تحصیل گوجال کی چند قدیم آباد کاریوں میں سے ایک ہے۔تاریخی لحاظ سے قدیم زمانے سے اس گائوں کو علاقائی سطح پر مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے جہاں مختلف نوع کے مسافر،سیاح یہاں آکر قیام کرتے تھے اور اپنی طویل سفر کے دوران کچھ وقت یہاں آرام کرکے اپنے سفر کو آگے بڑھاتے تھے۔ قدیم شاہراہ ریشم پر آمدورفت کے دوران بھی سوست کے مقام پر یہاں سے گزرنے والوں کا پڑاو ہوتا تھا۔ قراقرم ہائے وئے کی تعمیر اور پھر 1980 ء کی دہائی میں چین پاکستان کی تجارت جدید خطوط پر شرعو ہونے کے بعد موضع سوست کی اہمیت و مرکزیت میں مزید اضافہ ہوا۔مختصر اس وقت سوست، پاک چین تجار ت کے نتیجے میں پورے علاقے میں معاشی مرکز کی حیچیت اختیار کرچکا ہے۔اس وقت سوست میں صرف حکومتی ادارے کے دفاتر موجود ہیں جن میں خاص کر تحصیل آفس ،گلگت بلتستان گورنمنٹ ہائی سکول کی بلڈنگ،گورنمنٹ و فرسٹ ایڈ پورسٹ سوست کی بلڈنگ۔ اور کمیونٹی سطح کے ادارے میں شامل الحسین ماڈل سکول،لیڈریز پبلک سکول اینڈ کالج ،اکریم ہوٹل،سکائی لینڈ،خنجراب ہوٹل،ماونٹین رفیوج ہوٹل،کاروان ہوٹل،پامیر ہوٹل،پاک چائنا ہوٹل، ضلال مارکیٹ ، غلکن سوسائٹی مارکیٹ ،وومن ووکیشنل سنٹر،فیول پمپ،خنجراب سوس پمپ اور اس کے ساتھ تقریبا 75 سے زائد گھرانے شامل ہیں۔

سوست نالہ:

موضع سوست کی آبادکاری کا انحصار قدیم الایام سے آب پاشہ کےلئے سوست نالہ پر رہا ہے جوکہ واحد پانی کی فراہمی کاوسیلہ ہے۔ اس نالے کے ذریعے گیشیر کا پانی آباد کاری کےلئے استعمال ہوتا ہے جس کا زیادہ تر انحصار موسم کی صورتحال پر منحصر رہتا ہے۔ یہ نالہ جسے سوست نالہ کہا جاتا ہے نہ صرف مرکزی سوست کےلئے آب پاچہ کا وسیلہ ہے بلکہ نظیم آباد سوست اور حسین آباد سوست کےلئے بھی پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے۔اسی نالے سے تاریخی سوست ٹنل کو نکالا گیا ہے۔جس کے ذریعے حسین آباد سوست کی آبادکاری ممکن ہوئی ہے۔

سوست نالہ میں سیلابی صورتحال:

سوست ؛ شاہرہ قراقرم کا ایک اہم پُل کے نیچے سے پانی کی کزرگا خطرناک حد تک بھر چکی ہے – تصویر: عبدلروف

سوست ؛ شاہرہ قراقرم کا ایک اہم پُل کے نیچے سے پانی کی کزرگا خطرناک حد تک بھر چکی ہے – تصویر: عبدلروف

تاریخی لحاظ سے یہ نالہ معتدل نالہ تصور کیا جاتا ہے۔جس کے ذریعے مذکورہ تین آباد کاریاں ممکن ہوئی ہیں۔البتہ حالیہ سالوں میں موسم کی شدت، خاص کرشدید قسم کی بارشوں،بجلی گرنے کے واقعات اورپھر بارشوں کے بعد شدید قسم کی گرم موسم نے صورتحال کو یکسر تبدیل کررکھا ہے اور ہر آئے سال نئی صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے۔

2005ء کا سیلابی ریلہ:

سوست نالے میں سیلابی صورتحال پچھلے کئی عشروں کے دوران میں پہلی بار اگست/ستمبر 2005ء میں پیدا ہوئی۔ جسے کے نتجے میں سوست نالہ میں کافی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ آیا۔البتہ اس کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی یا یہ کہا جائے تو بہتر ہے کہ سیلابی ملبے کو نالے سے گزرنے کےلئے مناسب راستہ موجود تھا جس کے گزارنے سے کوئی بڑا نقصان سوست نالہ پر نہیں ہوا۔البتہ یہاں کے لوگوں نے پہلی بار نالے سے اونچی سطح کا سیلابی ریلے کا منظر دیکھا۔

2010ء کا سیلابی ریلہ:

تقریباً پانچ سال کے بعد جہاں ملک و گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب کی صورتحال کشیدہ ہوئی وہیں سوست نالہ میں بھی نوعیت کچھ مختلف نہ تھی۔ یہں کے مکینوں نے اس سال انتۃائی اونچے درجے کا سیلابی منظر دیکھا اور پورے تین ماہ سے اوپر ماہ جولائی سے اکتوبر تک پریشان کئے رکھا۔ اس دوران نہ صرف مرکزی سوست چینل کو متاثر کیا بلکہ نظیم آباد ،حسین آباد اور پھر عزیز آباد سوست کے واٹر چینلز کو بُری طرح سے متاثر کیا اور ساتھ ہی نالے سے متصل کافی گاوں کے افرادوں کی زرعی زمینوں کا بھی کٹاو کیا جس سے ان کا بےانتہا نقصان نہ صرف زمینی کی کٹاو بلکہ بڑے پیمانے پر ان لوگوں کے درختوں کو بھی نقصان ہوا۔ اس سیلابی ریلے کے نتیجےمیں بہت اونچے درجے کا ملبہ سیلاب کے بعد موجود رہا۔ حکومتی و دیگر ادراوں نے اپنی مدد کےلئے دست دراز کرتے ہوئے یہاں کے لوگوں کی بحالی کےلئے خاص کر چینلز کی تعمیر و مرمت اور دیگر نقصانات کے ازالے پر تندہی سے کام کئے۔ چونکہ ملبہ اونچے سطح پر موجود تھا اور اگلے سال کی شدید موسم میں صورتحال خطرناک شکل اختیار کرسکتا تھا البتہ اس وقت چائنا روڈ اینڈ بریج کرپریشن قراقرم ہائے کی تعمیر و مرمت کے پروجیکٹ پر کام کرہی تھی اور جو ملبہ نالہ میں موجود تھا وہ ان کے لئے بہترین میڑیل بھی آسان صورت میں موجود تھا تو سی آر بی سی کی ٹیم نے 2011ء کے اوئل میں دریا کے کنارے سے لیکر سوست نالے میں سوست نظیم آباد سسپینشن بریج تک کافی ملبہ اپنے استعمال کےلئے اُٹھایا جس کی وجہ سے پیچھے سے آنے والے ملبے کومناسب راستہ میسر ہوا۔ اور ساتھ ہی 2010ء میں جو ملبہ سیلابی ریلے کے نتیجے میں کھڑا رہا تھا وہ ریت اور چھوٹے سائز کے بجری کی شکل میں تھا جو کہ آسانی سے صرف دریائے ہنزہ میں جا ملا بلکہ سی آربی سی کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کےلئے تعمیراتی میڑیل کے طور بھی کام آیا۔اور اسے برقت ہٹانے سے صورتحال مزید خراب نہ ہوئی۔

سوست نالے میں سیلابی ریلے کا منظر- تصویر: فرمان علی

سوست نالے میں سیلابی ریلے کا منظر- تصویر: فرمان علی

2015ء کا سیلابی ریلہ:

اگر ہم سوست نالہ میں پچھلے گیارہ سالوں کے دوران سیلابی کیفیت کا جائزہ لیں تو سب سے متاثر کن سیلابی ریلہ پچھلے سال 2015ء میں یہاں کے مکینوں کو درپیش آیا۔ اگست کے مہنے میں بارشوں کے دوران اچانک شدید قسم کی بجلی کی گرج چمک عین اس مقام پر ہوئی جہاں سوست نالے کا آغاز گلیشیر کےساتھ ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں گلیشیر کے سرک جانے سے بڑی مقدار میں سیلابی ریلہ سوست نالے میں انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر گیا۔ سیلابی ریلہ مسلسل کئی ماہ تک جاری رہا اور پھر اکتوبر کے مہنے میں موسم کی شدت میں انتہائی کمی آنے کے بعد یہ سیلابی ریلہ تھم گیا۔ اس دوران یہاں کی آبادکاریوں کو انتہائی نقصان ہوا ان نقصانات میں:

  • ایک بار پھر چاروں واٹر چینلز نظیم آباد، حسین آباد ،عزیز آباد اور مرکزی سوست بُری طرح سے متاثر ہوئے۔نظیم آباد و حسین آباد چینلز کو دوبارہ کسی حد تاک بحال کیا گیا البتہ سوست اور عزیز آباد سوست کے واٹر چینلز مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور اُنکی بحالی کا کام تاحال ممکن نہیں ہوا ہے۔
  • نظیم آباد کےلئے سوت نالے پر جو سسپنشن برج موجود تھا اسکا مکمل حصہ ملبہ کے نیچے آکر دب چُکا ہے۔
  • اس دوران بڑے پیمانے پر نالے کےساتھ موجود نہ صرف زرعی زمینوں کا نقصان بے حد کٹاو کی شکل میں ہوا وہیں کئی گھرانے بھی اس کی زدمیں آنے کی انتہائی لکیر تک پہنچ چکے تھے اور ان گھرانوں کو اس دوران خالی بھی کریا گیا تھا۔

موجودہ صورتحال:

2015ء کے سیلابی ریلے کے بعد اس وقت نالے کی صورتحال انتہائی ، انتہائی خطرناک شکل اختیار ہے۔اگر نالے کو مخصوص اصطلاحی طور پر ریڈ زون ایریا سیلابی خطر کے باعث کہا جئاے تو بےجانے وہوگا۔ اس مشکل صورتحال کی کئی اہم وجوہات ہیں جس کا کئی بھ شخص یا ادارہ آکر خود بھی جائزہ لے سکتا ہے۔

1۔ سیلابی ملبہ نالے میں زمین کی کٹاو کےساتھ بڑے وسیع پیمانے پر پھیلا ہووا ہے جس کی چوڑائی بے حد زیادہ ہوچکی ہے اور یہ ملبہ دریا کے کنارے سے لیکر پورے سوست نالے کے آغاز و اختتام تک بڑے وانچے سطح پر موجود ہے۔

  1. جہاں 2010ء کے سیلابی ملبہ میں زیادہ تر ریت اور پتلی بجری موجود تھی وہیں اس سال ملبہ میں بڑے سائز کی بجری اور انتہائی بڑے سائز کے پتھر موجود ہیں اور اس ملبہ میں ریت کی مقدار انہتائی کم ہے۔

3۔قراقرم ہائے وے کی تعمیر و مرمت کے دوران سوست میں جو نالہ پر مین کے کے ایچ پر پل کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے اس کا سائز کافی حد تک چوٹاہے جس کی وجہ سے بھی اس مخصوص جگہ پر ملبہ کو مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ملبہ مزید اپنا لیول اونچا کرتا جارہا ہے اور آئندہ سیزن خاص کر جون کے مہنے میں صورتحال گمبیر اختیار کرسکتی ہے جس کا اندازے کے مطابق 98٪ امکان موجود ہے۔sost gojal

موجودہ صورتحال کے باعث موجودہ ممکنہ خدشات:

مذکورہ صوتحال میں سوست نالہ پر جیسے ہی موسم کی شدت میں اضافہ ہوگا ویسے ہی انتہائی درجے کے خطرات موجود ہیں جس کا اگر ہم مختصرً جائزہ لیں تو ذیل کے ممکنہ خطرات موجود ہیں کا بروقت تدارک ترجیی طور پر ضروری ہے۔

  • سب سے پہلے خطرہ ہ جو کہ وموجودہ صورتحال میں موجود ہے وہ ملبہ کے موجودہ سطح میں مزید اضافہ اور نالے سے متصل زرعی زمینوں کا مزید بے رحمی سے کٹاو۔
  • کے کے ایچ پر سوست پل پر ملبہ اگر تھوڑا اور اونچے لیول پر پہنچتا ہے تو نہ صرف موجوہ پل بلکہ اس سے متصل قراقرم ہائے وئے کا کافی حصہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
  • نظیم آباد کے سسپینشن برج کےساتھ جو راستہ نظیم آباد کےلئے موجود ہے اُس کے نیچے پانی کا بہاو خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے۔ چونکہ اس سے پہلے اس طرف سے عزیز آباد کے لئے واٹر چینل موجود تھا جو کہ پہاڑ کے کنارے سے فاصلے پر موجود تھا وہ مکمل ختم ہوچکا ہے اور نالے کا سیلابی ریلہ نظیم آباد کے پہاڑ کے نیچے گھس چکا ہے اور جو پہاڑ کی خاصیت ہے وہ انتہائی نرم ہے جس کے باعث پہاڑ کے کافی حصے کر سرک جانے کا اندیشہ ہمہ وقت موجود ہے۔اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو پھر نالے کا پانی اپنا رخ مکمل طور پر سوست گاوں کی طرف کریگا جس کے نتیجے میں پوری آبادی زد میں آئے گی اور مذکورہ بالا تمام اہم دفاتر،سکولز،ہیلتھ سنٹر و دیگر بلڈنگ ،گھرانے اور سب سے بڑھکر انسانی جانیں خطرے کی صورتحال میں ہونگی۔

تجاویز و شفارشات:

ان ممکنہ خطرات کو کم کرنے اور ان سے مقابلے کےلئے سوست نالے میں چند امور ایسے جن کو بروقت عملی جامعہ پہنانا ناگزیر ہیں ۔اس بابت چند اہم تجاویز و سفارشات درج ذیل ہیں:

1۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہ کہ 2010 ء میں بھی کافی مقدار میں سیلابی ملبہ موجود تھا البتہ وہ مٹیریل ریت اور پتلی بجری پر مشتمل تھا اور سب سے بڑھ کر سی آر بی سی کے توسط سے کے کےایچ پروجیکٹ کےلئے یہاں سے بے حد زیادہ مقدار میں میڑیل کو بروقت اٹھایا گیا جس کے باعث اس وقت صورتحال زیادہ ؐطرناک اختیار نہیں ہوئی۔البتہ اس دفعہ 2015ء کے سیلابی ریلے کے نتیجے میں نہ صرف سیلابی ملبہ کی نوعیت بالکل مختلف ہے جس مین موٹے بجری،بڑے پتھر اور کم مقدار میں ریت موجو ہے اور اس کی سطح مزکورہ پل سے کیکر پورے سوست نالے میں انتہائی اورنے درجے پر موجود ہے۔پھر تال حال اسے ہٹانے کی کوئی سبیل نہیں کی گئی ہے۔ لہذا ترجیحٰ بنیادوں پر اولین عملی اقدام کے طور پر دریا کے کنارے سے کیکر کم از کم مرکزی سوست کے مین واٹر چینل تک موجودہ ملبہ کو درمیان سے کافی چوڑائی میں مشین ایکس کیویٹر کے ذریعے ہٹاتے ہوئے پیچھے سے آنے والے ملبہ کےلئے راستہ فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

  1. نالے سے متصل زمینوں کا کٹاو بہت خطرناک شکل اختیار کرچکا ہے اور اس صورتحال کو مستقل بنیادون پر حل کرنے کےلئے نالے میں حفاظتی بند کی تنصیب انتہائی ضروری ہے۔اس امر کو بھی ترجیجی بنیادوں پر مکمل کرنا ناگزیر ہے۔لہذا ملبہ کو ہٹانے کےساتھ ساتھ رنالے میں آبادی کے دونوں اطراب میں حفاظتی بند کی تنصیب کی استداعا ہے تا کہ نالے کے دونوں اطراف کی آبادی کسی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جاسکے۔
  2. اس کے ساتھ اولین ترجیحات کے طور پر این ڈی ایم اے/جی بی ڈی ایم اے اور فوکس جیسے ادارے کے ماہرین اس متاثرہ علاقے کا طائرانہ طور پر سروے کریں اور آئندہ کےلئے ایسے خطرات سے آبادی کو بچانے کے لئے ممکنہ اقدمات کی نشاندہی مستقبل بنیادوں پر کریں تا کہ مستقبل میں اس نوعیت کی صورحا میں کسی بھی قسم کے نقصان کا اندیشہ کم از کم ہو۔

حرف آخر:

اس تمام صوتحال سے یہاں کے مکینوں کو محفوظ رکھنے اور کسی بھی ناگزیر صورتحال سے نبرد آزما ہونے کےلئے مذکورہ شفارشات کو عملی جامعہ پہنانا اشد ضروری ہے اور اس کےلئے تمام سٹیک ہولڈرز، بشمول حکموت پاکستان،حکومت گلگت بلتستان کے ادارے متعلقہ این جی اوز و دیگر ادارے مقامی کمیونٹی اور مقامی کمونٹی کے اداروں کو ملکر برقت فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *