اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق پاکستان کی گلگت بلتستان میں موجودگی غیر آئینی ہے، حسنین سینگے

 

GILGIT PAKISTAN

انسٹیٹیوٹ فار گلگت بلتستان اسٹیڈیز کے سربراہ ڈاکٹر حسنین سینگے سیرنگ نے ہماری ٹیم کو دیئے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ اب تو سب کو پتہ چل گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو سی پیک سے کیا ملنے جارہا ہے۔ چنانچہ قوم کو متحد ہوکر سی پیک کی مخالفت کرنی چاہیئے۔ رہی بات چین اور امریکہ کی تو علاقے کے مفاد کے خلاف کوئی ب?ی کام کرے تو مخالفت ہونی چاہیئے۔ سمندر پار سے آ کر اگر کوئی کچھ کر رہا ہے تو ب?ی پاکستانی حکومت یا جی ایچ کیو کی مرضی سے کر رہا ہے۔ اگر چین ب?ی کچھ کر رہا ہے تو ب?ی اسلام آباد یا جی ایچ کیو کی مرضی سے۔

ڈاکٹر حسنین سینگے سیرنگ کا تعلق گلگت بلتستان کی وادی شگر سے ہے۔ آپ اسوقت انسٹیٹیوٹ فار گلگت بلتستان اسٹڈیز کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، جو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہے۔ یہ ادارہ گلگت بلتستان میں ہونے والی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کرتا ہے اور مقامی لوگوں، آب و ہوا اور وسائل پر تغیرات کا جائزہ لیتا ہے۔ اسلام ٹائمز نے آپ سے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے جو اپنے محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

سوال۔ گلگت بلتستان کے مسئلے پر آپکو تخصص حاصل ہے اور آپ کا شمار صاحب نظر افراد میں ہوتا ہے، لیکن بعض حلقوں کا آپ پر الزام یہ ہے کہ امریکہ میں ہونے کے ناطے آپ گلگت بلتستان کے ایشوز پر پاکستان اور گلگت بلتستان کے مفادات سے بڑھ کر امریکہ کے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں، اس میں آپ کی کیا رائے ہے۔؟
حسنین سینگے: دیکھیں! اگر امریکہ کے مفادات کے تحفظ سے آپ کی مراد امریکی حکومت کی ترجمانی کرنا ہے تو میں امریکی پالیسی کے بالکل برعکس کام کر رہا ہوں۔ امریکی حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان کو اپنا حصہ بنائے اور لائن آف کنٹرول کو سرحد مان لے۔ 1950ء4 میں اقوام متحد? کی زیرنگرانی ڈکسن پلان، جس کے تحت گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ تسلیم کیا جانا ت?ا، کو ب?ی امریکی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ت?ی۔ امریکی حکومت کا جنرل ضیاء4 الحق پر ب?ی بہت دباو ت?ا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ مان لیا جائے۔ امریکی حکومت آج ب?ی گلگت بلتستان کو پاکستان کا شمالی علاقہ کہتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت پاکستان کا جو نقشہ استعمال کرتی ہے اس میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا اندرونی حصہ دک?ایا جاتا ہے۔ امریکی حکومت نے پاکستان میں پیپلز پارٹی اور انڈیا میں کانگریس پارٹی کے اس موقف کو سراہا ہے جس کے تحت گلگت بلتستان اور لداخ کو مستقل طور پر جدا کرکے ان کے بیچ ایک بین الاقوامی سرحد قائم کرنا تھا۔ اس بات کو مدنظر رک?یں تو امریکہ کے مفادات کا تحفظ تو و? لوگ یا جماعتیں کر رہی ہیں جو گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنوانا چاہتی ہیں اور لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کروانا چاہتی ہے۔ یعنی میری مراد پاکستان پیپلز پارٹی، مجلس وحدت مسلمین اور تحریک جعفری? ہے۔ اس کے برعکس میں گلگت بلتستان کو متنازعہ اور پاکستان کو وہاں پر قابض سمجھتا ہوں۔ میں گلگت بلتستان کو ایک آزاد ملک کی حیثییت میں دیک?نا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں ک? لداخی ب?ی اس میں شامل ہونے کی آرزو کریں گے۔

سوال: گلگت بلتستان کو ریاست پاکستان نے متنازعہ تسلیم کیا ہے آپکی رائے میں گلگت بلتستان کا مستقبل کیا ہوگا، ستر سالوں سے جی بی کی جو حالت ہے اس پر قطع نظر مستقبل کے بارے میں کیا خدشات ہیں۔؟
حسنین سینگے: ہمارا سیاسی مستقبل کشمیر کے تنازعہ سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت، ب?ارتی حکومت، پاکستان اور ب?ارت کے فوجی افسران، اور ب?ارت اور پاکستان کے کشمیری سب اس پر متفق ہیں کہ گلگت بلتستان کو کشمیر کے تنازعہ کے حل تک متنازعہ ہی رہنا ہے۔ اس کے ساتھ یہ ب?ی کہتا چلوں کہ مستقبل قریب میں یہ تنازعہ حل ہوتا نظر ب?ی نہیں آرہا۔ ان حالات میں پاکستان اور ہندوستان کی حکومتیں اگر سرینگر، استور اور لداخ بلتستان کے درمیان راستہ ک?ول کر تجارت شروع کروائیں اور معاشی بہتری لانے کی کوشش کی جائے تو امید کی کرن روشن ہو سکتی ہے، ورنہ کشیدگی جنگ کی طرف لے جائے گی۔ اور جنگ میں نقصان لداخ اور گلگت بلتستان کا ہے، اسلام آباد اور دہلی کا نہیں۔ گلگت بلتستان اور لداخ دونوں کی معیشت سیاحت اور تجارت پر منحصر ہے اور جنگ ہمارے لئے زہر ہے۔ ہمیں گلگت بلتستان کے ہر اس سیاست دان اور مولوی کا بائیکاٹ کرنا چاہیئے جو پاکستان اور اسلام کی محبت کی آڑ میں ہندوستان سے جنگ پر آماد? ہو یا جنگ کے لئے ورغلاتا ہو۔ اس کے علاوہ اپنی بربادی کے ساتھ ساتھ کرگل لداخ کی تباہی کا ب?ی خواہشمند ہو۔

سوال: بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو حقوق نہ ملنا خواہ وہ آئینی ہوں یا عالمی قوانین کی روشنی میں وضع کردہ حقوق، سب فرقہ وارانہ تعصبات کا نتیجہ ہے، آپکی اس سلسلے میں کیا رائے ہے۔؟
حسنین سینگے: جی فرقہ واریت سے ہمارا معاشر? کمزور ہوگیا اور ایک دوسرے پر اعتماد جاتا رہا، جو ہمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے نہیں دیتا۔ پاکستان کی حکومت فرقہ واریت کو سب سے موثر ہت?یار سمج?تی ?ے اسی لئے ہر قسم کے مولویوں کو ک?لی چ?ٹی دی جاتی ہے کہ و? عوام میں یہ تاثر عام کریں کہ مخالف فرقے کے افراد ان کی تباہی کے خواہاں ہیں، چناچہ ان سے تعاون نہ کیا جائے۔ فرق? واریت سے ایک قوم ہونے کا تشخص اور جذبہ ب?ی پیدا نہ کیا جا سکا۔ اس سے بڑھ کر ہماری بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ گلگت بلتستان کے شیعہ کے لئے اپنے علاقے کے سنی یا اسماعیلی سے زیاد? اہم ایران یا عرب کا شیعہ ہے اور مقامی سنی کے لئے مقامی شیعہ سے زیاد? ا?م پاکستان کا سنی یا عرب سنی ہے۔ یہ عوامل ہمیں تقسیم رک?تے ہیں اور ب?انت ب?انت کے مطالبات پر مجبور کرتے ہیں۔ صحیح سمت نہ ہونا اس وقت بڑا چیلنج ہے اور صحیح سمت کے لئے علاقے کے سیاسی مسائل سے آگاہی ضروری ہے۔ مسئلہ کشمیر پر جتنا مواد ملے پڑ?یں تاکہ علاقے کے مفادات کے تحفظ کے لئے متحد ہوسکیں۔

سوال: وزیراعلٰی گلگت بلتستان نے استور اور بلتستان کو گلگت اور دیامر سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے پیچھے بحیثیت ماہر آپ بتائیں گے کہ کیا اہداف پوشیدہ ہیں۔؟
حسنین سینگے: ہمارے علاقے کو جوڑنا، توڑنا، کشمیر میں رک?نا یا نکالنا، صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنا، آزاد کشمیر کے ساتھ ملانا، چین کو دینا، چترال اور کوہستان سے ملا کر صوبہ بنانا، یہ سب کام عسکری قوتوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ سیاسی اداکار صرف بات کرسکتے ہیں، عمل نہیں۔ گلگت اور بلتستان کے الگ ہونے سے نقصانات اور فوائد پر بحث تو کی جاسکتی ہے مگر یہ کہنا کہ گلگت بلتستان کا کوئی شخص جو اپنی مرضی سے ایک افسر کا تبادلہ نہ کرسکتا ہو، و? علاقے تقسیم کرتا پ?رے گا۔ یہ وقت گزارنے کے لئے عمد? موضوع ہے۔

سوال: گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت جی بی میں داعش کی موجودگی کا انکار کررہی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ داعش کا اس خطے میں کوئی سایہ پڑا ہے کہ نہیں۔؟
حسنین سینگے: میری نظر میں داعش اور طالبان میں خاص فرق نہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو طالبان کے محدود قبائلی آپریشن کو بڑ?ا کر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح شیعہ کریسنٹ کی اصطلاح مشہور ہے، اسی طرح داعش کریسنٹ یا طالبان کریسنٹ ب?ی وجود میں آرہا ہے۔ اداکار وہی ہیں بس تماشے کا نام بدل گیا ہے۔ گلگت بلتستان کی حکومت کسی چیز کے وجود کا انکار کرے تو اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول، حکومت عوام کو غافل رک?نا چا? رہی ہو اور دوم، حکومت نے اب?ی سے ہی ہار مان لی ہو اور بیماری کے وجود سے ہی انکاری ہو۔ ہار اس وقت مانی جاتی ہے جب آپ میں اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہ ہو۔

سوال: سی پیک کیا گلگت بلتستان اور پاکستان کی ترقی کا ضامن منصوبہ نہیں جبکہ آپ سمیت مختلف اہل نظر اس کی بھرپور مخالفت کرتے نظر آتے ہیں اور دلیل صرف چین کا اس خطے میں اثر رسوخ بڑھنے کی ہے جبکہ امریکہ سات سمندر پار سے آکے جی بی کی گلی کوچوں میں موجود ہے، اس حوالے سے کسی کے تحفظات نظر نہیں آتے، جبکہ چین ہمسایہ ملک بھی ہے۔؟
حسنین سینگے: اب تو سب کو پتہ چل گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو سی پیک سے کیا ملنے جارہا ہے، چنانچہ قوم کو متحد ہوکر سی پیک کی مخالفت کرنی چاہیئے۔ رہی بات چین اور امریکہ کی تو علاقے کے مفاد کے خلاف کوئی ب?ی کام کرے تو مخالفت ہونی چاہیئے۔ سمندر پار سے آ کر اگر کوئی کچھ کر رہا ہے تو ب?ی پاکستانی حکومت یا جی ایچ کیو کی مرضی سے کر رہا ہے۔ اگر چین ب?ی کچھ کر رہا ہے تو ب?ی اسلام آباد یا جی ایچ کیو کی مرضی سے۔ تو پ?ر حکومت پاکستان یا عسکری قیادت کو بالکل ک?لی چ?ٹی دے کر صرف امریکہ کے خلاف نعرے لگانے کے کیا معنی؟ اختیار تو پاکستانی عسکری افسروں کے ہاتھ میں ہے۔ ان سے پوچ?ئے کہ ایسا کیوں ہے، رہی بات ہمسائے کی تو ایک طاقتور مملکت جو آپ کے ہمسائے میں ہو اس کے شر سے زیاد? ڈر لگتا ہے۔ گلگت بلتستان کے ہزاروں مربع میل کے حساب سے رقبہ پر اگر کسی نے قبضہ کیا ہوا ہے تو چین نے کیا ہے۔ کسی کے ماضی سے اس کے مستقبل کو جانچنا چاہیئے۔ کیا گارنٹی ہے ک? پچاس بلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد چین مزید علاقے پر قبضہ نہیں کرے گا؟ چین سے تجارت کیجئے مگر اپنا علاقہ اس کے ہاتھ میں نہ دیجئیے۔ سب سے دوستی رک?ئے اور سب پر نظر ب?ی۔

سوال: گلگت بلتستان میں موجود قوم پرست جماعتوں سے یقیناًآپکے رابطے ہونگے لیکن ان دنوں تمام قوم پرست رہنماوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، اتنے اہم ایشو پر انکی خاموشی کا کیا مطلب ہے، جبکہ ایک دو قوم پرستوں سے میں نے بات بھی کی تو انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے کہ قوم کیا کرتی ہے، اس طرح خدشہ نہیں ہے کہ انتظامی اور وفاقی جماعتیں پاکستان کے مفاد کے لیے گلگت بلتستان کو قربان کردیں گے۔؟
حسنین سینگے: جب پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت یزید کا روپ دھار لے تو ظلم آزاد اور حق قید ہو جاتا ہے۔ حکومت اور فوجی افسران کی چاپلوسی کرنے سے زیاد? مشکل اور بہادری کا کام علاقے کے مفاد کا تحفظ کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ ان حالات میں قوم پرستوں سے جو ہو رہا ہے وہی بڑی بات ہے۔ جیلوں میں ظلم سہنے کے بعد ب?ی و? اپنے نظریئے سے ہٹے نہیں اور ان کو سلام ہے۔ جن جن کو خدشہ ہے کہ وفاقی جماعتیں گلگت بلتستان کو بیچ دیں گے، ان سے گزارش ہے کہ و? قوم پرستوں کی ہمت بڑ?ائیں۔

سوال: عالمی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے متنازعہ گلگت بلتستان کے حقوق کی تفصیلات بتا دیجئے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ریاست نے گلگت بلتستان کے کتنے حقوق غصب کررکھے ہیں، اور اسکے علاوہ آپکی رائے میں متنازعہ گلگت بلتستان کا حل کیا ہے، جو اس خطے کے حق میں سب سے بہتر ہو۔؟
حسنین سینگے: اقوام متحد? کی قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کا گلگت بلتستان میں قیام غیرقانونی ہے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے خود ان قراردادوں پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت اس کو گلگت بلتستان سے شہری اور فوجی نکالنے تھے۔ یہ قراردادیں اقوام متحد? کی سکیورٹی کونسل سے منظور شد? ہیں۔ پاکستان کا وجود ہماری آزادی کو سلب کرتا ہے اور اس سے بڑھ کر خلاف ورزی کیا ہوگی۔ پاکستان کو ہمارے داخلی معاملات میں دخل اندازی کا حق نہیں۔ پاکستان نے جن قراردادوں پر دستخط کیے ہیں اس کے مطابق پاکستان کے انخلاء4 کے بعد ہی اقوام متحد? ہندوستان کی حکومت اور ریاست جموں وکشمیر کے مختلف حصوں کے نمائندوں کے سات? بیٹھ کر استصواب رائے کا طریق کار طے کرے گی۔ اب آپ ہی بتائیے کہ مسئل? کشمیر اقوام متحد? کی قراردادوں کے مطابق کیسے حل ہوگا؟ اگر استصواب رائے کے بعد ریاست جموں و کشمیر کی اکثریتی عوام پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو پ?ر اس کو مکمل حق ہے کہ و? گلگت بلتستان کو اپنا آئینی حصہ بنائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ و? کشمیر کو ب?ول جائے اور لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد مان لے۔ ہمارا عبوری حل یہ ہے کہ آزاد کشمیر کی طرح سیٹ اپ مل جائے اور مستقل حل یہ ہے ک? استصواب کی صورت میں ہم آزادی کے حق میں ووٹ دیں۔ جو ملک اپنے آئینی حصے بلوچستان کا خیال نہیں رکھ سکتا و? ہمیں تبا? کرنے میں ب?ی زیاد? دیر نہیں کرے گا۔

سوال: گلگت بلتستان کے الحاق پاکستان کو آپ کس حد تک سنجیدہ لیتے ہیں اور الحاق کے حوالے سے کوئی دستاویزات اگر آپکے پاس ہے تو اس کی روشنی میں الحاق کی حیثیت واضح کیجئے گا۔؟
حسنین سینگے: گلگت بلتستان کو پاکستان کے ساتھ برا? راست الحاق کا قانونی حق نہیں ت?ا۔ اسی لیے ستر سال گزرنے کے بعد ب?ی پاکستان کی وفاقی حکومتیں اور عسکری قیادت آپ کو متنازعہ سمج?تی ہے اور الحاق کے کوئی کاغذات ب?ی موجود نہیں۔ جو جعلی دستاویزات بنائی گئیں، ان کو استعمال کرکے ب?ی ہنز? اور نگر پاکستان کا حص? نہ بن سکے۔ اٹ?ار? جولائی 1948ء4 کو جو تقسیم ہند قانون پاس ہوا اس وقت جس کے پاس جو علاقہ ت?ا و? اسی کی ریاست قرار ہوا۔ اگر آپ کو اس قانون پر غصہ ہے تو محمد علی جناح، نوابزاد? لیاقت علی خان کو گالیاں دیجئے، پنڈت نہرو کے خلاف نعرے لگائیے، ملک? برطانی? اور اس کی حکومت کو مورد الزام ٹ?رائیے، خوا? مخوا? کشمیریوں کو گالیاں دے کر وقت برباد نہ کیجئے۔ تقسیم ہند قانون پاس ہونے کے بعد آپ کے تمام راجگان سرینگر جاکر مہاراجہ ہری سنگھ کی بیعت کر آئے اور اس کو اپنا والی مان آئے۔ پاکستان آپ کے گلگت اسکاوٹس کی آزادی کی جنگ کو بغاوت کہتی ہے، آزادی نہیں۔ اس بات کا غصہ اسلام آباد پر نکالیے۔ پاکستان نے آپ کو سرینگر سے نت?ی رک?ا ہوا ہے، آزاد کشمیر سے نہیں۔ مظفرآباد کی کیا وقعت کہ و? کسی کو اپنے قبضہ میں رک?ے۔ آپ اس وقت تک متنازعہ ہیں جب تک جی ایچ کیو اور اسلام آباد چاہے گا۔ ب?لے آپ آزاد کشمیر کی پوری کی پوری آبادی قتل کردیں، پاکستان کو کشمیر کی ضرورت ہے، کشمیر کو پاکستان کی نہیں اور پاکستان اپنے پاوں پر کل?اڑی نہیں مارے گا۔

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سی پیک گلگت بلتستان سے گزر جائے گا یہ متنازعہ حیثیت اختیار کر جائے گی۔؟
حسینن سینگے: دیک?یں سڑک تو اب?ی ب?ی ہے اور اس پر آمدورفت ہو رہی ہے، اگر سی پیک مکمل ہوگی تو گاڑی کی جگہ ریل چلے گی، چنانچہ متنازع? ہونے سے سڑک کا کام نہیں رکے گا۔ مگر چین یہاں صنعت لگانے سے گ?برائے گا، اب?ی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، اگر چ?وٹے صوبے خوش نہ ہوئے تو لٹک ب?ی سکتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *