عبدالولی خان بائی پاس روڈ تکمیل کا کریڈیٹ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کو جاتا ہے۔صد ر تجار یونین حبیب حسین مغل

Habib Hussain P. Tujar unionچترال(بشیر حسین آزاد)تجاریونین چترال کا ایک اجلاس گذشتہ دنوں زیر صدارت صدر حبیب حسین مغل منعقد ہوا۔ اجلاس میں تجار اتحاد کے کارکردگی کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صدر حبیب حسین مغل نے کہا کہ تاجر اتحاد پینل 2003سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے آئے ہیں۔باوجود مشکلات کے تاجر اتحاد پینل نہایت ایمانداری سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ان خدمات میں سے عبدالولی خان بائی پاس روڈ کی منظوری کروانا شامل ہے۔جہاں ہزاروں افراد روزگار کررہے ہیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حبیب حسین مغل نے کہا کہ آج میں ایک حقیقت کو عیاں کرنا چاہتا ہوں کہ جب تجار یونین کے نمائندگان نے عہدے سنبھالے تو بازار میں ٹریفک کا رش اورتاجر اور عوام کے مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے 2003سے بائی پاس روڈ بنانے کے لئے درخواستی بنی ۔کہ چترال ٹاون میں ایک متبادل روڈ بنایا جائے۔ایم ایم اے کی دور حکومت میں سروے بھی ہوا ،جگہ کی نشاندہی بھی ہوئی مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر بائی پاس روڈ نہ بن سکی۔پھر جب پی پی پی اور اے این پی کی حکومت آئی تو امیر حیدر خان ہوتی نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد آرباب عالمگیر خان کے ہمراہ چترال کے دورے پر آئے۔تو تجار یونین کے نمائندگان اور بازار کمیٹی کے مشران نے پرانے پی آئی اے چوک میں مہمانوں کا استقبال کیا۔اس وقت کے ڈی سی رحمت اللہ وزیرنے مہمانوں سے تجار یونین کاتعارف کرایا ۔صدر حبیب حسین مغل نے کہا کہ امیر حیدر خان نے ہوتی نے ہم سے مخاطب ہوکر کہا کہ تمہاری درخواستوں کی منظوری ،فنڈز کی منظوری اور بائی پاس روڈ کی تعمیر کا اعلان کرکے جارہاہوں۔ہم نے اُن کا اور ارباب عالمگیر خان کا شکریہ ادا کیا۔ اس دوران چترال کے بااثر شخصیات اور ایم این اے نے روڈ کا نقشہ اور جگہ تبدیل کروانے کی بھرپور کوشش کی لیکن ہم نے ان کی کوششوں کو ناکام بنادیا۔زمین کے مالکان کوعوض ادا کیا گیا اور ٹینڈر بھی ہوا۔متعلقہ ٹھیکہ دار نے سست روی سے کام کیا اور بائی پاس روڈ کی تعمیر میں کسی بھی سیاسی لیڈر نے دلچسپی نہیں لیا۔مولانا عبدالاکبر چترالی اور تجار یونین تن تنہا بائی پاس روڈ کے لئے جدوجہد کرتی رہی اخر کار چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ اور ماتحت افیسر نے ذاتی دلچسپی لیکر عبدالولی خان بائی پاس روڈ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔اُنہوں نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کریڈیٹ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کو جاتا ہے۔اُنہوں نے اخر میں کہا کہ اس دوران انجینئر مقبول ایکسن کا دیر سے چترال کا تبادلہ ہوا تو ان کی کوشش اور دلچسپی اس میں شامل تھی ورنہ عبدالولی خان بائی پاس روڈ 2018تک تعمیر نہ ہوتی۔یہ ایک حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *