چترال بازار گندگی کی ڈھیر کا منظر پیش کرنے لگا۔میونسپل انتظامیہ کی غفلت سے گندگی سے بدبو پھیلنے لگی۔

chitral snowچترال(گل حماد فاروقی) شاہی مسجد روڈ چترال بازار میں جگہہ جگہہ گندگی کی ڈھیر نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ تاریحی اہمیت کے حامل شاہی مسجد کے سامنے اور اسی روڈ پر نہ صرف نالیاں گندگی سے بھرے پڑے ہیں بلکہ محتلف جگہوں سے لوگ اپنا کوڑا کرکٹ لاکر اس مسجد کے سامنے میں روڈ پر پھینکتے ہیں جس کی تعفن سے عوام کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تاجر یونین کے جنرل سیکرٹری حاجی منظور قادر کا کہنا ہے کہ تحصیل میونسپل انتظامیہ کے پاس بازار کی صفائی کیلئے 20 عملہ سینٹری کی کام کیلئے بھرتی ہوئے ہیں مگر وہ کبھی آتے ہیں کبھی نہیں ۔ جس کی وجہ سے بازار میں جگہہ جگہہ گندگی کے ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور اس بدبو سے لوگ بہت تنگ ہیں۔
ایک اور راہگیر نے بھی بتایا کہ وہ تاریحی شاہی مسجد کو دیکھنے کیلئے آیا تھا مگر یہاں آکر وہ نہایت مایوس ہوا کہ اس مسجد کے سامنے ہی گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں۔
چند لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ شاہی مسجد کے دوسرے گیٹ کے قریب ایک عوام کنواں بنایا گیا ہے جہاں سے لوگ رمضان کے مہینے میں پینے کا ٹھنڈا پانی لے جاتے ہیں مگر اسی کنویں کے قریب چند قدم ہی کے فاصلے پر مسجد کے صحن ہی میں بیت الحلاء کی گٹھر بنایا گیا ہے اور اس گھٹر میں لیٹرین کی گندگی آکر جمع ہوتی ہے جو یقینی طور پر یہ گندگی زمین کے اندر رس کر اس کنویں کے پانی کی متاثر کرتی ہے جس سے ان لوگوں کی صحت کو شدید حطرہ لاحق ہے جو اس کنویں سے پانی پیتے ہیں۔
چترال بازار کے ایک رہائیشی غلام سرور نے ایک گندے نالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پورے بازار، اور شہر کی گندہ پانی اسی نالے میں آتی ہے جو کہ گندگی سے بند پڑی ہے اور اب یہ پانی اس کے اوپر سے گزر کر لوگوں کی دکانوں میں داحل ہوتی ہے جس سے بیماریاں پھیلنے کا حطرہ ہے مگر کمیٹی والے اس کی صفائی کیلئے نہیں آتے۔ تاجر یونین کے اراکین او دیگر شہریوں نے الزام لگایا کہ میونسپل انتظامیہ میں ملازمین کا ایک فوج جم غفیر بھرتی ہوا ہے مگر وہ کام نہیں کرتے اکثر لوگ گھر بیٹھے تنخواہ لیتے ہیں جو کہ سرکاری خزانے پر خواہ محواہ بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر چترال اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کی ایک افسر سے بھی ان کی موقف جاننے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے اس سلسلے میں بات کرنے سے انکار کیا۔ تاہم تحصیل میونسپل انتظامیہ کی دفتر میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ TMA چترال یعنی تحصیل میونسپل انتظامیہ میں کم از کم 140 لوگ بھرتی ہوئے ہیں اور ان 140 ملازمین کو باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے ان میں کتنے لوگ کام کرتے ہیں اور کتنے لوگ ڈیوٹی نہیں کرتے یہ ایک الگ سوال ہے کیونکہ اکثر لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ٹی ایم اے چترال میں دس ڈرائیور بھرتی ہوچکے ہیں اور بیس عملہ صفائی پر معمور ہے مگر دفتر میں بہت کم لوگ نظر آتے ہیں۔
چترال کے لوگوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایم اے چترال کی عملہ کی چھان بین کرکے ان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنا فر ض منصبی بھی احسن طریقے سے نبائے اور گھر بیٹھے تنخواہ نہ لے تاکہ پھولو ں کا شہر چترال گندگی کی ڈھیر کا منظر پیش نہ کرے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *