چترال کے بالائی علاقہ وادی سوسوم کی سڑکیں موت کے کنویں سے کم نہیں۔خواتین مال بردار گاڑیوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور

women in chitralچترال(گل حماد فاروقی) چترال کی بالائی علاقہ وادی سوسوم کے لوگ انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں۔ یہاں کے خواتین اتنی مجبور ہیں کہ وہ مال بردار گاڑیوں میں سامان کے اوپر یا گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرتی ہیں۔
اس وادی کی سڑک انتہائی حطرناک ہے اور جب سے یہ سڑک بنا ہے اب تک اس سڑک پر محتلف حادثات میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگ مر چکے ہیں۔ہمارے نمائندے سے باتیں کرتی ہوئی سیکنڈ ائیر کی ایک طالبہ فائزہ قیوم نے کہا کہ جب وہ ہفتہ وار چھٹی پر گھر آتی ہے تو راستے میں بہت خوف محسوس کرتی ہے کیونکہ سڑک کی حالت انتہائی حستہ حال ہے یہ ایک زیگ زیگ سڑک ہے جو کئی حطرناک موڑوں پر مشتمل ہے اور ہزاروں فٹ اونچائی پر واقع ہے جس کے نیچے دریائے چترال بہتا ہے اگر خدانحواستہ کوئی گاڑی اوپر سے نیچے گر جائے تو سیدھا دریا میں گرتا ہے جن کی لاشیں نکالانا بھی بہت مشکل ہوتی ہے۔
ایک جیپ میں گھریلوں سامان لایا جارہا تھا اور اس سامان کے اوپر دو خواتین بھی بیٹھ کر سفر کررہی تھی جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں اتنی تکلیف دہ حالت میں سفرکرتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ مجبوری ہے وہ کیا کرے کوئی گاری نہیں ملتا ،
انہوں نے کہا کہ وہ اگر گاڑی کی چھت پر یا سامان کے اوپر بیٹھ کر سفر نہ کرے تو پھر ان کو ایک دن کا انتظار کرنا پڑتا ہے جس میں ہوٹل کے اخراجات الگ سے ہوتے ہیں اسلئے وہ اس سواری کو بھی غنیمت جان کر مجبوراً سفر کرلیتی ہیں۔
ایک خاتون نے کہا کہ اس وادی میں انسانی حقوق کی کوی سہولت میسر نہیں اگر وہ لوگ بیمار ہوجائے تو پھر اپنی موت کا انتظار کرتی ہیں کیونکہ یہاں نہ ہسپتال ہے نہ سڑک۔ اور سڑک کی حالت اتنی حراب ہے کہ اس پر سفر کرتے وقت اکثر مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے انتقال کرجاتے ہیں
وادی سوسوم کے لوگوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوبصورت وادی کی ترقی پر توجہ دے یہاں کی سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس وادی میں ہسپتال، سکول اور کالج بھی تعمیر کرے تاکہ ان لوگوں کی زندگییوں میں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *