جدید زراعت سے متعلق تین روزہ ٹریننگ کا اختتامی رپورٹ

Press release Agricultureجدید زراعت سے متعلق تین روزہ ٹریننگ کا اختتامی رپورٹ
محکمہ زراعت ڈسٹرکٹ کی جانب سے بونجی میں تین روزہ جدید زراعت کے حوالے سے کاشتکاران کے لئے ٹریننگ کا اہتمام کیا تھا جس کی افتتاحی تقریب میں جناب ارمان شاہ صاحب ممبر گلگت بلتستان کونسل مہمان خصوصی تھے۔علاوہ ازیں تقریب میں آصف اللہ صاحب سیکریٹری لوکل گورنمنٹ گلگت بلتستان، جناب بشیر احمد صاحب ڈائریکٹر جنرل ماؤنٹین ریسرچ، جناب ڈاکٹر فضل الرحمان صاحب ڈائریکٹر زراعت گلگت ریجن، جناب نصیر خان صاحب سابقہ ممبر گلگت بلتستان کونسل ، جناب تاج محمد سابق SSP گلگت بلتستان، جناب فرید اللہ صاحب سینئر سائنٹیفک آفیسر گلگت کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت استور نبی الرحمان اور زراعت آفیسر ڈسٹرکٹ استور امتیاز علی نے شرکاء کورس سے خطاب کیا۔
تین روزہ اختتامی تقریب میں عمائدین علاقہ کے کثیر تعداد نے اس اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ خیال رہے کہ محکمہ زراعت ڈسٹرکٹ استور کی جانب سے ڈسٹرکٹ استور کے کاشتکاروں کے لئے فصلات کی اچھی پیداوار کے لئے جدید اصولوں پر مشتمل معلومات کو کاشتکاروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا ہے جس میں ڈسٹرکٹ استورمیں پر تشھیک، استور مرمئی اور گوریکوٹ کے علاقوں میں بھی زراعت کے جدید اصولوں کے مطابق کاشتکاروں کو ٹریننگ دیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ کے دیگر علاقوں میں بھی محکمہ زراعت کاشتکاروں کے لئے جدید حوالے سے ٹریننگ کا اہتمام کر رہی ہے۔
بونجی علاقے میں محکمہ زراعت ڈسٹرکٹ استور کی جانب سے تین روزہ ٹریننگ کے اختتام میں شرکائے کورس سے خطاب کرتے ہوئے مہمانوں نے شرکاء کورس پر زور دیا کہ وہ اپنے زمینوں میں جدید کاشتکاری کے اصولوں کو اپنا کر اور محکمہ زراعت سے تکنیکی معاونت کے ساتھ ساتھ فصلات کے اچھے بیچ لیکر کاشت کر کے ممکن بنایا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی کم رقبے سے زیادہ سے زیادہ پیداوار لینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ مہمانوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ بونجی ڈسٹرکٹ استور میں سب سے گرم علاقہ ہے جو کہ قدرت کی طرف سے کاشتکاری کے لئے تحفہ ہے۔اس آب و ہوا سے فائدہ اٹھا کر ہم پیداوار کو اتنا بڑھا سکتے ہیں کہ ہم اپنی زائد پیداوار کو مارکیٹ کر کے ضروریات زندگی کی دیگر لوازمات کو پورا کر سکتے ہیں۔
بونجی میں شملہ مرچ کی مثال پیش کرتے ہوئے شرکائے کورس کو بتایا گیا کہ بونجی میں مثالی زمیندار افتخار جس نے اپنی زمین سے شملہ مرچ کی کاشت کی تھی اور زائد پیداوار کو مارکیٹ کر کے 4کنال اراضی سے 6لاکھ 5ہزار روپے کمایا ہے جو کہ مثالی کاشتکاری کے لئے ایک نمونہ ہے کہ وہ بھی اپنی زمینوں سے جدید زراعت کی کاشتکاری سے دیگر فصلات کی بھی اسی طرح سے پیداوار لے سکتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے بتایا کہ بونجی میں اچھی زمینیں موجود ہیں ان زمینوں کوجدید کاشتکاری اور پھلدار درختوں کے باغات لگا کر آمدن حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مہمان خصوصی نے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے زمانہ کاشتکاری کے وقت چیری کے فروٹ کو پہلی دفعہ اسلام آباد مارکیٹ کر کے لوگوں کے لئے ایک راستہ دکھایا جس کی وجہ سے اس علاقے میں پیدا ہونے والے چیری کے فروٹ کی مانگ ہوئی اور کاشتکار حضرات نے چیری کے پودے اگانے شروع کر دئے اور آج کروڑوں کی آمد ن صرف اور صرف چیری کے فروٹ فروخت کرنے سے علاقے میں حاصل ہوتی ہے۔اس طرح بونجی کے کاشتکار بھی اپنی زمینوں میں اچھے پھلدار درخت لگا کر بہتر آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔
تقریب سے جناب آصف اللہ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنی زمینوں میں محکمہ زراعت کے مشاورت سے جدید کاشتکاری کر رہے ہیں اور ما شا ء اللہ 2016میں گندم کی اچھی پیداوار بونجی علاقے سے حاصل ہوئی ہے۔آپ نے مزید بتایا کہ آپ کو زراعت کے شعبے سے گہرا لگاؤ ہے اور اس دلچسپی کی وجہ سے زراعت میں نت نئے تجربات کر رہے ہیں ۔آپ نے حالیہ پودے لگانے کے موسم میں بونجی علاقے میں انگور کے تجرباتی پلانٹ لگا چکے ہیں جن کی نشونماشروع ہو چکی ہے۔جو کہ یہ چیزیں علاقے کے کاشتکار حضرات کے لئے ایک نمونا ہے کہ وہ بھی آگے آئیں اور اپنی زمینوں کو آباد کاری کے لئے محنت کریں تاکہ مستقبل کے مشکل حالات کا مقابلہ اپنی ہی زمینوں کی پیداوار سے ممکن ہو سکے۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر زراعت جناب فضل الرحمان صاحب نے بتایا کہ محکمہ زراعت کے شعبے میں کاشتکاروں سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں، محکمہ بونجی میں فروٹ فلائی کے کنٹرول کرنے کے لئے 10عدد نیفر(NAFER) لگا رہی ہے جس کی وجہ سے مستقبل قریب میں فروٹ فلائی کا کنٹرول ممکن ہو گا اور ساتھ ساتھ محکمہ کاشتکاروں کے لئے گندم کا بنیادی بیج بھی دے رہا ہے جس سے علاقے میں گندم کی پیداوار بڑھے گی۔ڈائریکٹر جنرل جناب بشیر احمد صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماؤنٹین ریسرچ سنٹر جگلوٹ جو کہ کاشتکار حضرات کے لئے پیداوار فصلات کے پیدا کرنے کے لئے نئے نئے تجرباتی پلانٹ لگا رہا ہے اور بہتر پیداوار کے حامل فصلات کے بیج جو کہ اس علاقے میں موسم اور آب و ہوا کے مطابق اچھی پیداوار دینے کے قابل ہیں ان فصلات کے تصدیق شدہ بیج محکمہ زراعت کے ایکسٹینشن سنٹر کے وساطت سے زمینداروں تک پہنچ جاتے ہیں۔دپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈسٹرکٹ استور نے اپنے خطاب میں بتایا کہ محکمہ ہر وقت کاشتکاروں کی رہنمائی کے لئے تیار ہے کاشتکار گندم کے بیج کے حصول کے لئے محکمہ زراعت ڈسٹرکٹ استور سے رجوع کر سکتے ہیں۔ آپ نے مزید بتایا کہ اس سال ڈسٹرکٹ استور کے کاشتکاروں کے لئے محکمہ نے اچھے سرٹیفائڈگندم کے بیج تیار کئے ہیں اور کاشتکارحضرات کو رعایتی نرخ میں دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ استور کے زمینداروں کے لئے سبزیات کی پنیری کی تیاری کے لئے محکمہ نے سات عدد گرین ہاؤس مثالی کاشتکاروں کے زمینوں میں لگا رہا ہے تاکہ کاشتکار حضرات بروقت سبزیات کی کاشتکاری کے لئے پنیری تیار کر سکیں۔ اختتامی تقریب کے سٹیج سیکریٹری کے فرائض جناب امتیاز علی زراعت آفیسر ڈسٹرکٹ استور دے رہے تھے ،آپ نے اپنے خطاب میں شرکائے کورس کو بتایا کہ وہ اپنی غیر آباد اور بنجر زمینوں کی آبادکاری کے لئے جدید زراعت کے مہارتوں کو بروئے کار لا کر بنجر زمینوں اور کم پانی والے علاقوں کو آباد کر کے سر سبز اور شاداب بنا سکتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زمیندار کا قوت ارادہ مضبوط اور مستحکم ہو تو کوئی مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں سبزیات اور پھل فروٹ کو ہم اسلام آباد کی مارکیٹوں میں فروخت کر دیں۔
تین روزہ تقریب کے آخر میں محکمہ زراعت ڈسٹرکٹ استور کی جانب سے گندم کی اچھی پیداوار کی حامل قسم پاک 2013جو کہ بونجی ایریا کے لئے نہایت موزوں ہے کم پانی سے اس قسم کی گندم بہتر پیداوار دے دیتی ہے کو زمینداروں کے درمیان تقسیم کیا گیا تاکہ کاشتکار اس بیج کو کاشت کر کے اس کا بیج علاقے کے دوسرے کاشتکار حجرات تک پہنچا دیں اور ساتھ ساتھ تین روزہ ٹریننگ کے شرکائے کورس کے درمیان سرٹیفیکٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ٹریننگ کے اختتام میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ڈسٹرکٹ استور نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر اس تقریب کو رونق بخشی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *