کشمیر انڈیا کا کیسے ہوا؟؟ تحریر :عابد انمول

جب بچہ بھوکا ہو تو بچے کو دیکھ کے ماں کی بھی بھوک مٹ جاتی ہے جب تک اس کو کھانا نہ کھلائے خود نہیں کھاتی جب بچے کو کوئی تکلیف ہو تو ماں خون کے آنسو روتی ہے اور سوچتی ہے کیسے اپنے بچے کی تکلیف کو دور کرے۔ماں وہ ہوتی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ محبت اپنے اولاد کو کرتی ہے ۔جب رات گئے تک ببیٹاگھر نہ لوٹے تو وہ ماں ہی ہوتی ہے جو گھر کے چوکھٹ پر بیٹھے اپنے بیٹے کا راستہ تکتی رہتی ہے اور انتظار کرتی ہے کب اس کا بیٹا گھر آئے اور بیٹے کو دیکھ کے اس کے آنکھوں میں ٹھنڈک آئے اور دل کو سکون ملے۔کیا کوئی ماں اپنے بچے کو بھوکا رکھ کے خود پیٹ بھر کے کھانا کھا سکتی ہے؟کیا کوئی ماں اپنے بچے پر ظلم کرسکتیہے؟کیا کوئی ماں اپنے بیٹے کو گھر سے باہر رکھ کے خود چین کی سانس لیتی ہے اور سکون سے سو سکتی ہے؟نہیں نہیں بالکل نہیں ایسا تو سوتیلی ماں بھی نہیں کر سکتی۔وہ ماں ماں نہیں ہوتی جو اپنے اولاد پر ظلم کرے۔تو کشمیر انڈیا کا کیسے ہوا؟؟؟روز بھارتی فوج بیگناہ کشمیریوں پر ظلم کرتے ہے روز وہاں پر لاشوں کے ڈھیر لگتے ہیں نجانے کتنے دنوں سے کشمیری بہن بھائی بھوکے بیٹھے ہیں کیا مودی کو ان پر ترس نہیں آتا ؟کیا مودی کو ان ماؤں کے آنسو نظر نہیں آتے جو اپنے اولاد کی لاشوں سے لپٹ لپٹ کے خون کے آنسو روتی ہیں ؟ مودی نے ان ماؤں سے انکے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا۔ کیا مودی کو شہید برھان وانی کی خون سے لت پت لاش نظر نہیں آتی ؟کیا مودی کو 12سالہ جنید یا 4نومبر کو شہید ہونے والے بیگناہ لوگ نظر نہیں آتے ؟پھر مودی کس حق سے کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے؟؟؟؟ کہتے ہیں کشمیر جنت کا ایک ٹکڑا ہے مودی نے تو اس جنت کو جہنم سے بھی بدتر بنایا ہے جہاں ہر وقت برف سے آگ کے شرارے نکلتے ہیں۔ مودی کو شاید کشمیریوں کے جذبے کا اندازہ نہیں ۔روز کشمیری اپنے بہن بھائی میں سے کسی کی لاش کو کندھا دیتے ہیں مگر انکا حوصلہ بال برابر بھی کم نہیں ہوا اور وہ چیخ چیخ کے کہہ رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان کشمیر بنے گا پاکستان ۔مودی شاید بھول گیا ہے کیسے کشمیر میں بھارتی فوجی جیش محمد کے مجاہدین سے ناک رگڑ رگڑ کر اپنی جان کی بھیک مانگ رہے تھے کیا مودی بھول گیا کیسے کشمیری قوم نے خالی ہاتھ بھارتی فوجیوں کو الٹے پاؤں دوڑادوڑا کے ماڑا تھا ؟مودی چاہے جتنی بھی خون کی ہولی کھیلے جتنا بھی ظلم کرے مگر کبھی کشمیر حاصل نہیں کر سکتا کشمیریوں کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جائیگی ۔ان کو یقین ہے ظلم کی سیاہ رات ختم ہو جائیگی،رات کی تاریکیاں چھٹ جائیگی،آزادی کی صبح طلوع ہوگی آزادی ان کا حق ہے اور وہ چھین کے آزادی لینگے مودی تکتا رہ جائیگا اور کشمیر پاکستان بن کے رہیگا ۔کشمیری قوم کو یقین ہے کہ خون پھر خون ہے گرتا ہے تو جم جاتا ہے ،ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔
کیا غمِ زندگی سناؤں میرا کشمیر جل رہا ہے
میں خوشی کہاں سے لاؤں میرا کشمیر جل رہا ہے
تمہیں گلہ ہے دوست مزاج کیوں ہیں برہم
کہو کیسے میں مسکراؤں میرا کشمیر جل رہا ہے
ہے ڈگر ڈگر موت ہے قدم قدم شہادت
سرے راہ نہ ڈگمگاؤں میرا کشمیر جل رہا ہے
میرا زخم زخم ہے سینا تو لہو لہو ہے سفینہ
میں سکون کیسے پاؤں میرا کشمیر جل رہا ہے

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *