قراقرم یونیورسٹی کو مذہبی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کی شدید الفاظ میں مذمت اور صوبائی حکومت اور پولیس کی کارروائیوں پر عدم اعتماد کا اظہار, میر اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان وکوہستان قاضی نثار

nisar ahmedچلاس(پ،ر) امیر اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان وکوہستان قاضی نثار کے زیر صدارت چلاس میں علمائے دیامر کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ،اجلاس میں قراقرم یونیورسٹی کو مذہبی اور فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کی شدید الفاظ میں مذمت کیا گیا،اور صوبائی حکومت اور پولیس کی کارروائیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان وکوہستان قاضی نثار احمد ،مولانا خان بہادر،مولانا مزمل شاہ،مولاناعارف ودیگرنے کہا کہ گلگت بلتستان ایک حساس علاقہ ہے،یہاں پر نیکٹا اور اپیکس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا جائے،اور گلگت بلتستان کے امن کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لاکرریاست کے ساتھ غداری کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ قراقرم یونیورسٹی ایک علمی درسگاہ ہے،اس ادارے کو متنازعہ نا بنایا جائے اور یونیورسٹی کی سیکورٹی کیلئے رینجر تعینات کیا جائے،تاکہ طلبہ پرامن انداز میں تعلیم حاصل کرسکیں ۔اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد پیش کیا گیا جسمیں پرامن علمائے دیامر کو شڈول فور میں شامل کرنے پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دیامر کے پرامن علماء کا نام شیڈول فور سے نکالا جائے،اجلاس میں پاک فوج کے نئے سپہ سالارکی تقرری پر اظہار مسرت کیا گیا ۔اجلاس میں کہا گیا کہ علماء کرام تنظیم اہلسنت والجماعت کے نظم ونسق کو بہتر بناکر عظمت حرمین شریفین کی تحفظ کیلئے عوام الناس میں عوامی رابطہ قائم کرنے کیلئے گلگت بلتستان اور کوہستان کے مختلف علاقوں کا دورے یقینی بنائیں گے۔قرارداد میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام پاک فوج سے محبت رکھتے ہیں ،یہاں کے عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ مل کرملک دشمن عناصر کے مذموم مقاصد خاک میں ملائیں گے۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں یکطرفہ فیصلے نہیں ہونا چاہے، سپاہی راجہ جمال رینجر اور دیگر لوگوں پر حملے کرنے والے پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں ۔اجلاس میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر افسوس کا اظہار کیا گیا ،اور آخر میں علمائے دیامر نے قاضی نثار کی قیادت میں گلگت بلتستان کو ایک پرامن خطہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *