-کیا خودکشی اختیاری عمل ہے ؟

نورپامیری

کچھ لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کیو ں کرتے ہیں؟ یہ سوال صدیوں سے انسانی سماج کا حصہ رہا ہے۔ اس سوال کا کوئی ایک جواب نہیں ہے۔pamiri خود کشی کے ہر سانحے کے بعد کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ فلان نے خود کو ضائع کر دیا۔ اپنی زندگی تباہ کردی۔ گھرو الوں کا بھی خیال نہیں رکھا، ماں باپ کی محنت ضائع کردی وغیرہ وغیرہ۔

یقیناً خودکشی کا فیصلہ کرنے والے جانتے ہیں کہ وہ جس گھپ اندھیرے منزل کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں وہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ایک اٹل فیصلہ کر لیتے ہیں۔ فیصلہ کرنے والا یا فیصلہ کرنے والی کو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے سفر کے لئے تیار ہیں جہاں سے واپسی کی ضرورت نہیں۔ اْنہیں معلوم کی بجائے نامعلوم اور ہستی کی بجائے نیستی میں زیادہ کشش نظر آتا ہے۔ دنیا کی خوبصورتی ، پرندوں کی چہچہاہٹ ، چٹختے کلیوں کی موسیقی ، ندیوں کے شور اور ہواوں کی سرسراہٹ، اپنوں کی محبت اور غیروں کی بیگانگی میں ان کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ بلکہ یوں سمجھئے کہ مائل بہ خودکشی افراد ان مظاہر سے بیزار ہوجاتے ہیں۔ اْنہیں لگتا ہے کہ یہ دلکشیاں ایک ایسی دنیا کا حصہ ہیں جس میں انہیں اپنا مقام نہیں مل رہا، ان کی عزت نہیں ہورہی ، اور اْنہیں وہ توجہ نہیں مل رہا جس کے وہ مستحق ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا خودکشی کا فیصلہ رضاکارانہ یا اختیاری ہوتا ہے؟

بظاہر تو خود کشی کا عمل اختیاری لگتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص پستول اْٹھا کر اپنے جسم میں گولی داغ دے تو یہ ایک اختیاری عمل ہوتا ہے۔ اگر یہی پستول کسی دوسرے شخص کے ہاتھ میں ہو اور وہ سامنے والے کے جسم میں گولی داغ دے تو پھر یہ قتل کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی شخص پنکھے سے لٹک جائے، یا دریا میں چھلانگ لگا دے تو بھی بظاہر یہ عمل اختیاری اور رضاکارانہ لگتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص کسی کو زبردستی پنکھے سے لٹکا دے یا دریا میں دھکا دے تو ایک بار پھر معاملہ قتل کا بن جاتا ہے۔

جب میں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر دوستوں سے پوچھا کہ لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں تو طرح طرح کے جوابات ملے۔ علاقے کی معروف شاعرہ اور ماہر تعلیم میمونہ عباس خان صاحبہ نے لکھا، خودکشی کرتے نہیں ہیں، کروائی جاتی ہے”۔حسنین اعوان صاحب رقمطراز ہوے کہ “ہر خودکشی کے پیچھے کوئی قاتل ہوتا ہے۔” دیدار علی صاحب نے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوے لکھا، “وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔۔۔ حادثے ایک دم نہیں ہوتے”۔

یقیناً اس منفی اور تخریبی سوچ کی بالیدگی ایک دن میں نہیں ہوتی۔ کوئی ایک واقعہ یا سانحہ فوری محرک ثابت ہوسکتا ہے لیکن عموماً خود کشی کے فیصلے کے پیچھے ایک پیچیدہ اور منفی ذہن سازی کا عمل کارفرما ہوتا ہے۔ یہ عمل کئی سالوں، بلکہ بعض اوقات عشروں پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔

موت اور خودکشی کی باتیں اس لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں ، بشمول گھانچھے، گلگت، ہنزہ اور غذر ، میں بہت سارے افراد نے یا تو خودکشی کی کوشش کی، یا پھر اس کوشش میں کامیاب ہو گئے۔ صحافی دوستوں کی دی ہوئی اطلاعات کے مطابق غذر میں اڑتالیس گھنٹوں کے دوران خودکشی کے چار دلخراش سانحات رونما ہوے ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا دنیا سے منہ موڑ لینا سماجی ابتری کی عکاسی کرتا ہے۔ بغیر تحقیق کے ٹھوس تجزیہ کرنا مشکل کام ہے ،لیکن کچھ اشاریے ایسے نظر آرہے ہیں جن کی بنیاد پر چند نْکات پیش کئے جاسکتے ہیں۔ خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر 20 سے 40 سال کے درمیان ہے۔ کم از کم ایک شخص یونیورسٹی کا طالبعلم تھا، جبکہ ایک نوجوان کسی سکول میں زیرِ تعلیم تھا۔ خود کشی کرنے والے چاروں افراد کا تعلق “صنفِ نازک ” سے نہیں تھا۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورتیں خودکشی کرتی ہیں، لیکن یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ اعداد وشمار کہتے ہیں کہ یہ عفریت بہت سارے مردوں اور لڑکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
اس موضوع پر ہزاروں صفحات سیاہ کئے گئے ہیں۔ مقامی اور علاقائی اخبارات کے علاوہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا بھی ہمارے علاقے میں خودکشی کو موضوع بحث بنا چکی ہے، لیکن اب تک اس تباہ کن عمل کی حوصلہ شکنی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔ بعض اداروں سے میں واقف ہوں جنہوں نے آگاہی پیدا کرنے اور مثبت پیغامات کے ذریعے اس سیلِ توانا کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی، لیکن یہ تمام اقدامات ناکافی ثابت ہو چکے ہیں۔

اس رویے کو روکنے میں ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے تحقیق کا موضوع نہیں بنایا گیا ہے۔ کچھ مقامی محققین نے یقیناً کوششیں کی ہیں لیکن ابھی اور بہت کچھ کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر بہت سارے دوستوں نے اور بہت ساری وجوہات بیان کیں۔ اور ان کی وجوہات اپنی جگہ مستند ہیں۔ بعض نے کہا کہ خودکشی ذہنی دباو کا نتیجہ ہے۔ ذہنی دباو کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں سرفہرست معاشی تنگدستی ہے۔ ناکامی کا خوف بھی بہت ساری خودکشیوں کی وجہ بن جاتا ہے۔ تعلیم، عشق، ذاتی زندگی یا نصب العین کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کردیتے ہیں، کیونکہ انہیں آگے راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ناکامی کے بعد سماج کا سامنا کرنے کی صلاحیت کی کمی بھی اعصاب شکن ثابت ہوسکتی ہے۔

بعض محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ خود کشی کرنے والے زیادہ تر افراد ایسے گھروں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں والدین آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں، ان کے رشتے میں تشدد کا عنصر ہوتا ہے، یا پھر بچوں کو ذہنی یا جسمانی تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے، ان کی تحقیر کی جاتی ہے، انہیں طنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور دوسروں سے اْنہیں کمتر ثابت کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوششیں کی جاتی ہیں۔ یورپی اور امریکی محققین کے مطابق خودکشی کرنے والے بہت سارے افراد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی بہت بڑے سانحے سے گزرے ہوتے ہیں جو ان کی زندگیوں پر گہرے نقوش چھوڑ دیتا ہے۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے افراد میں خود کشی کرنے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ جنسی تشدد کے شکار افراد کو معاشرے میں مذاق بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ان کی عزتِ نفس کو اس حد تک مجروح کیا جاتا ہے کہ اْنہیں اپنی زندگی بیکار لگتی ہے۔ ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ اْنہیں لگتا ہے کہ وہ جو بھی کریں ان کی عزت نہیں ہوگی۔ اس مایوسی کے عالم میں وہ خودکشی جیسا انتہائی قدم اْٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس جناب سرمد سعید خان صاحب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ (فیس بک) پر دوران گفتگو ہماری توجہ ایک اور اہم نکتے کی جانب مبذول کی۔ اْنہوں نے کہا کہ سماجی محرکات کے ساتھ ساتھ خوراک، پانی وغیرہ پر بھی تحقیق ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ کیمیکلز ایسے ہیں جن کی مقدار اگر پانی میں زیادہ ہو تو ذہنی دباو بڑھ جاتا ہے جو خودکشی پر منتج ہوسکتا ہے۔ اْنہوں نے اس ضمن میں بالخصوص گولڈ کلورائیڈ ( جسے آریک کلورائیڈ بھی کہا جاتا ہے) کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ انسانی جسم میں سیرو ٹونن نامی کیمیکل کی کمی کی وجہ سے بھی ذہنی دباو پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ انتہائی اہم تحقیق طلب نکات ہیں۔ خودکشی کے عمل کو سمجھنے کے لئے علاقے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر کے اقدامات اْٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

دوسرا اہم ترین سوال یہ ہے کہ خود کشی کی حوصلہ شکنی کیسے کی جاسکتی ہے؟

بنگلہ دیش وومن یونیورسٹی کی طالبہ انیلہ جان کہتی ہے کہ جذبات کا دانشمندانہ استعمال کرنے والے افراد اپنے آپ کو ذہنی دباو ، مایوسی اور خودکشی سے بچا سکتے ہیں۔ اْن کا ماننا ہے کہ پریشان رہنا بعض لوگوں کی عادت بن جاتی ہے۔ پریشان رہنے کی اس عادت کو ختم کرکے زندگی کے روشن پہلووں کو مدِ نظر رکھتے ہوے زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سارے معاملات میں تھوڑی سی مدد، ہمت افزائی، معاملہ فہمی اور بیدار مغزی سے خودکشی پر مائل افراد کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔ لیکن اس رویے کا اظہار کرنے کے قابل بننے کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو شعور اور بیداری احساس کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر شخص چھوٹی یا بڑی غلطی کرسکتا ہے۔ کبھی کبھار سب سے بہترین لوگ بھی سب سے بد ترین غلطیاں کرسکتے ہیں۔ فراخ دلی سے ایک دوسرے کو معاف کرنے، ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا خیال رکھنے، ناکامیوں کو زندگی اور موت کا مسلہ نہ بنانے، متبادل نصب العین رکھنے، زندگی کی قدر کرنے اور دوسروں کو زندگی کی قدر کرنے کی ترغیب دینے سے ہم اس سماجی برائی کو بہت حد تک روک سکتے ہیں۔نیز، مصیبت میں گھرے لوگوں سے لاتعلق ہوجانے کی بجائے خیال داری اور دردمندی کا احساس پید ا کر کے ہم اپنی ذاتی حیثیت میں پریشانی کے شکار افراد کی مدد کرسکتیہیں۔

اس معاملے میں ریاست، حکومت اور وسائل تک رسائی رکھنے والے سماجی اداروں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوے اس تباہ کن سماجی رویے کی حوصلہ شکنی کے لئے ادارہ جاتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ کسی بچے کی اچھی پرورش میں پورا گاوں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہمارے گاوں (یا سماج) کا کوئی بچہ کسی بھی مجبوری کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرتا ہے تو اس میں بھی کسی نہ کسی حد تک ہم سب کا کردار ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے سماجی رویوں پر نظرِ ثانی کرنے اور اپنے سماجی کردار کی سمت درست کرنے کی سعی کرنی ہوگی۔ آج کسی کے گھر میں کوئی نوجوان مردہ پایا گیا ہے، کل یہ عفریت ہمارے دروازے تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *