گلگت بلتستان، مسئلہ کشمیر اور جماعت اسلامی: ایک تجزیہ

تحریر: امیرجان حقانیؔ
گلگت بلتستان میری دھرتی ہے۔ اسی سے میری پہچان ہے۔یہ خطہ جغرافیائی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دفاعی حیثیت سے اس کی حساسیت کبھی پوشیدہ نہیں رہی ہے۔یہ اتنا حساس علاقہ ہے کہ ایک طرف اس کی سرحدیں دنیا کی مضبوط ترین معاشی و جمہوری ملکوں سے متصل ہے دوسری طرف اس کی کچھ سرحدیں بعض کمزور ترین ملکوں سے بھی جاملتی ہیں۔عالمی تبدیلوں کے ماہرین اور جنگ و جدل کو اپنا موٹو سمجھنے والی عالمی طاقتیں ہمیشہ سے اس علاقے کواپنی چراگاہ بنانے کی در پے رہتی ہیں۔وہ مختلف شکلوں میں ملک و ملت کا شیرازہ بکھیرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔اور اس کے لیے اس خطے میں ملکی اور غیر ملکوں ایجنٹوں کی آبیاری بھی کرتیں رہتیں ہیں۔اس خطے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کے اکثر معاملات کو پاک آرمی کنٹرول کرتی ہے۔اگر آرمی اتنی دخیل نہ ہوتو خدا جانے یہ ملت فروش لوگ اس پیارے سے خطے کو خس و خاشاک بنادیں اور ٹکڑیوں میں بانٹ دیں۔اور سیاحتی حوالے سے بھی گلگت بلتستان دنیا بھر میں اپنا بھرم رکھتا ہے۔ قدرت کے اتنے حسین مناظر یہاں جمع ہیں کہیں اور ممکن ہی نہیں۔متنوع ثقافتیں و زبانیں ہیں۔ اور چاروں موسم پائے جاتے ہیں۔جنگلی حیات اورقدرتی وسائل کے حوالے سے بھی یہ علاقہ مالا مال ہے۔
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت روز اول سے متنازعہ رہی ہے۔مختلف ادوار میں اس کی انتظامی حیثیتیں بدلتی رہی ہیں لیکن آئینی حوالے سے جو قضیہ 1948ء میں تھا وہی اب تک چلا آرہا ہے۔گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے وفاقی اور مقامی سیاسی و مذہبی پارٹیاں اپنے طور پر کوششیں کرتی رہی ہیں۔اگر ان تمام پارٹیوں کی کوششوں کا تجزیہ کیا جائے تو عجیب و غریب صورت حال سامنے آجاتی ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ مذہبی جماعتیں آئینی حقوق کی جومخالفت وحمایت کرتی ہیں وہ صرف اور صرف مذہبی بنیادوں پر کرتی ہیں۔ہر ایک کے پس و پیش منظر کوئی نہ کوئی خفیہ ارادہ اور پلان ہوتا ہے۔ اگر کوئی جماعت موجودہ علاقوں کو آئینی سیٹ اپ دینے کی بات کرتی ہے تو دوسری جماعت اس کی مخالفت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اول تو گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے ۔ اگر پھر بھی آئینی سیٹ اپ دینا ہے تو چترال و کوہستان کو ملاکر آئینی حقوق دیے جائے، اس کے لیے پہلی جماعت تیار نہیں ہوتی۔یہاں کی اکثر وفاقی و مقامی سیاسی جماعتوں کی حالت بھی عجیب ہے۔ مثلا پاکستان پیپلز پارٹی ملک بھر میں ایک مضبوط وفاقی سیاسی پارٹی ہے۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے مرکز میں کوئی متفقہ رائے نہیں پائی جاتی ہے۔ کشمیر کے پیپلز پارٹی کے قائدین تو گلگت بلتستان کی قیادت کے ساتھ گلگت بلتستان کو الگ آئینی سیٹ اپ دینے کے حوالے سے گفتگو تک کرنے کو تیار نہیں۔پیپلزپارٹی کی کشمیری قیادت علی الاعلان ہرفورم میں مخالفت کرتی ہے۔پاکستان کی مرکزی قیادت نے بھی آج تک سنجیدگی سے گلگت بلتستان کی قیادت یا کارکنا ن کی بات نہیں سنی۔یہی حال مسلم لیگ کی ہے۔مسلم لیگ کے ذمہ داروں کے بیانات آئینی حقوق کے حوالے سے متضاد ہوتی ہیں۔ جو روز اخبادرات کا زینت بنتی ہیں۔ان دونوں جماعتوں کی قیادت موسمی کیفیات کو دیکھ کر عوام کو خوش رکھنے کے لیے آئینی حقوق کے حوالے سے متنوع بیانات دیتی رہتی ہیں۔درپردہ کیا ہوتا ہے یا ان کو کیا حکم ملتا ہے مرکز کی طرف سے یااسٹیبلشمنٹ کی طرف سے، وہ کبھی عامۃ الناس کے سامنے نہیں لایا گیا۔باقی گلگت بلتستان کی چھوٹی چھوٹی سیاسی ومذہبی جماعتیں، مذہبی پس منظر اورچھوٹی چھوٹی مفادات کے لیے کبھی ن لیگ کے حامی ہوتی ہیں تو کبھی پیپلز پارٹی کے حامی ہوتی ہیں۔یہ مناظر ہمیشہ سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔تاہم مشاہدے سے ایک چیز محسوس کی جاتی رہی ہے کہ پاکستان کی تمام وفاقی سیاسی پارٹیاں بالخصوص پی پی پی ، ن لیگ، جے یو آئی، جے ائی، پی ٹی آئی وغیرہ گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک صفحے پر ہیں۔یعنی وہ آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے جی بی کے متعلق متفق خیال و فکر کے حامل ہیں۔میں سیاسی بیانات سے ہٹ کر عملی مظاہر کی بات کرتا ہوں۔تاہم سی پیک نے ابھی وفاقی پارٹیوں کو جی بی کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔اب اس کی کٹھاری سے کیا برآمد ہوتا ہے یہ قبل از وقت ہوگا۔اگر سی پیک کی مجبوری کی وجہ سے موجودہ حکومت نے گلگت بلتستان کو آئینی اور متنازعہ علاقوں میں تقسیم کیا گیا تو اس کی کیا صورت ہوگی اور کیا اثرات مرتب ہونگے وہ وقت ہی بتائے گا۔اگر تاتصفیہ کشمیر کی شرط کے ساتھ بھی آئینی سیٹ اپ دیا جاتا ہے تو عالمی رد عمل کیا ہوگا اس کا بیان بھی قبل از وقت ہوگا۔یہ ذہن میں رہے کہ آئینی سیٹ اپ کے لیے قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ بل پاس کرنا ہوگا۔ کیا موجودہ حکومت یا کوئی حکومت ایسا کرسکے گی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔
گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا باقاعدہ حصہ ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے پاکستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا آئینی، جغرافیائی، دفاعی اور تاریخی حصہ قرار دیتا ہے۔ دوسرا طبقہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ نتھی تو سمجھتا ہے لیکن گلگت بلتستان کوریاست کشمیر کا حصہ ہونے سے انکاری ہے۔ ایک طبقہ گلگت بلتستان کو سرے سے ریاست کشمیر کا حصہ ہونے سے انکاری ہے جبکہ کچھ لوگ گلگت بلتستان کو پاکستان اور کشمیر سے بھی الگ ، بلکہ خودمختار قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔تاہم اگر حقیقت کو جاننے کی کوشش کی جائے تو بین الاقوامی قراردادوں، مختلف معاہدوں بالخصوص ریاست پاکستان اور دیگر ریاستوں میں ہونے والے معاہدوں، معاہدہ کراچی ، عدالتی فیصلوں اورجدید و قدیم تاریخ اور رسم و رواج کے مطابق اس رائے کو تقویت ملتی ہے کہ گلگت بلتستان ریاست کشمیر کا حصہ ہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ جس طرح پاکستان کی حکومتیں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے تردد کا شکار رہی ہیں اسی طر گلگت بلتستان کوریاست کشمیر کا حصہ قرار دینے اور نہ دینے کے حوالے سے بھی مبہم پالیسی اپنائی ہوئی ہیں۔آئین پاکستان میں بھی کوئی واضح تصریح موجود نہیں۔
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اورریاست کشمیر کا حصہ ہونے اور نہ ہونے کے حوالے سے پاکستان بھر میں صرف جماعت اسلامی ہے جو ایک واضح اور دو ٹوک موقف رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کی مقامی قیادت، کشمیری قیادت اور ملکی قیادت نے اس حوالے سے کبھی بھی لیت و لعل سے کام نہیں نہیں۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے ہمیشہ اپنا اصولی موقف بلاکم وکاست بیان کیا ہے۔اپنے اصولی موقف کو وقتی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا۔یہ الگ بحث ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام ان کے موقف سے اتفاق کرتی ہے یا نہیں، لیکن یہ امر باعث اطمینان ضرورہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے دستوری موقف سے ہٹ کر کبھی بھی ایک اخباری بیان تک نہیں دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جی بی کی عوام اور سیاسی پارٹیاں جماعت اسلامی کے ساتھ معاملات انجام دینے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونگی۔کیونکہ ان کا موقف کلیر ہے۔جی بی اور پاکستان میں یہ کریڈٹ صرف جماعت اسلامی کو جاتا ہے۔ باقی جماعتوں کے علاقائی قائدین کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں اور مرکزی قیادت کچھ کہہ رہی ہوتی ہے اور کشمیری قیادت کچھ کہتی نظر آتی ہے۔ان میں نظری اختلاف ہونے کے ساتھ بیانات اور اعمال میں کھلا تضادپایا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کی مرکزی قیادت ، جی بی کی قیادت اور کشمیر کی قیادت روز اول سے ہی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے ایک ہی پیج پر جمع ہے۔اور جماعت اسلامی ہی وہ واحد سیاسی پارٹی ہے جس کا مرکزی امیرریاست کشمیر اور جی بی کا ایک ہوتا ہے۔ باقی تمام سیاسی پارٹیوں کے جی بی کے صدرو اور امیر الگ ہوتے ہیں اور کشمیر کے الگ اور ان میں کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں ہوتی۔ گزشہ دنوں جماعت اسلامی گلگت بلتستان وریاست کشمیر کے مرکزی امیر جناب عبدالرشیدترابی صاحب گلگت بلتستان کے دورے پر آئے تھے۔ ان سے میری ایک طویل نشست ہوئی اور گلگت بلتستان کے حوالے سے چند سوالات کیے۔ انہوں نے انتہائی واشگاف الفاظ میں اپنے دستوری موقف کو بلاکم وکاست بیان کردیا۔ انہوں نے اپنے دستوری موقف کو بار بارپریس کانفرنس کرکے بھی بیان کیا۔ ان کی خبریں جی بی کی تمام اخبارات کی زینت بھی بنتی رہی ہیں۔دیگر جماعتوں کا ردعمل بھی آیا۔
عبدالرشید ترابی صاحب جماعت اسلامی ریاست جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے مرکزی امیر ہے۔وہ آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبر و وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ کل جماعتی کشمیر و رابطہ کونسل کے کوارڈینٹر بھی ہیں اور رابطہ عالم اسلامی کے ممبر بھی ہیں۔انہوں نے اپنی جماعت کے جی بی کے مرکزی اراکین کے ساتھ پورے جی بی کے دورے کیے۔ اعلیٰ حکومتی نمائندوں سے ملاقاتیں کی اور مختلف سیمینارز، اداروں میں خطبے بھی دیے اور جی بی کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کی۔ میں نے بھی ان سے خصوصی ٹائم لے کر ایک ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جماعت اسلامی گلگت کے تمام مرکزی قائدین بھی تھے۔مسئلہ کشمیر، اور گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے میں نے چند سوالات کیے جو کافی تلخ بھی تھے۔عبدالرشید ترابی سمیت جماعت اسلامی کے ذمہ داروں نے جو کچھ کہا وہ آپ کی نظر کرنے جارہا ہوں ملاحظہ کیجیے۔
عبدالرشید ترابی نے کہا کہ ’’جماعت اسلامی کا دستوری موقف یہ ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا باقاعدہ حصہ ہے۔حالیہ دنوں میں ہی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے ہماری مشاورت پاکستان کی تمام پارٹیوں سے ہوئی ہے۔ ہم نے دیگر پارٹیوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کے ساتھ طویل نشستیں کی ہیں۔اور سب کو اعتماد میں لیا ہے۔ سابق صدر زداری کے ساتھ بھی جماعت اسلامی کی جی بی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے آفیشنل میٹنگز ہوئی ہیں۔ اس کے منٹس بھی آگئے ہیں۔انہوں نے یقین دلایا ہے کہ جی بی کے حوالے سے ہم ایسی کوئی بات یا ایسا کوئی ایکشن نہیں کریں گے جس سے مسئلہ کشمیر کو زک پہنچے۔ معلوم نہیں گلگت بلتستان کی پی پی کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنی مرکزی قیادت کے فیصلوں کے برخلاف بیانات دیتی رہتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر اور جی بی کا ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہونے میں جماعت اسلامی کے ساتھ کشمیر کی دیگر تمام سیاسی اور قومی و مذہبی جماعتیں بھی ایک صفحے پر ہیں البتہ یہاں گلگت میں ذرا مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ ہم نے فوجی قیادت کے ساتھ دیگر وفاقی سیاسی پارٹیوں کو بھی باور کروایا ہے کہ جی بی کے موجودہ اسٹیٹس کے ساتھ نہ چھیڑا جائے ، بالفرض اگر بامر مجبوری کوئی آئینی نظم دینا بھی ہے تو اس طرح دیا جائے کہ مسئلہ کشمیر اور حریت پر منفی اثرات ثابت نہ ہوں۔کشمیریوں نے نے آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں، حریت تحریکیں عروج پر ہیں۔وادی کا بچہ بچہ نکل کھڑا ہوا ہے‘‘۔میں نے سوال کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ مقبوضہ وادی کے لوگ واقعی آزادی چاہتے ہیں ؟ ترابی صاحب نے قدرے تلخی سے کہا کہ’’ انڈیا کے مقبوضہ کشمیر میں لوگ پاکستان کا پرچم ہاتھوں میں لیے آزادی کی تکبیر بلند کرتے ہیں۔ جانوں پر کھیل جاتے ہیں۔ بھارتی فوجوں کے مظالم پر آواز حق بلند کرتے ہیں۔کشمیری ماوں بہنوں کا خون گرتا ہے آزادی کے لیے، بالآخر ہمیں آزادی نصیب ہوگی‘‘۔عرض کیا کہ انٹرنیشنل میڈیااور بھارت کا میڈیا تو کچھ اور کہا ہے تو انہوں نے کہا کہ’’ انٹرنیشنل میڈیا اور بھارتی میڈیا جھوٹ پر مبنی رپورٹیں شائع کرتا ہے۔ وہ آزادی کی آواز دبانا چاہتے ہیں تاہم خون شہیداں رائیگاں نہیں جائے گا۔پوری وادی کے لوگ ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے۔ وادی کا بچہ بچہ الحاق پاکستان چاہتا ہے‘‘ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالسمیع نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت نے آئینی سیٹ اپ کی آڑ میں گلگت بلتستان کو آئینی اور غیر آئینی میں تقسیم کرنے کی کوشش کی تو ہم مزاحمت کریں گے۔ہم گلگت بلتستان کو تقسیم کرنے نہیں دیں گے۔ اس پر طرہ باندھتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہا کہ’’ ہم گلگت بلتستان اور کشمیر میں آواز بلند کریں گے ، روئیں گے پیٹیں گے اور اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں رٹ دائرکریں گے اور کشمیر اور جی بی کے عدالت عالیہ میں بھی اس اقدام کو چیلنج کریں گے۔ہم نے اپنا موقف ہمیشہ قوم کے سامنے رکھا ہے۔ ہم بار دگر کہتے ہیں کہ جی بی کو آئینی حقوق دینے بھی ہیں تو اس طرح دیے جائے کہ مسئلہ کشمیر متاثر نہ ہو، ویسے بھی حکومت ایسا کوئی اقدام نہیں کرسکتی ، کیونکہ یہ انٹرنیشنل قرارداوں، معاہدوں اور آئین پاکستان اور عدالتی فیصلوں کے متصادم ہے‘‘۔
عبدالرشید ترابی نے یہ بھی کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی شکل میں دینی جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد وجود میں آسکتا ہے اس صورت میں پی ٹی آئی کے ساتھ راستہ الگ کردیا جائے گا۔میں نے آخری سوال یہ داغا کہ جماعت اسلامی کیا ہے؟ سیاسی پارٹی؟مذہبی پارٹی؟ اصلاحی تحریک؟ پریشر گروپ؟علمی تحریک؟ یا پھر کچھ اور؟ عبدالرشید تربیؔ نے ایک ہی جملے میں سمیٹ دیا کہ ’’دراصل جماعت اسلامی ، اسلامی تحریک ہے‘‘اور پروفیسر جلال نے طیش میں آتے ہوئے ایک تقریر دلپذیر جھاڑ دی۔اور کہا کہ جماعت اسلامی سب کچھ ہے۔ مولانا مودودی کے کتابوں اور دستورِ جماعت اسلامی کی روشنی میں کی جانے والی یہ تقریرسنتے ہوئے میں قہقہے لگاتا تو پروفیسر جلال مزید جلال میں آتے اور کہتے کہ آپ ہمیشہ جماعت کا مزاق اڑاتے ہیں۔حالانکہ آپ کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے‘‘ جس پر چند احباب سے سرگوشیوں میں یہ کہتے ہوئے سُنا گیا کہ ’’غیر جماعتی احباب کی موجودگی میں درون خانہ باتیں نہ کی جائیں‘‘۔
بہر صورت گلگت بلتستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی گلگت بلتستان میں بھی زبردست اصلاح اور اندرونی تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔نئے شامل ہونے والے علماء بھی کوئی پلیٹ فارم ڈھونڈرہے ہیں۔اور پرانے قائدین کی پریشانیاں بھی عیاں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی جی بی میں زبردست تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں، نظم کو بہتر بنایا جائے گا اور مزید بہت سے مدارس کے فضلاء جماعت اسلامی جوائن کریں گے۔مزید کیا ہوگا، اس کے لیے ہم سب انتظار کرتے ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *