نامور گدھے

 

 

گدھا ایک مفید جانور ہے مجھے اس کی وفاداری کی بھی داد دینی چاہئے اس کو آپ چاہئیں گھاس نہ بھی ڈالیں   بوجھ اٹھانے کے لئے ہمہ وقتHidayat-Ullah تیار۔ یہی نہیں  صرف اٹھانے کے لئے تیار بلکہ جتنا مرضی اس پہ بوجھ لادو مجال ہے یہ اف کرے ۔اس سے یہ نہ اخذ کرنا کہ میں گدھے کی بدخواہی کرنے لگا ہوں ۔ارے گدھے صاحب کی بُرائی کیسے کی جا سکتی ہے جبکہ اس کا گوشت بھی مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہو،اب  گدھے کا دماغ  انسانوں کے دماغ سے گھل مل رہا ہے۔ اگر ہم انسان گدھے کو اپنا رشتہ دار مانے تو کوئی حرج بھی نہیں   اس لئے کہ  مستنصر حسین تارڈ  صاحب  پہلے ہی انسان اور گدھے کا بھائی ہونے کا انکشاف کر چکے ہیں ۔اج سے بہت پہلے  ایک فلم دیکھی تھی  انسان اور گدھا اس وقت تو اس فلم کی اتنی سمجھ نہیں آئی لیکن اب کچھ کچھ  انسان اور گدھے کا پتہ چل رہا ہے ۔نہ جانے یہ گوشت کا اثر ہے یا گدھے سے محبت کا اظہار کہ اج کا انسان بھی گدھوں کے عادات و اطوار کی طرف مڑ رہا ہے  یا مکمل ہی گدھا بنا ہوا ہے ۔ہو سکتا ہے کہ میری یہ بات آپ کو بُری لگ رہی ہو کہ انسان جو اشرف لمخلوقات کا درجہ رکھتا ہے  ہے گدھے سے تشبیہ دے کر یا انسان کو گدھا کہہ کر میں انسان کی توہین یا عزت گھٹا رہا ہوں میرے ذہن میں ہرگز ہرگز ایسی کسی بات کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔میں تو گدھے کی اہمیت کے پیش نظر ایسی باتیں بتا رہا ہوں  اورہم  اگر گدھوں کے بارے محاوروں کا مطالعہ کریں تو روز مرہ زندگی میں سب سے زیادہ  استعمال ہونے والا محاورہ ابے او گدھے بڑا مشہور ہے۔اس سے آپ کیا اخذ کرتے ہیں ۔ایسا کہہ کر ایک انسان دوسرے کو کیا سمجھا رہا ہوتا ہے وہی بات سمجھنے کی ہے جس کو ہم گدھے نہیں سمجھ پا رہے ہیں ۔اس سے ایک قدم اور آگے جائیں جب آپ گھوڑے کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو ایک دم سے سننا پڑتا ہے  گدھے کہئیں کے  گھوڑے اور گدھے میں فرق نہیں کر سکتے  ہو۔اس جملے کو بھی بُرا نہ سمجھنا یہ تو سمجھانے کے لئے بولا جاتا ہے۔ اتنی معمولی بات بھی سمجھ نہیں پا رہے ہو۔ جو میں کہنا چا رہا ہوں   میرے لئے یہ مناسب تو نہیں کہ آپ لوگوں سے یہ کہہ کر مخاطب ہو جائوں ابے او گدھو یہ تو بڑی بدتمیزی ہوگی لیکن اس کے باوجود آپ اس بات سے انکار کر نہیں سکتے کہ لوگوں کو بطور گدھا ” کام میں لایا جا رہا ہے۔مجال ہے کہ یہ گدھے اف بھی کریں ۔اور گدھوں کی اس وفاداری کا فائدہ کن کو مل رہا ہے اب یہ بھی مجھے بتانا پڑیگا۔حد  ہوگئی یار۔ اسی سبب تویہ لوگ بڑے بڑے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ آپ پھر سوچ رہے ہونگے کہ اتنی ساری باتیں گدھوں سے متعلق لکھنے کی کیا ضرورت تھی  صاف کیوں نہیں بتا رہے ہو کہ گدھوں کو ہم گدھے ہی منتخب کرتے ہیں اور پھران گدھوں سے گدھوں والی سوچ کے تحت گھوڑے کی خصوصیات کی امید رکھتے ہیں ۔بس ہم ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں جہاں گدھے اور گھوڑوں میں تمیز باقی نہیں رہی ہے۔ اور جہاں یہ حالت ہو تو انسانوں اور جانوروں کا فرق مٹ جاتا ہے پھر اسے جس نام سے پکارو اس سے کیا فرق پڑیگا ۔عوام صحیح معنوں میں کب اپنے حکمرانوں کو چنینگے  شائد اسی لئے حبیب جالب نے لکھا تھا  یہ گدھے جن کا نام عوام ہے کبھی حکمران بن پائینگے۔ملکی حوالے سے کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن کاغذی صوبہ گلگت بلتستان   کے حوالے سے ضرور یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کے گدھے ابھی تک سب سے مشہور اور نامور گدھے تصور کئے جا رہے ہیں جن کے اطوار اور عادات ایک دم بھی نہیں بدلے ہیں

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *