کھمبوں پر لٹکتی موت

نور پامیری

مئی کی نو تاریخ کو پینتالیس  سالہ جان ولی کی موت ہوگئی۔ وہ پی ڈبلیو ڈی کا ملازم تھا۔ گزشتہ دنوں ضلع غذر کے علاقے یاسین میں بجلی پرpamiriچلنے والی پن چکی  کی لائن ٹھیک کرتے ہوے  وہ ایک برقی تار سے ٹکرا گیا۔ اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ ابھی کچھ دن پہلے،  یکم مئی کو ، جب پوری دنیا میں یومِ مزدور منایا جارہا تھا، محکمہ برقیات کا ملازم محمد کثیر ضلع گلگت کے نواحی علاقے جالا آباد میں کھمبے پر تاریں ٹھیک کرتے ہوے کرنٹ لگنے سے نیچے جا گرا، اور ابدی نیند سوگیا۔ اپریل کے مہینے میں ضلع استور میں گلام حسین نامی شخص کھمبے پر کام کرتے ہوے کرنٹ لگنے سے جان بحق ہوگیا۔  خپلو (گھانچھے ) میں  20 فروری   2017کو فدا حسین نامی لائن مین جان بحق ہوگیا۔  فروری ہی کے مہینے میں ضلع شگر کا رہائشی  محمد باقر نامی لائن مین کرنٹ لگنے کی وجہ سے جان بحق ہوگیا۔   پچھلے سال نومبر کے مہینے میں محمد علی نامی لائن مین گھانچھے میں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

زیادہ اعداد وشمار میسر نہیں ہیں، لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میرے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والا علی محمد نامی بزرگ، جو ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچا تھا،  ایک دہائی قبل کرنٹ لگنے کی وجہ سے کھمبے سے گرا تھا، اور ان کی موت واقع ہوئی تھی۔   میں ایسے بھی بہت سارے لائن مین جانتاہوں جو کرنٹ لگنے کی وجہ سے معذور ہو گئے ہیں۔ اور ایسے بھی بہت سارے ہیں جو کرنٹ لگنے کے بعد معجزاتی طور پر بچ گئے۔

اتنے سارے افراد کا ، جو اپنے خاندانوں کے کفیل ہیں، چند مہینوں کے دوران، یا پھر گزشتہ سالوں کے دوران، کرنٹ لگنے کی وجہ سے موت واقع ہونا کسی گہری کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ کوئی وجہ ضرور ہے جس باعث تجربہ کار افراد کھمبوں پر لٹکتے لٹکتے موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔

ان اموات کی ایک بڑی وجہ بے احتیاطی یا پھر حد سے زیادہ خود اعتمادی  ہوسکتی ہے ۔ دوسری بڑی وجہ حفاظتی سامان کی عدم دستیابی یا غیر معیاری حفاظتی آلات کی موجودگی  ہوسکتی ہے۔ تیسری بڑی وجہ احتیاطی تدابیر سے واقفیت ہو سکتی ہے۔ چوتھی وجہ مربوط اور منظم انداز میں کام کرنے کا فقدان ہوسکتا ہے۔ پانچویں  وجہ  یہ بھی ہوسکتا  ہے کہ جن افراد کو اس خطرناک کام کے لئےملازم رکھا جاتا ہے ، وہ اس کے اہل ہی نہیں ہیں۔  ان کے علاوہ بھی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں۔

وجوہات جو بھی ہوں، بجلی کے کرنٹ کا شکار ہو کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے ملازمین پر آفت ٹوٹ پڑتی ہے۔ کم تنخواہ پر کام کرنے والے یہ ملازمین کسی نہ کسی طرح اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ جب یہ کفیل ہی چھن جائیں، تو خاندان بے آسرا ہو جاتے ہیں ، اور ان کی مشکلات میں ہزار گُنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اُ س سے بھی اہم نقصان یہ ہوتا کہ وہ شخص  اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

حکومت گلگت بلتستان اور محکمہ برقیات سے گزارش ہے کہ  لائن مین اور دیگر ملازمین کے لئے جاری حفاظتی تدابیر سے متعلق تربیتی پروگرام  رائج کیا جائے، یا اگر یسا کوئی پروگرام ہے تو اس کو مزید موثر بنانے کی کوشش کی جائے، اور ایسے طریقہ کار رائج کئے جائیں کہ انسانی جانوں کی حفاظت یقینی بنے۔

زیادہ تر کیسز میں موت کے بعد ان ملازمین کے خاندانوں کو ہرجانے کے طور پر  پیسے دیے جاتے ہیں (میرا خیال ہے کہ دیے جاتے ہیں) ۔ بہتر یہ ہوگا کہ اس رقم کو معیاری حفاظتی اوزار کی خریداری، ملازمین کی  جدید خطوط پر تربیت ، اور مربوط نظامِ کار تشکیل دینے پر خرچ کیا جائے، تاکہ یہ ملازمین عوام کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو محفوظ بنانے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے کے قابل بن سکیں۔ ویسے بھی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ نظامِ کار پر نظرِ ثانی کرنے اور جدید سائنسی اصولوں کے مطابق ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات اُٹھانے سے اس پریشان کن مسلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *